درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کیوجہ سے پاکستان میں آئندہ برسوں کے دوران گرمی میں مزیدشدت کی پیشگوئی

درجہ حرارت
loading...

30سالوں کے دوران پاکستان کے درجہ حرارت میں نصف ڈگری اضافہ دیکھا گیا ،گرمی کی لہر کے دنوں میں پانچ گنا اضافہ ہوا

لاہور:ماہرین نے درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کی وجہ سے پاکستان میں آئندہ برسوں کے دوران گرمی میں مزیدشدت کی پیشگوئی کی ہے۔وفاقی وزارت موسمیاتی تبدیلی کی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے باعث گرمی کی لہر یا ہیٹ ویو کے واقعات میں آنے والے سالوں میں مزید شدت اورتیزی آئے گی۔

جس سے صحت ، معاشی اور سماجی شعبوں پر انتہائی مہلک اثرات مرتب ہوں گے۔شدید اور تواتر سے رونما ہونے والے گرمی کی لہر کے زیادہ تر واقعات شہروں اور گنجان آبادی والے علاقوں میں رونما ہوں گے، جن کے باعث معمر ، کمزور، غربت اور بھوک سے متاثرہ لوگوں کے ساتھ ساتھ بچوں میں ممکنہ طور پر اموات میں اضافہ دیکھا جاسکتا ہے۔

عالمی حدت کے باعث رونما ہونے والے ان واقعات کے انسانوں اور ان کی صحت پر ممکنہ طور پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کو بچانے کے لیے ممالک کے مختلف علاقوں میں ہیٹ ویو ارلی وارننگ سسٹم نصب کرنے کے ساتھ ساتھ شجرکاری کو ہر سطح پر فروغ دینا ہوگا۔

وزارت کے ترجمان محمد سلیم کاکہنا ہے کہ گزشتہ30سالوں کے دوران پاکستان کے درجہ حرارت میں نصف ڈگری اضافہ دیکھا گیا ہے جس کے نتیجے میں گرمی کی لہر کے دنوں میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔ تاریخی طور پر گرمی کی لہر کے واقعات مئی اور جون کے مہینوں میں دیکھے جاتے تھے مگر اب ملک میں ہیٹ ویو کے دن مارچ اور اپریل میں بھی رونما ہورہے ہیں۔

مزید پڑھیں۔  پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان دوسرا ٹیسٹ میچ یکم جون سے شروع ہوگا

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں