کینسر لاعلاج مرض نہیں، اس کا میڈیسن میں 100 فیصد علاج موجود ہے

کینسر

کینسر لاعلاج مرض نہیں، اس کا ٹریڈیشنل میڈیسن میں علاج موجود ہے

اس میں کیمو تھراپی، ریڈیو تھراپی اور سرجری کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ ان خیالات کا اظہارپاکستان اورینٹل سوسائٹی آف ہیلتھ کیئرپروفیشنلز کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد احمد بھٹی، ڈاکٹر افسر امام، ڈاکٹر عبدالوحید قریشی، ڈاکٹر طاہر نظامی، ڈاکٹر طارق شاکر، ڈاکٹر اولاد حسین نقوی، حکیم حافظ عبیدالرحمن، حکیم حبیب الرحمن لاہوری، حکیم سید عمران فیاض، حکیم محمد افضل میو، ڈاکٹر رمضان ہاشمی، ڈاکٹر ایم ایس بابر، مسز حمیرہ امیر کیا۔جبکہ مہمانان میں حکیم نذیر احمد قصوری، حکیم اسماعیل قصوری، حکیم افتخار مبین عرشی، حکیم شبیر احمد مغل، حکیم بابر حسین ندیم، ڈاکٹر سجاد حسین، ڈاکٹر عاشر مشتاق اور ڈاکٹر مصعب بھٹی شامل تھے۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کینسر کے مریض کو صا ف ستھرا ماحول ، تازہ خوراک، کھلی آب و ہوا کے ساتھ ساتھ محبت والا ماحول بھی میسر ہونا چاہیے۔ تاکہ وہ صحت اور تندرستی کی طرف جانے لگے۔ انہوں نے کہا کہ کینسر کے مریض کو ہمیشہ اس بات کا احساس کروانا چاہیے کہ اس کے اردگرد موجود لوگ اس کے اپنے ہیں اور اس کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اسے تیزی کے ساتھ صحت یابی کی طر ف لے جائے گا۔ کینسر کے مریض کو ہلکی پھلکی، زود ہضم غذا اور کھلی آب و ہوا کی ضرورت ہے۔کینسر کے مریض کو جنک فوڈز، فاسٹ فوڈزاور کولا مشروبات سے مکمل طور پر پرہیز کرنا چاہیے اور اپنی خوراک میں سبز پتوں والی سبزیاں، فروٹس اور باریک دالیں شامل کرنی چاہیں۔ پروگرام میں حکیم محمد ایوب میو، حکیم اصغر ساقی، حکیم لیاقت علی سمیت ڈاکٹرز اور حکماء کی کثیر تعدادنے شرکت کی۔

مزید پڑھیں۔  کیروفوبیا (Cherophobia) خوشی سے خوف کا مرض

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں