عید الاضحیٰ قربانی اور پاکستان

loading...

ضرب بابر

ذوالحج اسلامی سال کا آخری مہینہ ہے ۔ اس کو حج کا مہینہ بھی کہا جاتا ہے اور قربانی کا مہینہ بھی ۔

جن لوگوں کے عزیز واقارب حج پر گئے ہوتے ہیں وہ تو فکر و خوشی دونوں کا ہی اظہار کرتے ہیں جبکہ باقی تمام مسلمانون کی توجہ قربانی کی طرف ہوتی ہے ۔ ہمارے ملک کے معاشی حالات اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ اس مرتبہ قربانی کا تناسب پچھلے سال کی نسبت کافی کم ہے ۔ لوگوں کی معاشی حالت و مسئلے مسائل اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ قربانی کر سکیں بلکہ وہ تو خود اس ملک میں رہ کر قربانی کا بکرا بنے ہوئے ہیں امریکہ کی خواہش ہے کہ پاکستانی حکومت و عوام قربانی دے کر دہشتگردوں کا مقابلہ کرے ۔جبکہ ہماری حکومت چاہتی ہے کہ عوام اپنی جیبوں کی قربانی دیں ۔

بجلی ملے یا نہ ملے مگر پورے بل کی قربانی دیں ۔عالمی مارکیٹ میں پیٹرول چاہے سستا ہی کیوں نہ ہو مگر عوام سے مہنگا خریدنے کی قربانی مانگی جاتی ہے ۔ کرپشن کو نظر انداز کرنے کی قربانی مانگی جاتی ہے حکومت خود تو عیش و عشرت کی خواہاں ہے مگر عوام سے سادگی کی قربانی مانگی جاتی ہے ۔ آج اگر ہم ادھر ادھر نظر دوڑائیں تو یہی معلوم ہو گا کہ صرف ذوالحج میں ہی نہیں بلکہ پاکستانی عوام تو سارا سال قربانی دیتی ہے اور قربانی بھی جانوروں کی نہیں بلکہ انسانوں کی دی جاتی ہے ۔ہم ہمیشہ سے ان جنگلی و قبائلی انسانوں کی کہانیاں سنتے آئے ہیں جو اانسانوں کو ذبح کرکے کھا جاتے تھے ۔تاریخ میں انہیںآدم خوروں کے نام سے بھی جانا جاتا ہے پھر ہم نے یہ بھی سنا کہ لوگ جادو ٹونہ کی خاطر بھی انسانی جانوں کی قربانیاں دیتے ہیں ۔

آپ ﷺ کی آمد سے پہلے لوگ عرب میں عورتوں کو زندہ دفن کر دیا کرتے تھے اب آپ اس دور کو اور آج کے دور کو ذہن میں لائیں اور فرق محسوس کرنے کی کوشش کریں کیا ہمارے ملک میں زندہ انسانوں کو غائب نہیں کر دیا جاتا کیا ہمارے ملک میں ایک ہی بم دھماکے میں سینکڑوں لوگوں کو زندہ درگور نہیں کر دیا جاتا ۔ کیا ہمارے ملک کے بچوں کو دوسرے ممالک کی تفریح کیلئے نہیں بیچ دیا جاتا ۔کیا ہمارے ملک کی بیٹیوں کو دوسرے ممالک کے حوالے نہیں کر دیاجاتا ۔کیا ہمارے ملک کے حکمران پیسوں کی خاطر اپنے شہریوں کو دوسرے ملکوں کے حوالے نہیں کرتے ۔ کون سے ایسی قربانی ہے جو ہمارے ملک کی عوام نہیں دیتی رہی ۔ رہی سہی کسر روز روز کے چوری و ڈکیتی کے واردات اور ٹریفک کے حادثات نکال دیتے ہیں اب آپ خود ہی دیکھے کہ کیا فائدہ ہوا ہمارے تعلیم یافتہ ہونے کا ۔ہم تو ابھی تک زمانہ جاہلیت کی روایات کو زندہ رکھے ہوئے ہیں ۔حکومت اور عوام ایکدوسرے کو قصور وار ٹھہرا رہی ہیں اور میں نہ مانوں کی رٹ لگائے ہوئے ہیں ۔

مزید پڑھیں۔  بالی وڈ کنگ شاہ رخ خان کی بیٹی سہانا خان نے شوبز ورلڈ میں باقاعدہ قدم رکھ دیا

ایک وہ وقت تھا جب ہمارے آباؤ اجداد نے ہمارے ملک کیلئے قربانیاں دی تھیں اور ایک آج کا وقت ہے جب ہم سب ملک کو تباہ کرنے کی قربانی دے رہے ہیں ۔ ہمارے اعمال کی وجہ سے ہمارا ملک خود دنیا کیلئے قربانی کا بکرا بنا ہوا ہے ۔ ہمیں اپنے لیے نہیں تو کم از کم اپنے بچوں کیلئے سوچنا چاہیے ہماری آنے والی نسل کیلئے سوچنا چاہیے ۔ صرف ایک دوسرے پر الزام تراشی سے ہم اپنے فرض سے سبکدوش نہیں ہو جاتے ۔ ہمیں عملی اقدامات کرنے ہوں گے ۔ اور آج نفسا نفسی کا یہ عالم ہے کہ طالبان خود کو صحیح کہتے ہیں اور حکومت خوداپنے آپ کو جبکہ عوام کنفیوژن کا شکار ہے ۔کہ کون صحیح اور کون غلط ہے جبکہ دیکھا جائے تو دونوں بھی ایکدوسرے سے کسی صورت کم نہیں ہیں ۔طالبان اسلام کا نام لیکر مسلمانوں کی جانیں اسلام کیلئے قربان کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں ۔ جبکہ حکومت عوام کو عدم تحفظ کا شکار کرکے اور تمام بنیادی سہولیات فراہم نہ کرکے عوام پر حکمرانی کا احسان فرما رہے ہیں یعنی ان کا دعویٰ ہے کہ وہ عوام کیلئے قربانی دے کر ہی حکومت کر رہے ہیں ۔ کسی نے جیل جانے کی قربانی دی ہے تو کسی نے جلاوطنی کی اور آج وہ ان قربانیوں کا صلہ عوام سے مانگ رہے ہیں ۔

ہمارے اباؤ اجداد نے جو قربانیاں دے کر جو پودا ہمارے لیے لگایا تھا آج وہ تناور درخت کی صورت اختیار کر گیا ہے اور پھل بھی دے رہا ہے ۔ مگر ہم بے صبرے اور نہ شکرے لوگ آرام سے پھل کھانے کی بجائے ایک ایک تنے کیلئے لڑائی کر رہے ہیں بلکہ اب تو نوبت اس کی جڑیں کاٹنے تک پہنچ گئی ہے ہر کوئی اس کی جڑوں پر گہرے وار لگا کر اسے زخمی کر رہا ہے ۔ جس جس کا بس چل رہا ہے وہ ملک سے باہر بھاگ رہا ہے باقی لوگ آپس میں ہی لڑ جھگڑکر مر رہے ہیں نہ پیسے کی قدر ہے نہ وقت کی قدر ۔نہ بڑوں کا احترام نہ بزرگوں کا ادب ،نہ جذبہ حب الوطنی نہ حوصلہ قربانی ۔ہم کس روایت کی حفاظت کر رہے ہیں اور کس روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں ۔ ہم قرآن پڑھ کر بھی ترجمہ پر لڑنے لگ جاتے ہیں اور نماز پڑھ کر بھی طریقہ پر لڑ نے لگ جاتے ہیں ۔مسجد بننے پر بھی فرقہ پر لڑنے لگ جاتے ہیں ۔ اور جہاد بھی اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے خلاف کرنے لگ جاتے ہیں ۔ ہم سب ایک خدا کو ماننے والے ہیں مگر اس کے واسطے اکٹھے نہیں ہو سکتے ہم ایک نبی ﷺ کو ماننے والے ہیں مگر اس کے باوجود ہم الگ الگ ہیں ۔ ہمارا ایک قرآن پر اتفاق ہے مگر آپس میں لڑ رہے ہیں ۔ ہمارا دین بھی ایک ہی ہے مگر اس کے باوجود ہم دوسرے مذہب والوں کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ ہماری صلح کروا دے ۔

مزید پڑھیں۔  سابق کپتان قومی کرکٹ ٹیم شاہد آفریدی کی سراوان ہاوس آمد ،سراج رئیسانی شہید کے اہلخانہ سے افسوس کا اظہار

ایک خدا ،ایک رسول ،ایک قرآن ،ایک دین کیا ہمارے اکٹھے ہونے کیلئے یہی کافی نہیں ہے ۔آج ہمیں صرف جانوروں کی قربانی کا ہی نہیں سوچنا چاہیے بلکہ اپنے نفس کی قربانی کا بھی سوچنا چاہیے ۔ ہمیں اپنے مفادات کی قربانی کا بھی سوچنا چاہیے ۔ ہمیں اپنی خواہشات کو اپنے دین اور اپنے ملک کی خاطر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح اپنی سب سے پیاری چیز کی قربانی دینی چاہیے ۔ اس سے پہلے کہ ہم خود کسی کی قربانی بنیں ہمیں خود ہی اپنے بارے میں فیصلہ کر لینا چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سنت ابراہیمی علیہ السلام ادا کرنے اور اس پر پورا اترنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

کالم (میاں بابر صغیر ساہیوال)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں