گزرے کل کو بھول کر آنے والے کل پر نظر !

عمران خان
Loading...

کالم :صدائے سحر

یہ بات خوش آئند ہے کہ جمہوری عمل خوش اسلوبی سے مکمل ہو رہا ہے، البتہ اپوزیشن جماعتوں کے تحفظات دور ہونے چاہئیں۔ مرکز اور پنجاب میں حکمرانوں کو اسمبلیوں میں بھاری بھرکم اپوزیشن سے واسطہ پڑے گا۔ ایوان بالا میں پہلے ہی اپوزیشن کی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کو اکثریت حاصل ہے،تحریک انصاف کا اب اصل امتحان شروع ہوگا۔

اگرچہ حکومت کو تحریک عدم اعتماد کے جھٹکوں سے بھی واسطہ پڑ سکتاہے‘ لیکن قائدحزب اقتدار عمران خان کی مضبوط شخصیت کی موجودگی میں یہ جھٹکے حکومت کو جھنجھوڑ تو سکیں گے‘ لیکن دراڑیں نہیں ڈال سکیں گے اور نہ ہی حکومت کے زمین بوس ہونے کا خدشہ ہے۔ ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے مولانا فضل الرحمن انتخابات پر تحفظات کے معاملے کو سڑکوں کی بجائے پارلیمنٹ کے اندر حل کرلیں تو بہتر ہوگا۔ حکومت اور اپوزیشن جمہوریت کے دو بنیادی ستون ہیں، اگر دونوں نے قومی خدمت کے جذبے کے تحت آئین کے اندر رہ کر کردار ادا کیا اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے پر توجہ مرکوز کی تو زیر تشکیل سیٹ اپ ماضی کی حکومتوں کے مقابلے میں ملک و قوم کیلئے کہیں زیادہ سود مند ہوسکتا ہے۔

حکومت اور اپوزیشن دونوں کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ انہیں 5 سال بعد عوام کا پھر سامنا کرنا ہوگا، 23ء کے انتخابات میں ان کے اعمال اور کارکردگی ہی کام آئے گی،گزرے کل کو فراموش کرکے آنے والے کل پر نظر رکھتے ہوئے ملکی مفاد میں فیصلے کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اپوزیشن پر لازم ہے کہ حکومت کو چلنے دے اورغیر ضروری رکاوٹیں کھڑی نہ کرے، جن پارٹیوں کو عوامی مینڈیٹ ملا ہے‘ اس کا احترام ضروری ہے۔ حکومت کوبھی اپوزیشن کا جائز مقام و مرتبہ دینے میں فیاضی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔

اس میں شک نہیں کہ عمران خان اپنے کولیشن پارٹنرز پرانحصار کرتے ہوئے بمشکل اپنی اکثریت برقرار رکھیں گے، لیکن یہ بھی غلط نہیں کہ دوسری طرف ایسا کوئی متبادل دھڑا موجود نہیں جو ان کی حکومت کی جگہ لے سکے۔ اس وقت تک ان کے سامنے ایسی کوئی اپوزیشن نہیں جو حکومت سازی کا خواب بھی دیکھ سکے۔ اس وقت تمام چھوٹی جماعتیں تحریک انصاف کے ساتھ کھڑی ہیں۔سیاست کا تجربہ رکھنے والے ہواکار خ پہچانتے ہیں، اس وقت قومی سیاست کا موسم عمران خان کے لیے ساز گار ہے ،انہیں کولیشن پارٹنرز کے مطالبات کا غیر ضروری بوجھ نہیں اٹھانا پڑے گا،وہ فیصلہ سازی میں کافی حد تک آزاد ہوں گے۔پیپلز پارٹی پر آصف زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کے خلاف مقدمات کا بوجھ ہے ،بلاول بھٹو انتخابی نتائج کے بعدسے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ وہ پی ٹی آئی حکومت کے کاموں میں روڑے اٹکانے کی کوشش نہیں کریں گے۔پنجاب اور قومی اسمبلی میں کافی بڑی تعداد میں نشستیں لینے کے باوجود مسلم لیگ (ن) کے سامنے بھی ایسی ہی صورت حال ہے ،شہباز شریف کو کئی قسم کی تحقیقات کا سامنا ہے ۔

loading...

اْنھوں نے اپنے پتے واضح طو رپر کھیل دیئے ہیں۔ ایک خائف رہنما کی قیادت میں مسلم لیگ (ن)بہت تبدیل شدہ جماعت دکھائی دے رہی ہے ،میاں شہباز شریف خود اس رویے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، اْنہیں یقین ہے کہ وہ اپنے بھائی کے بیانیے سے دور ہوکر نہایت پرامن رویہ دکھاتے ہوئے اپنا سیاسی بچاؤکرسکتے ہیں۔شہباز شریف مرکز اور اْن کے بیٹے پنجاب میں قائدِ حزبِ اختلاف ہوں گے تو ایوانوں میں کمزور، بے جان اور بے صدا اپوزیشن ہوگی ،لیکن اس کا مقصد یہ نہیں کہ ایوان میں احتجاج نہیں ہو گا ،دکھاؤئے کا شور شرابہ بھی ہوگا ،عوام کی طرف سے مسترد کئے گئے ووٹ کو عزت دو کے نعرے بھی لگیں گے ،نوازشریف کے پوسٹرز کے ساتھ زیاتی کی دھائی بھی ڈالی جائے گی ،مگر جمہوریت کے فروغ کے لئے افہام وتفہم کی بات بھی کئی جاتی رہے گی ،کیونکہ فرینڈلی اپوزیشن کی چھاپ نہیں لگنی چاہئے ،یہ قول فعل کا تزاد آنے والے وقت میں اپوزیشن کے روئیے کی عکاسی کرئے گا،ایسے روئیے میں عمران خان کے لیے ایک بہت بڑی آسانی ہے ،وہ نہایت طمانیت سے اپنے وعدے پورے کرسکتے ہیں اورکوئی بھی ایوان اْن کے سامنے رکاوٹ پیدا نہیں کرے گا۔عمران خان کو منتخب شدہ اداروں کے علاوہ باہر کی طاقتوں کی بھی حمایت حاصل ہے، اْن کی پارٹی کا ووٹ بینک دوگنا ہوچکا ہے۔

عوام بھی گزشتہ ماردھاڑسے تنگ آچکے ہیں،اب لوگ چاہتے ہیں کہ حکومت کو آرام سے کام کرنے دیا جائے۔ عالمی برادری،خاص طور پر سرمایہ کار اور وہ جن کے پاکستان میں اونچے اسٹیک ہیں، پاکستان میں ایک مستحکم حکومت چاہتے ہیں۔ ایسی حکومت جو مشکل فیصلے کرسکے ،چونکہ عمران خان پہلی مرتبہ حکومت سنبھالنے جارہے ہیں، چنانچہ اْن کے دامن پر ماضی کے کوئی داغ نہیں،اُن کے پاس نادر موقع ہے کہ وہ دنیا کے بہت سے دارالحکومتوں میں پاکستان کو قدم رکھنے کے قابل بنا سکتے ہیں۔

اگرچہ مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور دوسری اپوزیشن جماعتیں ایوان کے اجلاسوں کے دوران بڑے پن کا ثبوت دے رہی ہیں،دوسری پارٹیوں کے رہنماؤں نے بھی جمہوریت کی کامیابی کے لئے اسی قسم کے جذبات کا اظہار کیا ہے جو ملک کے مستقبل کے لئے نیک شگون ہے۔ عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی جانب سے اپوزیشن سے مل کر چلنے اور باہمی تعاون سے آگے بڑھنے کی خواہش کے اظہار کے باوجود ماضی کے روئیے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ پی ٹی آئی مسلم لیگ ن کی حکومت گرانے اور اس کے کام میں رکاوٹیں ڈالنے کے لئے جو کچھ کرتی رہی ہے، اس کے بعد اسے اپوزیشن اتحاد یا کم از کم سابق حکمران جماعت سے کسی خیر کی توقع نہیں رکھنی چاہیئے ،مگر یہ ملک قوم اور جمہوریت کے مفاد میں ہو گا کہ گزرے ہوئے کل کو فراموش کر کے آنے والے کل پر نظر رکھی جائے۔

نئی حکومت کے اچھے کاموں کی حمایت کی جائے اور جہاں کوئی غلطی نظر آئے اصلاح کی غرض سے اس کی نشاندہی کی جائے ،حکومت اور اپوزیشن ایک ہی گاڑی کے دو پہیے ہیں، وہ مل کر چلیں گے تو ملک اور اس کا نظام چلے گا۔ سیاست کوئی جامد چیز نہیں، وقت کے ساتھ قومی مفاد میں اس کی ترجیحات بدلتی بھی رہتی ہیں۔ ملک اس وقت کئی بحرانوں میں گھرا ہوا ہے، توقع ہے کہ سیاست دان حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، مفاہمت اور مصالحت کے ذریعے اتفاق رائے پیدا کرکے ان بحرانوں پر قابو پانے کے لئے اپنا مدبرانہ کردار ادا کریں گے۔

تحریر :شاہد ندیم احمد

(Visited 28 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں