خون کے ٹیسٹ سے 8 قسم کے کینسر کی تشخیص، ‘اہم ایجاد’

کینسر کی تشخیص اور علاج
loading...

کینسر ایک موزی بیماری جس کے علاج کے لیے دنیا بھر میں سائنسدان مسلسل تحقیق کر رہے ہیں۔ کینسر کا  نا صرف علاج مشکل اور مہنگا ہے بلکہ کینسر کی تشخیص ہی اس قدر مہنگی اور پچیدہ ہوتی ہے کہ یہ ایک عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔ اور اوپر سے پاکستان جیسے ملک میں کینسر کی تشخیص اور علاج کے کی خاطر خواہ صحولیات موجود نہیں ہیں۔ جس سے ایک غریب آدمی کو کینسر سے چٹکھارا موت آنے پر ہی ملتا ہے۔لیکن اب ایک اچھی خبر آئی ہے کہ سائنسدانوں نے ایک ایسا طریقہ ایجاد کیا ہے جس میں خون کے ایک  ٹیسٹ  سے 8 قسم کے کینسر کی تشخیص کی جا سکے گی۔

خون کے اس نئے ٹیسٹ کو کینسر سیک کا نام دیا گیا ہے، ،اب کینسر سیک ٹیسٹ کے لیے خون کے ایک نمونے سے کئی اہم اقسام کے کینسر کی شناخت کی جاسکتی ہے ۔ اس ٹیسٹ کو liquid biopsy  بھی کہا جا سکتا ہے۔ اور یہ ٹیسٹ کینسر کی تشخیص کے دوسرے مروجہ طریقوں سے اس طرح سے مختلف ہے کہ اس میں صرف خون نکال کر ٹیسٹ کیا جا سکے گا۔ جبکہ دوسرے طریقوں میں سرطان کی رسولی کا نمونہ لیا جاتا ہے، جو ایک تکلیف دہ اور مہنگا طریقہ ہے۔

اس ٹیسٹ کو تجرباتی طور پر ایک ہزار سے زائد افراد پر آزمایا گیا جس سے اس کی افادیت اور حساسیت دونوں ثابت ہوگئی۔ جان ہاپکنز یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن ، بالٹی مور کے ماہرین نے اس کے اولین نتائج بین الاقوامی شہرت یافتہ جریدے ’سائنس‘ میں شائع کرائے ہیں۔

مزید پڑھیں۔  "او" بلڈ گروپ کے حامل افراد کے لیے گندم کھانے کے نقصانات

کینسر سے نجات میں اس کی بروقت شناخت سے زیادہ کوئی اور شے اہم نہیں کیونکہ پہلے اور دوسرے درجے کے کینسر کا علاج کیا جاسکتا ہے، اسی لیے کینسر کی شناخت کے نئے طریقے بہت اہمیت رکھتےہیں، جب کوئی کینسر کی رسولی بنتی ہے تو خون میں تبدیل شدہ ڈی این اے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے شامل ہوجاتے ہیں جنہیں ہم اس کینسر کی نشانی کہتے ہیں۔

نیا بلڈ ٹیسٹ 16 جینیاتی تبدیلیوں اور آٹھ پروٹین کے مارکر بھانپ سکتا ہے جو اپنے اپنے کینسر کو ظاہر کرتے ہیں، ان میں پھیپھڑوں، چھاتی، بڑی آنت، جگر، معدے، لبلبے اور ایسوفیگل کینسر شامل ہیں۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے ماہر ڈاکٹرکرسچیان ٹوماسیٹی کہتے ہیں کہ یہ ٹیسٹ بہت سی جینیاتی تبدیلیوں اور پروٹین کو ایک ساتھ دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے کہ کون سا کینسر لاحق ہوا ہے، اس کے بعد انہیں 1005 افراد پرآزمایا گیا جنہیں ان آٹھ میں سے ایک سرطان لاحق تھا۔

اس ٹیسٹ میں کینسر شناخت کرنے کی شرح 70 فیصد تھی، بریسٹ کینسر میں اس کی حساسیت 33 فیصد اور بیضہ دانی کے کینسر کی شرح 98 فیصد تھی جب کہ بقیہ پانچ کینسروں کے بارے میں اس کی حساسیت 69 سے 98 فیصد تھی، اگلے مرحلے میں اسے مکمل صحتمند افراد پر آزمایا گیا۔ 812 ایسے افراد لیے گئے جنہیں کسی طرح کا کوئی سرطان نہ تھا اور ان میں سے صرف 7 افراد کو اس نے مریض بتایا جسے فالس پوزیٹو تشخیص کہتے ہیں۔ اس ٹیسٹ نے ٹیومر کی شناخت بھی 83 فیصد درستگی سے کی جو ایک بہت اہم بات ہے۔

مزید پڑھیں۔  کینسر لاعلاج مرض نہیں، اس کا میڈیسن میں 100 فیصد علاج موجود ہے

سائنسدانوں کے مطابق یہ ایک اہم سنگ میل ہے۔ جو مستقبل میں کینسر جیسے مرض کی بروقت تشخیص اور علاج میں اہم کردار ادا کرے گا۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں