وائی فائی سے خفیہ خانوں میں چھپا اسلحہ اور بم پکڑنا آسان

وائی فائی

اوٹاوا: سائنس دانوں کا دعوی ہے کہ خفیہ خانوں میں چھپائے گئے آتشیں مواد، اسلحے اور بموں کو وائی فائی سگنلز کے ذریعے بہ آسانی ڈھونڈا جاسکتا ہے اور اس میں لاگت بھی کم آتی ہے۔

کینیڈا کی رٹگرز یونیورسٹی آف نیو برونس وِک کے انجینئروں نے سائبر سیکیورٹی کے موضوع پر منعقدہ، مواصلات اور نیٹ ورک پر ہونے والی کانفرنس ’IEEE 2018‘ میں ایک تحقیق پیش کی جس میں وائی فائی کے ذریعے سفری سوٹ کیس اور ڈبوں میں خفیہ طور پر چھپائے گئے آتشیں مواد کو پکڑنے کا نظام متعارف کروایا گیا تھا۔ اس تحقیق کو عالمی کانفرنس میں ’’بہترین تحقیقی مقالے‘‘ کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔

انجینئروں نے اپنے تحقیقی مقالے میں بتایا کہ خطرناک مواد زیادہ تر دھات اور مائع پر مشتمل ہوتے ہیں اور ایسے مواد کو خاص طور پر تیار کیے گئے کاغذوں اور فائبر کے خانوں میں چھپایا جاتا ہے تاکہ ممنوعہ مواد بہ آسانی منتقل کیا جا سکے۔ وائی فائی کی لہریں ان دھاتوں سے بہ آسانی گزر جاتی ہیں۔ اسی اصول پر کام کرتے ہوئے اس پروجیکٹ کو مکمل کیا۔

loading...

سائنس دانوں نے اس پروجیکٹ کو ’’وائی فائی ویپن ڈٹیکشن سسٹم‘‘ کا نام دیا ہے جسے 15 سے زائد دھاتوں اور مادّوں پر استعمال کیا گیا۔ اس نظام نے بیگز میں چھپے خطرناک مواد کا 99 فیصد درستی کے ساتھ پتا لگایا۔ اس سسٹم کو ہوائی اڈوں کے امیگریشن کاؤنٹرز پر نصب کیا جا سکے گا جس سے کم افرادی قوت اور سی سی ٹی وی کیمروں کے بغیر ہی آتشیں مواد کو پکڑا جا سکے گا۔

مزید پڑھیں۔  کیپٹن صفدر کی گرفتاری میں رکاوٹ ڈالنے والے لیگی رہنماؤں کی ضمانت میں توسیع

تحقیقی مقالے کو پذیرائی ملنے کے بعد رٹگرز یونیورسٹی کے انجینئروں نے وائی فائی کے ذریعے اسلحہ اور آتشیں مواد کھوجنے والے نظام کی استعداد بڑھانے پر کام کام آگے بڑھانا شروع کردیا ہے۔ توقع ہے کہ جلد ہی کچھ مزید جدید اور ضروری ترامیم کے بعد یہ ٹیکنالوجی استفادہ عام کےلیے دستیاب ہو گی۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں