مقبوضہ کشمیر،بھارتی فوجیوں نے ضلع اسلام آباد میں پانچ افراد شہید ، خاتون سمیت درجنوں زخمی کر دیئے

مقبوضہ کشمیر

سرینگر : مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے ظالمانہ کارروائیوں کے دوران آج ضلع اسلام آباد میں پانچ افراد کو شہید جبکہ ایک خاتون سمیت درجنوں افراد زخمی کر دیے۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق فوجیوں نے ضلع اسلام آباد کے علاقے سری گفوارہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران ایک گھر پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جسکے نتیجے میں گھرکا مالک محمد یوسف راتھر اور انکی اہلیہ حفیظہ بیگم شدید زخمی ہو گئی۔محمد یوسف راتھر سب ڈسٹرکٹ ہسپتال بیج بہاڑہ منتقلی کے دوران راستے میں دم توڑ گئے ۔ ان کی اہلیہ کو بعد میں صورہ ہسپتال سرینگر منتقل کیا گیا۔فوجیوں نے آپریشن کے دوران چار نوجوانوں داؤ داحمد صوفی، ماجد منظور ڈار، محمد اشرف ایتو اور عادل رحمان بٹ کو بھی شہید جبکہ ایک رہائشی مکان کو تباہ کر دیا۔

قبل ازیں اسی علاقے میں ایک حملے میں بھارتی پولیس کا ایک اہلکار ہلاک جبکہ دو فوجی زخمی ہو گئے تھے۔دریں اثنا بھارتی فوج کے آپریشن اور شہریوں کے قتل کی خبر پھیلتے ہی سری گفوارہ میں زبردست احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے ۔ بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پیلٹ اور آنسو گیس کے گولوں کا بے دریغ استعمال کیا ۔ فورسز اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں جس دوران درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔ قابض انتظامیہ نے لوگوں کو تازہ ترین صورتحال کے بارے میں ایک دوسرے کو معلومات کی فراہمی سے روکنے کیلئے اسلام آباد، پلوامہ اور سرینگر کے اضلاع میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز معطل کر دیں۔نوجوانوں کے قتل کے خلاف پلوامہ قبضے میں بھی زبردست مظاہرے کیے گئے

مزید پڑھیں۔  نور جہاں نہ ہوتیں تو شاید میری بھی کوئی شناخت نہ ہوتی، گلوکارہ نوراں لعل

بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پیلٹ چلائے اور آنسو گیس کے گولے داغے۔ نوجوانوں کے قتل کیخلاف پلوامہ قصبے میں مکمل ہڑتال بھی کی گئی اور دکانیں ، کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معطل تھی۔نوجوانوں کی شہادت پر سرینگر کے علاقوں حیدر پورہ، مائسمہ، نوا کدل، شالہ ٹینگ، زینہ کوٹ اور نوہٹہ میں نماز جمعہ کے فوراً بعد زبردست مظاہرے کیے گئے ۔ شہید ہونے والے ایک نوجوان داؤد احمد صوفی کا تعلق سرینگر کے علاقے زینہ کوٹ سے تھاجہاں بڑی تعداد میں لوگوں نے شہید کے گھر کے باہر جمع ہو گئے اور آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف فلک شگاف نعرے لگائے۔ آخری اطلاعات تک احتجاجی نوجوانوں اور علاقے میں تعینات بھارتی فورسز کے اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری تھا۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں