حاملہ خواتین کے لیےانڈے کھانا کیوں ضروری ہے؟

انڈے
loading...

ماہرینِ غذائیات کہتے ہیں کہ حاملہ ماؤں کی سرفہرست غذاؤں میں اب بھی انڈہ سرِفہرست ہے جسے کسی طرح بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

انڈے میں آیوڈین، فولاد، وٹامن ڈی، بی 12، فولیٹ اور دیگر اہم غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں جو زچہ اور بچہ دونوں کی غذائی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ مثلاً دورانِ حمل وٹامن بی 12 کی 100 فیصد ضروریات صرف ایک انڈے سے پوری ہوسکتی ہیں۔

برطانوی ماہرین نے حاملہ خواتین اور مرغی کے انڈے کھانے کے 18 مختلف سروے اور تحقیقی رپورٹس کا دوبارہ جائزہ لیا جس کی تفصیل نیٹ ورک ہیلتھ ڈائجسٹ میں شائع ہوئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امید سے ہونے والی خواتین اگر انڈے کا باقاعدہ استعمال کریں تو ماں بننے کا ذہنی دباؤ، کم وزنی بچے کی ولادت اور قبل ازوقت پیدائش جیسے مسائل میں بہت کمی ہوتی ہے۔

انڈے

ماہرین نے کہا ہے کہ انڈہ پروٹین سے بھرپور تو ہوتا ہے۔ اس میں معمولی مقدار میں طویل زنجیری فیٹی ایسڈز پائے جاتے ہیں جو بچے کا وزن بڑھاتے ہیں اور اس کی پیدائش کا دورانیہ درست رکھتے ہیں۔ پھر انڈوں میں موجود فولاد ماں اور بچے میں آئرن کی کمی پورا کرتا ہے جس کی دورانِ حمل اہمیت دوچند ہوجاتی ہے۔

انڈے میں وٹامن بی 12 خون کے خلیات اور اعصابی خلیات کو صحتمند حالت میں رکھتا ہے جس سے خود بچے کی حالت بہتر ہوتی ہے۔ خواتین میں فولیٹ کی نمایاں کمی ہوتی ہے اور انڈہ اس کمی کو پورا کرتا ہے۔

ایک انڈے میں 75 کیلوریز ہوتی ہیں لیکن اس میں سات گرام بہترین معیاری پروٹین، 5 گرام چربی، 1.6 گرام سیرشدہ چکنائی، فولاد، فولیٹ، معدنیات، اور لیوٹین جیسے قیمتی اجزا بھی ہوتے ہیں جو بیماریوں سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں۔  مچھر کچھ لوگوں زیادہ اور کچھ کو کم کاٹتے ہیں، ایسا جسمانی خصوصیات کی وجہ سے ہوتا ہے

واضح رہے دو سال قبل حکومتِ برطانیہ حاملہ خواتین کے لیے انڈے کو ترجیحی غذا کی فہرست سے نکال چکی ہے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں