بھارت کا متکبرانہ رویہ پورے خطے کے لیے تباہ کن

بھارت

بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے پاکستان کو گیدڑ بھبکی دی ہے کہ پاکستانی فوج سے بدلہ لینے کا وقت آگیا۔ پاکستان کو انکی ہی زبان میں جواب دیا جائیگا۔ پاکستان وہی کر رہا ہے جو کرتا آیا ہے مزید اقدامات کیے جائینگے۔ ہم اپنی اگلی کارروائی کی تفصیلات نہیں بتاسکتے۔ پاکستان کو سرپرائز دینگے۔ مذاکرات اور دہشت گردی ساتھ نہیں چل سکتے۔

بھارتی آرمی چیف کی دھمکی کا جواب دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ جنرل بپن راوت کا بیان انتہائی نامناسب ہے۔ پاکستان پر جنگ مسلط کی گئی تو ہم اس کے لیے تیار ہیں۔ پاکستان کو دہشت گردی کا شکار بنایا گی۔ کسی نے صبر کا امتحان لیا تو قوم کو مایوس نہیں کرینگے۔ پاکستان نے کامیابی کے ساتھ دہشت گردی کا مقابلہ کیا۔ ہم نے ملک میں امن و امان قائم کیا۔ ہمیں پتہ ہے امن پسندی کی کیا قیمت ہے ہم کسی بھی فوجی کی بیحرمتی نہیں کر سکتے۔ پاکستان ایٹمی قوت ہے اور جنگ کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ پاکستان امن پسند ملک ہے۔ جنگ اس وقت ہوتی ہے جب کوئی جنگ کے لیے تیار نہ ہو، ہم جنگ کے لیے تیار ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے بھارتی آرمی چیف کی دھمکی پر ردعمل میں کہا کہ پاکستان اور بھارت ایٹمی طاقتیں ہیں جنگ نہیں ہو سکتی۔ بھارتی آرمی چیف کو سمجھنا چاہیئے کہ وہ بی جے پی کے عہدیدار نہیں۔ جنرل بپن راوت سیاسی جماعت کے آلہ کار نہ بنیں۔

شہباز شریف نے بھارتی دھمکیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈین آرمی چیف کو دھمکی دیتے ہوئے جنگ ستمبر کی تاریخ یاد کرلینی چاہیئے تھی۔ بھارت آگ سے نہ کھیلے، جل جائیگا۔ پاکستان ہماری ماں دھرتی ہے، اسکی عزت، وقار، تحفظ، دفاع اور سلامتی کے لیے فوج اور عوام ایک ہیں۔ کوئی غلط فہمی نہ رہے پاک فوج عوام کی مکمل قوت کے ساتھ دفاع وطن کے مقدس فرض کی بجا آوری کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔

سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ جنرل کے کہنے پر جنگیں نہیں ہوتیں، کشمیریوں کا قتل عام دنیا میں بھارت کی شناخت ہے۔ بھارتی جنرل کا بیان شرمناک ہے۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ انڈیا کے مقابلے میں پوری پاکستانی قوم سیسہ پلائی دیوار ہے۔ سابق آرمی چیف جنرل (ر) اسلم بیگ کا بھارتی چیف کے بیان پر ردعمل میں کہنا تھا کہ بھارتی آرمی چیف کو دراصل بدہضمی لاحق ہے بھارت کو معلوم ہونا چاہیئے کہ ہمارے پاس ان کا مؤثر علاج ہے۔ بیان سے لگتا ہے کہ وہ نارمل پوزیشن میں نہیں تھے۔

مزید پڑھیں۔  سول ملٹری یگانگت کا گمشدہ باب

وزیراعظم عمران خان نے حلف برداری کے بعد بھارت کو خطے میں امن کے قیام کے لیے مل کر کردار ادا کرنے کا پیغام بھیجا جس پر بھارت نے مثبت ردعمل کا اظہار کیا۔

وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے خیرسگالی کے جذبات سامنے آئے۔ بعدازاں عمران خان کی تجویز پر بھارت نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزرائے خارجہ کی ملاقات پر آمادگی کا اظہار کیا۔ دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کے خاتمے کی خاطر ایسی تجاویز پیغامات اور جوابی پیغامات کو حوصلہ افزا پیشرفت قرار دیا گیا۔

وزرائے خارجہ کی ملاقات میں انقلابی اقدامات اور ایک ہی نشست میں تنازعات کے طے ہونے کے لائحہ عمل کے ترتیب پانے کی امید نہیں کی جاسکتی۔ یہ ایک رسمی ملاقات ہونی تھی۔ ملاقات طے پا جانے کے بعد بھارت کی طرف سے غیرضروری وضاحت جاری کی گئی کہ یہ ملاقات برائے ملاقات ہوگی۔ یہ مذاکراتی عمل کا آغاز نہیں ہوگا۔

بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ اس دانشمندانہ بیان کے پیچھے بھی خبث کا اظہار ہوتا ہے اور پھر اسکے اگلے روز ملاقات کی منسوخی کا اعلان کردیا گیا۔ اس کا جواز یہ بتایا کیا گیا کہ دو ماہ قبل بھارتی فوجی کو ہلاک کرنے کے بعد اسکی نعش مسخ کردی گئی تھی۔ اب اس کا الزام بھارت کی طرف سے پاک فوج پر لگایا گیا ہے۔ پاک فوج کی طرف سے اس بے ہودہ الزام کی سخت تردید کی گئی ہے۔ بھارت کی بدباطنی کا اظہار اس امر سے بھی ہوتا ہے کہ ایسے بہیمانہ اور انسانیت سوز واقعے کے دو ماہ بعد بھارت کو احتجاج کرنے کی یاد آئی۔ ایسی کارروائی بھارتی فورسز کی بربریت کا نشانہ بننے والے گروپوں کی طرف سے بھی ہو سکتی ہے۔

بھارت کی طرف سے وزرائے خارجہ کی ملاقات کی منسوخی کے اعلان کے ساتھ وزیراعظم عمران خان کے خلاف ہرزہ سرائی کی گئی۔ حکومت پاکستان کو کشمیری مجاہدین کے نام سے جاری کیے گئے ڈاک ٹکٹوں کے اجراء پر بھی بھارت نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

وزرائے خارجہ کی ملاقات کی منسوخی پر وزیراعظم عمران خان نے قوم کی امنگوں کے مطابق بھارت کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کی بحالی کی میری دعوت کے جواب میں بھارت کا منفی اور متکبرانہ رویہ باعث افسوس ہے۔ انہوں نے کہا میں نے پوری زندگی ادنیٰ لوگوں کو بڑے بڑے عہدوں پرقابض ہوتے دیکھا ہے۔ یہ لوگ بصیرت سے عاری اور دوراندیشی سے یکسر محروم ہوتے ہیں۔ بڑے عہدے پر بیٹھے چھوٹے شخص کی سوچ چھوٹی ہی رہتی ہے۔

مزید پڑھیں۔  پی ٹی آئی کا منی بجٹ، پہلی کڑوی گولی

بھارت کی طرف سے وزرائے خارجہ کی ملاقات سے راہ فرار اسکے پاکستان کے خلاف ترش اور سخت بیانات بھارتی آرمی چیف کے آپے سے باہر ہونے کی دھمکیوں کا کوئی معقول جواز نہیں ہے مگر اس کا ایک پس منظر ضرور ہے۔ بھارت میں جب بھی انتخابات ہوتے ہیں بی جے پی اور کانگرس انتہا پسند ہندوؤں کے ووٹ کے حصول کے لیے پاکستان کے خلاف زہر افشانی کو اپنا وطیرہ بنا لیتی ہیں۔

شدت پسند ہندو ذہنیت خود کو پاکستان کا بڑا دشمن ثابت کرنے والی پارٹی کو سپورٹ کرتی ہے۔ آئندہ سال الیکشن ہونے ہیں۔ نریندر مودی نے 2013ء کے انتخابات میں مہنگائی بے روزگاری کے خاتمے جبکہ پٹرول کی قیمتیں کم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ وہ تینوں وعدے اور دعوے پورے کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ وہ ان وعدوں کو دہرا کر ووٹ حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں نے بھارتی فورسز کی ناک میں دم کررکھا ہے۔ مزید براں مودی حکومت پر کرپشن کے ٹھوس شواہد بھی سامنے آچکے ہیں جس نے بی جے پی کی کامیابی کے امکانات کو معدوم کردیا ہے۔ انکے پاس اب پاکستان دشمنی کا روایتی حربہ ہی باقی بچا ہے۔ ایسے میں بھارتی فوج مودی کی آلہ کار بنی نظر آتی ہے۔ اسکی بھی ایک وجہ ہے۔
نوائے وقت کی ایک رپورٹ کے مطابق سابق کانگرس کی حکومت میں رافیل جہاز خریدنے کے لیے ڈاسو ایوی ایشن سے معاہدہ کیا گیا جس میں اس جہاز کی قیمت تقریبا 715 کروڑ روپے مقرر کی گئی تھی۔ مودی نے اپنے دورہ فرانس کے دوران 2015ء میں اس معاہدے کو منسوخ کر کے فرانس کی حکومت سے نیا معاہدہ کیا جس کے تحت بھارت نے 36 طیارے خریدنے تھے۔ تقریبا ایک ماہ پہلے کانگرس کے صدر راہول گاندھی نے اس ڈیل میں مودی پر الزام لگایا کہ انہوں نے انیل امبانی نام کے ایک بڑے بزنس مین کو ان طیاروں کے پارٹس کا ٹھیکہ لے کر دیا ہے۔ اب فی طیارہ 1600 کروڑ میں خریدا جا رہا ہے۔

Spread the love
  • 4
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں