جرمنی کے دارلحکومت برلن میں یہودی ٹوپی پہنے دو اسرائیلی جوانوں پر حملہ،حملہ کرنے والے عربی بول رہے تھے،میڈیا رپورٹس

یہودی ٹوپی
loading...

حملہ آور یہودی سمجھ کر بْرا بھلا بھی کہتے رہے لیکن ہم یہودی نہیں اسرائیلی عرب ہیں اورٹوپی تحفہ میں ملی تھی،متاثرہ نوجوان

یورپی ملک جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ایسے دو نوجوانوں پر حملہ کیا گیا ہے، جنہوں نے یہودی ٹوپی  پہن رکھی تھی۔ ادھر جرمن وزارت انصاف کے ساتھ ساتھ جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے ترجمان کی جانب سے بھی اس حملے کی مذمت کی گئی ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق دو اسرائیلی نوجوانوں پر حملہ کرنے والے عربی زبان بول رہے تھے جبکہ ایک حملہ آور اپنے بیلٹ سے متاثرہ لڑکے کو مارتا رہا۔

حملہ آور انہیں یہودی سمجھ کر بْرا بھلا بھی کہتے رہے لیکن متاثرہ نوجوانوں میں سے ایک کا کہنا تھا کہ وہ یہودی نہیں بلکہ اسرائیلی عرب ہیں اور یہودی ٹوپی انہیں بطور تحفہ دی گئی تھیں، جو انہوں نے اس وقت پہن رکھی تھیں۔ اس واقعے کے تناظر میں جرمنی کے یہودی فورم نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اب وفاقی دارالحکومت میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔

یاد رہے کہ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں رونما ہوا ہے، جب چانسلر میرکل نے حال ہی میں سامیت دشمنی کے واقعات کی روک تھام کے لیے ایک کمیشنر کا دفتر قائم کیا ہے اور اس منصب کے لیے کمیشنر نے حلف گزشتہ ماہ اٹھایا ہے۔

Comments

comments

مزید پڑھیں۔  جرمن فٹبالرمیسوت اووزل نے مذہب اسلام پرعمل کیا

اپنا تبصرہ بھیجیں