سندھ میں بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جانے کی شرح 50 فیصد سے بھی کم ہے، ماہرین

حفاظتی ٹیکے

کراچی: پاکستان میں مفت حفاظتی ٹیکے ای پی آئی پروگرام کے تحت لگائے جاتے ہیں جو 10 خطرناک بیماریوں کے خلاف ہوتے ہیں اس کے باوجود سندھ میں بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جانے کی شرح 50 فیصد سے بھی کم ہے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کے حکام نے حفاظتی ٹیکہ جات کے عالمی ہفتے کی مناسبت سے منعقدہ پریس بریفنگ سے خطاب کے دوران کیا۔ اس آگاہی مہم کو جی ایس کے پاکستان کا تعاون حاصل تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کم ترین شرح کی وجہ والدین میں آگہی کا فقدان ہے ہم اس شرح کو 90 فیصد تک پہنچا سکتے ہیں اور خطرناک بیماریوں کو ختم کرکے قیمتی زندگیوں کو بچا سکتے ہیں۔ ویکسینز نہ صرف بچوں کو محفوظ رکھتی ہے بلکہ بچوں میں قوت مدافعت بھی پیدا کرتی ہے اور اینٹی بائیوٹکس پر انحصارکم کرتی ہیں۔جنرل سیکریٹری پی پی اے سندھ ڈاکٹر خالد شفیع نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بیماریوں، معذوریوں اور اموات سے بچانے کے لیے حفاظتی ٹیکوں اور ویکسینیشن پروگرام، امیونائزیشن سے فائدہ اٹھائیں، انہوں نے کہا کہ دس خطرناک بیماریوں میں تپ دق، چیچک، پولیو، نمونیا،خسرہ، خناق،تشنج،کالی کھانسی، روبیلا(جرمن خسرہ)،ممپس(گلے کا ایک مرض)، ہیپاٹائٹس بی اور ہیموفیلس انفلوئینزا ٹائپ بی شامل ہیں، انہوں نے کہا کہ ان امراض کو کنٹرول کرنے کا موثر طریقہ ویکسین وٹیکہ جات نہ صرف کامیاب ہیں بلکہ کم لاگت اور زیادہ موثر ہیں۔ بیماریوں سے ان تمام اموات کو حفاظتی ٹیکہ جات اور ویکسینیشن کے ذریعے روکا جاسکتاہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال 20 لاکھ سے 30 لاکھ زندگیوں کو حفاظتی ٹیکوں کے ذریعے بچایا جاتا ہے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کو چاہیے کہ وہ اس پیغام کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں اور پاکستان کو ان خطرناک بیماریوں سے بچائیں۔

مزید پڑھیں۔  آرمی چیف نے 12 دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں