دماغ کو صحتمند رکھنا چاہتے ہیں تو پیروں کو مناسب حرکت دیجئے

روم، اٹلی: اب وقت آگیا ہے کہ اگر آپ اپنے دماغ کو تندرست رکھنا چاہتے ہیں تو اپنے پیروں کو حرکت دیجئے۔ نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پیروں کی ورزش سے نئے دماغی خلیات (نیورونز) بھی بنتے ہیں۔ اس تحقیق سے موٹر نیورون اور دیگر امراض کو جاننے میں مدد ملے گی۔

خلا کی کم وزنی میں خلا نورد بہت دیر تک جسمانی طور پر سرگرم نہیں رہتے جس سے ان کی طبعی حالات میں بہت تبدیلی آتی ہے۔ پٹھے اور عضلات سکڑنے لگتے ہیں۔ تاہم نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پیروں اور ٹانگوں کو حرکت نہ دینے سے پورے جسم کا نیورو مسکیولر نظام بری طرح متاثر ہوتا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ حرکات اور دماغ کا گہرا تعلق ہوتا ہے کیونکہ پورے جسم کی حرکات کے سگنل دماغ کے موٹرنیورون کارٹیکس سے خارج ہوتے ہیں اور یوں ہمارا پٹھا (مسل) سکڑتا یا پھیلتا ہے۔ جب دماغ کا کوئی حصہ متاثر ہوتا ہے تو دماغ لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کی مرمت کرتا ہے اور نئے روابط بناکر اس نقصان کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

loading...

اب نئی تحقیق میں دیکھا گیا ہے کہ اگر ٹانگوں کی حرکات کم ہوجائیں تو اس سے نیورل اسٹیم سیلز متاثر ہوتے ہیں جن سے کئی طرح کے نیورونز اور دماغی خلیات جنم لیتے ہیں۔ اٹلی کی ایک جامعہ یونیورسٹی آف میلانو کی ماہر ڈاکٹر رافیلا ادامی اور ان کے ساتھیوں نے بتایا ہے کہ ٹانگوں کی ورزش دماغ کو تندرست رکھتی ہے۔

اس کے لیے ماہرین نے چوہوں کے اگلے پیروں کو 28 روز تک حرکت دینے سے باز رکھا جبکہ دیگر چوہوں کو گھومنے پھرنے کی آزادی تھی۔ سروے کے بعد دونوں طرح کے چوہوں کے دماغوں کے ایک حصے سب وینٹریکیولر ریجن کا جائزہ لیا گیا جو نیورونز کی صحت کو ظاہر کرتا ہے اور یہاں اسٹیم سیل دیگر دماغی خلیات بناتے ہیں۔

مزید پڑھیں۔  آپ کا دن کیسا گزرے گا؟

معلوم ہوا کہ پیروں کو حرکت نہ دینے والے چوہوں کے نیورل اسٹیم سیل کی سرگرمی 70 فیصد تک کم ہوگئی جبکہ چلنے پھرنے والے چوہوں میں ایسی کوئی تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔ علاوہ ازیں بیٹھے ہوئے چوہوں میں گلائل خلیات اور اولیگوڈینڈروسائٹس بھی کم دیکھے گئے جو دماغی خلیات کو بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اسی بنا پر ماہرین کا خیال ہے کہ عین یہ اثر انسانوں پر بھی ہوسکتا ہے۔ اس لیے سیڑھیاں چڑھیں اور پیروں پر وزن باندھ کر ورزش کرنے سے بھی بہت فائدہ ہوسکتا ہے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں