سیدعلی گیلانی کا منہ توڑ جواب،بھارت اگر سنجیدہ ہے تو جموں وکشمیر کو ایک متنازعہ علاقہ تسلیم کرے

سیدعلی گیلانی

حریت قیادت مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مذاکراتی عمل کے خلاف نہیں‘ماضی میں بات چیت کے 150دور ہوچکے ہیں مگریہ ایک فضول مشق ثابت ہوئی
مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مذاکراتی عمل میں بنیادی حقائق کا اعتراف کئے بغیر شامل ہونا ماضی کی طرح ایک فضول مشق ثابت ہوگی‘کانفرس سے خطاب

سرینگر: مقبوضہ کشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سیدعلی گیلانی نے واضح کیاہے کہ حریت قیادت مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مذاکراتی عمل کے خلاف نہیں ہے اور اگر واقعی بھارت مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے میں سنجیدہ ہے تو اسے پہلے جموں وکشمیر کوایک متنازعہ علاقہ قرار دینا چاہیے۔

کشمیرمیڈیاسروس کی معلومات کے مطابق سیدعلی گیلانی نے سرینگر میں منعقدہ ایک شان نزول کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مذاکراتی عمل میں بنیادی حقائق کا اعتراف کئے بغیر شامل ہونا ماضی کی طرح ایک فضول مشق ثابت ہوگی۔ سیدعلی گیلانی نے بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے حالیہ بیان کہ بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان اور حریت قیادت کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ہم مذاکرات کے خلاف نہیں ہیں تاہم زمینی حقائق کو تسلیم کئے بغیر بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں ۔

loading...

سیدعلی گیلانی کا کہنا ہے کہ2010 کے عوامی انتفادہ کے دوران حریت قیادت نے بھارت کوجموں و کشمیر کو متنازعہ قرار دینے،وہاں سے فوجی انخلاء ،تمام سیاسی نظربندوں کی رہائی اور کالے قوانین کو کالعدم قرار دینے کی تجویز دی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ اب تک ماضی میں مذاکرات کے 150سے زائد دور ہو چکے ہیں مگر کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔ حریت چیئرمین نے حق خودارادیت کی جائز اور مبنی برحق تحریک کی کامیابی کیلئے اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق برقراررکھنے کی اپیل کرتے ہوئے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ پوری ہوشمندی اور بالغ نظری کے ساتھ تحریک آزادی کو آگے بڑھانے کا فریضہ انجام دیں۔انہوں نے نہتے کشمیریوں پر بھارتی فورسز کی طرف سے وحشیانہ ظلم وبربریت کو ایک سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ کشمیریوں کی حق پر مبنی جدوجہد آزادی کو کمزو ر کرنے کیلئے طاقت کا وحشیانہ استعمال کرے ۔

مزید پڑھیں۔  آزاد کشمیر: طوفان ٗآندھی سے 100 گھر، دکانیں تباہ، دو افراد جاں بحق ہوئے ٗ حکام

جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بھارت حریت قیادت اور نہتے کشمیری عوام کو اپنی جدوجہد آزادی جاری رکھنے سے روکنے کیلئے انہیں بدترین ظلم وتشدد کا نشانہ بنارہا ہے۔ اس وقت مقبوضہ علاقے کی صورتحال انتہائی ابتر ہے اور شہداء کے اہلخانہ سے تعزیت اور انکے جنازوں میں شمولیت کی بھی اجاات نہیں ہے۔انہوں نے کشمیری حریت رہنماؤں اور کارکنوں کی مسلسل غیر قانونی نظربندی کی بھی شدید مذمت کی ۔ کانفرنس سے تحریک حریت کے رہنماء محمد اشرف صحرائی اور دیگر حریت رہنماؤں غلام نبی سمجھی، مولانا الطاف حسین ندوی، ایڈوکیٹ زاہد علی، حکیم عبدالرشید، مولوی بشیر احمد عرفانی اور دیگر نے بھی خطاب کیا جبکہ حریت ترجمان غلام احمد گلزار نے نظامت کے فرائض انجام دیے ۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں