پی ٹی آئی کا منی بجٹ، پہلی کڑوی گولی

منی بجٹ

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے منی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے جس کے تحت 700 ارب روپے سے زائد کی مالی ایڈجسٹمنٹ کی گئی ہے۔ ترقیاتی بجٹ میں 305 ارب روپے کی کٹوتی، 183 ارب روپے کے نئے ریونیو اقدامات اور دیگر مدات میں بچتوں سے پوری کی جائے گی۔

پرفیومسمارٹموبائل فون سگریٹ سمیت 5900 اشیا مہنگی ہو جائیں گی۔ نان فائلرز کیلئے گاڑی اور جائیداد خریدنے پر پابندی ختم کر دی گئی ہے اور بینک ٹرانزیکشن پر ود ہولڈنگ ٹیکس کا ریٹ نان فائلرز کے لئے 0.4 فیصد سے بڑھا کر 0.6 فیصد کر دیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ اسد عمر نے قومی اسمبلی میں سابقہ حکومت کے پیش کردہ بجٹ میں ترمیمی بل پیش کیا ۔ تحریک انصاف کی حکومت نے پیش کی گئی بجٹ تجاویز کو عوام دوست قرار دیا گیا ہے کیوں کہ ان میں زرعی شعبہ کے علاوہ انصاف صحت کارڈ کی صورت میں مفت طبی سہولتیں فراہم کرنے اور آٹھ ہزار کے لگ بھگ گھر تعمیر کرنے کے لئے وسائل مختص کئے گئے ہیں۔ گو کہ وزیر خزانہ نے قومی اسمبلی میں کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے پیکج لیا جاسکتا ہے لیکن اس پیکج سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ پہلے ہمیں خود اپنے مالی معاملات کو درست کرنے کی کوشش کرنے چاہئے ۔

اسی لئے 5000 سے زیادہ مصنوعات پر کسٹم ڈیوٹی بڑھانے، ایک خاص آمدنی سے زائد پر ٹیکس میں اضافہ اور دیگر محصولات میں اضافہ کے ذریعے آمدنی میں پونے دو سو ارب اضافہ کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ آمدنی میں اضافہ اور اخرجات میں کمی کے اقدامات ان شرائط سے ملتے جلتے ہیں جو عام طور سے آئی ایم ایف یا دیگر مالیاتی ادارے قرض دیتے ہوئے عائد کرتے ہیں۔ گزشتہ روز ملک میں گیس کی قیمتوں میں اضافہ اسی سلسہ کا اقدام تھا۔ اب بجٹ تقریر میں بھی یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ نئی حکومت اخراجات کو کم کرنے میں سنجیدہ ہے۔

اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ حکومت کسی نہ کسی سطح پر آئی ایم ایف سے رابطہ میں ہو اور بجٹ ترامیم کا تعلق کسی حد تک ان اشاروں سے بھی ہو جو نئے امدادی پیکیج کی صورت میں اقتصادی شرائط کے طور پر آئی ایم ایف عائد کرنے کے لئے کہہ سکتا ہے۔ اس طرح حکومت کے یہ اقدامات دراصل آئی ایم ایف کو دی جانے والی متوقع درخواست کا پیش لفظ ہوں۔ ماہرین یہ اشارے دے چکے ہیں کہ ملکی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اور قرضوں کے بھاری بھر کم بوجھ کی اقساط ادا کرنے کے لئے پاکستان کو آئی ایم ایف سے بارہ ارب ڈالر کی مدد مانگنی پڑے گی۔

loading...

البتہ ملک کی نئی حکومت نے ابھی تک اس بارے میں کوئی واضح اشارہ نہیں دیا ہے ۔ تحریک انصاف کی کوشش اور خواہش ہے کہ سعودی عرب اور چین کی طرف سے مالی معاونت حاصل کرلی جائے تاکہ آئی ایم ایف سے کم سے کم قرض مانگنے کی ضرورت پڑے۔ اسد عمر کی پیش کردہ بجٹ تجاویز یوں بھی معاشی سے زیادہ سیاسی نوعیت کی ہیں۔ حکومت ان شعبوں پر وسائل صرف کرنا چاہتی ہے جن میں بہتری کا کریڈٹ تحریک انصاف سیاسی طور پر لینے کی کوشش کرے گی۔اس حوالے سے بعض سیاسی پیچدگیاں اور سوال ضرور پیدا ہوں گے۔

صحت صوبائی معاملہ ہے ۔ اگر وفاقی حکومت اسی قسم کے منصوبوں کے لئے صوبوں کو بھی وسائل فراہم نہیں کرسکتی تو ملک کے عوام کے ساتھ امتیازی سلوک کا الزام سامنے آنا لازمی ہے ۔ بجٹ ترامیم میں البتہ ایسا کوئی اشارہ موجود نہیں ہے کہ صوبائی حکومتوں کو اضافی فنڈ دئیے جائیں گے۔ حکومت بجٹ ترامیم کو عوام دوست بتانے اور غریبوں کو سہولتیں فراہم کرنے کا دعوی کررہی ہے۔بجٹ تجاویز سے اس طبقہ کو اس قسم کا حوصلہ نہیں ملے گا بلکہ اس کے شبہات اور خوف میں اضافہ ہوگا۔

وزیر خزانہ نے آمدنی میں شدید کمی کا ذکر کرنے کے باوجود زرعی شعبہ کے علاوہ برآمد کندگان اور ٹیکسٹائل صنعت کو پچاس ارب روپے کی سبسڈی دینے کا اعلان کیا ہے۔ حالانکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی شرح میں کمی کے سبب برآمد کندگان پہلے ہی فائدے میں رہے ہیں ۔ کمزور پاکستانی روپیہ اس طبقہ کی آمدنی میں اچانک اور بے شمار اضافہ کا سبب بنا ہے لیکن کمزور روپے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے برآمدات میں اضافہ کے اعداد و شمار سامنے نہیں آئے۔

اب اس شعبہ کو مالی معاونت کی سہولت دینے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ ٹیکسٹائل کا شعبہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی وجہ سے ہر حکومت کی توجہ کا مستحق رہا ہے لیکن اس شعبہ کو چوالیس ارب روپے کی مراعات دے کر غیر معولی اقدام کیا گیا ہے۔ اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ ٹیکسٹائل مل مالکان اس رعایت کو برآمدات بڑھانے یا روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر ہی صرف کریں گے اور اسے اپنی ذاتی دولت میں اضافہ کا ذریعہ نہیں بنائیں گے۔

Spread the love
  • 3
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں