انتہا پسندی کیخلاف صرف فوجی حل پر نہیں بلکہ اس کے خاتمے کیلئے وسیع حکمت عملی کی بھی ضرورت ہے‘ بلاول بھٹو

بلاول بھٹو زرداری

میں اور میرے والد فیصلے نہیں دیتے بلکہ سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی پالیسی بناتی ہے ،اس پالیسی کی تعمیل کرتے ہیں‘بلاول بھٹو

لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ انتہا پسندی کے خلاف صرف فوجی حل پر نہیں بلکہ اس کے خاتمے کے لیے وسیع حکمت عملی کی بھی ضرورت ہے۔

ہمیں مجموعی طور پر ایسی اپروچ کی ضرورت ہے جس میں صرف توجہ دہشتگردی پر نہ ہو بلکہ انتہا پسندی کے خاتمے پر بھی توجہ ہو،ریاست کو چیلنج کرنے والوں اور اس کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے عسکری طور پر نمٹنا چاہیے لیکن دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے بھی وسیع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

میں جانتا ہوں کہ میں اپنی والدہ کے آئیڈیلز پر قائم ہوں اور ان کے لیے لڑوں گا اور ان کے لیے جان بھی دوں گا،مجھے اپنے سیاسی کریئر کے بارے تشویش نہیں کیونکہ مجھے کوئی جلدی اور کوئی پریشانی نہیں، میں 29 برس کا ہوں اور میں اس عمل میں طویل مدت کے لیے ہوں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ انتہا پسندی ختم کرنے کے لیے تعلیم، نصاب، پولیس اور عدلیہ میں اصلاحات کی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ سب کو مساوی معاشی مواقع حاصل ہوں اور یہ ایک جامع پیکج ہے جو پیپلز پارٹی دے سکتی ہے۔

 میرے نانا اور والدہ کو قتل نہ کیا جاتا تو میرے نانا سیاستدان ہوتے اور میری والدہ دفتر خارجہ میں ہوتیں اور میں اب بھی طالب علم ہوتا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان میں دوسری سیاسی جماعتیں جو خاندانی سیاست پر انحصار کرتی ہیں وہ قتل کی تکلیف سے نہیں گزری ہیں لیکن پھر بھی بھائی، بہنیں اور دیگر شو چلا رہے ہیں۔

تاہم پیپلز پارٹی اب ابھی پوری طرح اپنے اسی نصب العین پر قائم ہے اور میں جانتا ہوں کہ میں اپنی والدہ کے آئیڈیلز پر قائم ہوں اور ان کے لیے لڑوں گا اور ان کے لیے جان بھی دوں گا۔

(Visited 24 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں