امریکہ کی ایران پر پابندیاں غیر منصفانہ، نقصان دہ ہیں،اقوام متحدہ

اقوام متحدہ

نیویارک:اقوام متحدہ کے ماہرین نے ایران سے جوہری معاہدے سے دست برداری کے بعد امریکہ کی جانب سے دوبارہ پابندیاں عائد کرنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح ’ لاکھوں افراد کو غربت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب ادریس جزائری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ اس جوہری معاہدے سے دست بردار ہوا جس کی توثیق اقوام متحدہ نے بھی کی تھی اور اس کے بعد ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کردیں جو غیرمنصفانہ اور نقصان دہ ہیں۔خیال رہے کہ اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب کی جانب سے یہ بیان رواں ماہ کے آغاز میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران پر معاشی پابندیاں عائد کرنے کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آیا جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں سال مئی میں جوہری معاہدے سے دست برداری کا اعلان کیا تھا۔

ایران پابندیوں کا دوسرا مرحلہ رواں سال نومبر میں متوقع ہے جب متوقع طور پر ایران کی درآمدات پر پابندی عائد کی جائے گی۔ادریس جزائری اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ان احکامات سے پڑنے والے منفی اثرات کے حوالے سے خصوصی مندوب کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بین الاقوامی پابندیوں کے پیچھے قانونی مقصد لازمی طور پر شامل ہونا چاہیے جو عام شہریوں کے حقوق کو نقصان نہ پہنچائے لیکن اس معاملے میں ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔ادریش جزائری نے کہا کہ موجودہ حالات میں نظام عدم استحکام کا شکار ہے کیونکہ ایران کے لیے ممکن نہیں کہ وہ ضروری اشیاء بھی برآمد کرسکے۔

مزید پڑھیں۔  امریکی ریاست ٹیکساس میں طوفان کی تباہ کاریاں!!!!

انھوں نے کہا کہ عالمی میڈیا اس بات پر غور کرنے میں ناکام ہے کہ یہ عدم استحکام ہسپتالوں میں ادویات کی کمی کے باعث کئی اموات کی وجہ بنے گا۔امریکی پابندیوں کو ’ غیر منصفانہ اور نقصان دہ قرار دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ ایران کی معیشت اور کرنسی کو تباہ کرتے ہوئے لاکھوں افراد کو غربت کی جانب دھکیل رہے ہیں اور برآمدی اشیا کو ناقابل استطاعت بنارہے ہیں جس میں بنیادی انسانی ضروریات پر مشتمل اشیا بھی شامل ہیں۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں