بلدیاتی نظام اور مقامی حکومتیں

مقامی حکومتیں
Loading...

حکومت نے پنجاب میں بلدیاتی نظام کا کے پی ماڈل لانے کا حتمی لائحہ عمل تیار کر لیا جبکہ لاہورکے 9 زونز کے ڈپٹی میئرز نے پرانے بلدیاتی نظام کی جگہ نیا بلدیاتی نظام لانے کی مخالف کر دی ہے۔

بلدیاتی نظام کے اس ماڈل میں یونین کونسل اختیارات کا مرکز ہوگی اور سالانہ ترقیاتی فنڈز میں سے 30 فیصد فنڈز یونین کونسلوں کے لیے مختص کر دیے جائیں گے۔ ضلعی ناظم کے حوالے تمام ڈسٹرکٹ کے محکمے کیے جائیں گے۔ ڈی پی او اور ڈی سی اور ضلعی افسروں کی اے سی آر کی تائید بھی ضلعی ناظم کا اختیار ہوگا۔

اس سلسلے میں مسودہ قانون بھی تیار کر لیا گیا ہے جو منظوری کے لیے اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا تاہم فوری نافذ العمل کرنے کے لیے لوکل گورنمٹ ایکٹ 2018ء لایا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق نیا بلدیاتی نظام ضلعی حکومتوں کا نظام کہلائے گا جو کے سابق صدر پرویز مشرف کے بلدیاتی نظام کی کاپی ہے۔ دریں اثناء صوبائی دارالحکومت کے 9 زونز کے ڈپٹی میئرز نے پرانے بلدیاتی نظام کی جگہ نیا بلدیاتی نظام لانے کی مخالف کر دی ہے اور اعلان کیا ہے کہ حکومت نے غریب لوگوں کے بلدیاتی نظام پر شب خون مارا تو قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا اور اس کے لیے قانونی جنگ لڑی جائے گی۔

لوکل باڈیز سسٹم جمہوریت کی بنیاد ہے۔ اس سسٹم کے ذریعے اقتدار اور اختیارات کو نچلی سطح تک پہنچانا ممکن اور آئینی و قانونی طریقہ ہے۔ بدقسمتی سے بلدیاتی نظام کے ثمرات عوام تک اطمینان بخش طریقے سے نہیں پہنچ سکے۔ اسے آمروں اور جمہوری حکمرانوں نے بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔

جو کام بلدیاتی اداروں کے توسط سے ہونا تھے وہ ایم این ایز اور ایم پی ایز کو سونپ دیے گئے جن کا بنیادی کام قانون سازی ہے۔ فنڈز کی کشش کے باعث قانون سازی ثانوی حیثیت اختیار کر گئی۔

گزشتہ ادوار میں بلدیاتی اداروں کو بری طرح نظر انداز کیا گیا۔ اداروں کی مدت کی تکمیل کے بعد انتخابات کرانے سے گریز کی پالیسی اختیار کی گئی۔ سپریم کورٹ کے زور دینے پر انتخابات کی کارروائی ڈال دی گئی۔ بلدیاتی اداروں کے مالیاتی اور انتظامی اختیارات محدود کر دیے گئے۔

تحریک انصاف کی حکومت بلدیاتی نظام کو بلا تاخیر حتمی شکل دینا چاہتی ہے۔ اس ضمن میں بلدیاتی نمائندوں سے مشاورت کی جائے اور کوشش ہونی چاہیئے کہ مجوزہ تبدیلیاں اس نظام سے وابستگان کی بڑی اکثریت کے لیے قابل قبول ہوں۔ جمہوریت کے حقیقی ثمرات عوام تک اس وقت پہنچتے ہیں جب نچلی سطح پر منتخب اداروں کو زیادہ سے زیادہ مضبوط اور بااختیار بنایا جائے۔

مغربی جمہوریتوں میں یہی اصول اپنایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں لوگوں کوتعلیم اورصحت و صفائی سمیت زندگی کی بنیادی سہولتوں کے لیے پسماندہ اورپاکستان جیسے ترقی پذیر ملکوں کے عوام کی طرح خوار نہیں ہونا پڑتا۔

loading...

قیام پاکستان کے ابتدائی دور میں انگریزوں کا وضع کردہ بلدیاتی نظام اختیار کیا گیا جو نتائج کے اعتبار سے غنیمت تھا مگر جلد ہی یہ جاگیردارانہ سیاست کی نذر ہونے لگا۔ ایوب خان کے دور میں بنیادی جمہوریتوں کے نام سے جو بلدیاتی نظام نافذ کیا گیا اس کا مقصد صرف حکمران وقت کے اقتدار کا تحفظ تھا۔ چنانچہ صدارتی انتخاب میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے مقابلے میں ایوب خان کی کامیابی اسی نظام کا نتیجہ تھی۔ بعد کے ادوار میں یا تو بلدیاتی انتخابات کرائے ہی نہیں گئے یا کرائے گئے تو ان کے نتیجے میں قائم ہونے والے بلدیاتی اداروں کو اتنا بے اختیار بنا دیا گیا کہ عوام کو ان سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ اگر اس پر اس کی حقیقی روح کے مطابق عمل کیا گیا تو اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیئے کہ یہ نچلی سطح پر عوام کو بااختیار بنانے کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوگا۔

لاہور میں صوبائی وزیر بلدیات کی جانب سے نئے بلدیاتی نظام پر بریفنگ کے دوران پرانے نظام کی خامیاں دور کرنے کے لیے وزیراعظم نے نئے نظام کے ضمن میں تین بنیادی اصول متعین کیے ہیں۔

پہلا یہ کہ یہ نظام پیچیدہ نہیں بلکہ سادہ ہو۔ دوسرا یہ کہ بلدیاتی اداروں کے انتخابات براہ راست ہوں۔ اور آخری یہ کہ منتخب نمائندوں کو پوری طرح بااختیار بنایا جائے تاکہ وہ نچلی سطح پر عوام کی حقیقی معنوں میں خدمت کرسکیں۔

وزیراعظم نے پنجاب کے لیے جس نظام کی منظوری دی ہے اس کے تحت ضلع اور تحصیل کی سطح پر میئر کا الیکشن براہ راست ہوگا اور منتخب نمائندوں کی صوابدید پر60 سے 75 ارب روپے تک کے فنڈز مختص کیے جائیں گے۔ ماضی میں بلدیاتی نمائندوں کی بجائے فنڈز اسمبلیوں کے ارکان میں بانٹے جاتے تھے جس سے ان ارکان کی توجہ قانون سازی کی بجائے فنڈز کے حصول پر مرکوز رہتی تھی۔

نئے نظام کا مقصد سٹیٹس کو ختم کرکے ایسا طریق کار رائج کرنا ہے جس کے تحت منتخب نمائندوں کو کسی بھی سطح پر بلیک میل نہیں کیا جاسکے گا اور وہ اپنی تمام تر توجہ عوام کی فلاح و بہبود پر مرکوز کرسکیں گے۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ نئے نظام کی بنیاد جمہوری اقدار پر مبنی ہوگی جس کی رو سے گڈگورننس اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا اس سے نئی لیڈر شپ کو اوپر آنے میں مدد ملے گی۔

تحریک انصاف کی حکومت نے خیبرپختونخواء میں ویلج کونسل کے نظام کا تجربہ کیا تھا جس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس کا مثبت نتیجہ نکلا۔ اسی پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے وزیراعظم چاہتے ہیں کہ خیبرپختونخواء کے تجربے سے فائدہ اٹھایا جائے اور پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں یونین کونسلوں کے سائز کا دوبارہ تعین کیا جائے۔

اس سلسلے میں اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ ان تینوں صوبوں میں ویلج کونسلیں قائم کی جائیں یا موجودہ یونین کونسلوں کے سائز پر نظر ثانی کی جائے کیونکہ خاص طور پر پنجاب میں آبادی کے لحاظ سے ان کا حجم بہت بڑا ہے۔ تاہم فیصلہ جو بھی کیا جائے اس میں آمرانہ ادوار کے بلدیاتی نظاموں کی خامیوں پر بنظر غائرغور کر کے ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کی راہ نکالنا ضروری ہے۔

نئے نظام میں محاسبے پر سب سے زیادہ توجہ ہونی چاہیئے جس کا مطلب سخت گیر آڈٹ اور جواب دہی ہے۔ تحصیل اور ضلع کی سطح پر منصوبہ بندی کے نقائص بھی دور ہونے چاہئیں اور غیر ضروری سیاسی مداخلت کا راستہ بند ہونا چاہیئے۔ صوبائی حکومتیں اگر نچلی سطح کی مقامی حکومتوں کے کام میں مداخلت نہیں کریں گی اور انہیں عوام کی بہتری کے لیے آزادانہ کام کرنے دیں گی تو اس کے ثمرات نچلی سطح تک پہنچنے سے مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور اگر اس کا نتیجہ سیاسی محاذ آرائی کی صورت میں برآمد ہوتا ہے تو سوائے خرابی کے اور کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

(Visited 93 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں