عمران خان، اُتاوّلی قوم اور نوبیاہتا جوڑا۔ نوید نسیم

columnist_naveed_nasim-aajkal_google
Loading...

کوئی مانے یا نا مانے، دھاندلی ہوئی، جھرلو پھرا یا پھر آر ٹی ایس میں خلائی مخلوق گھس گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے میدان مار لیا۔

جبکہ نواز لیگ دوسرے نمبر پر رہی جسے 1 کروڑ 29 لاکھ کے قریب ووٹ پڑے۔نواز لیگ کو ملنے والے ووٹوں کا مشاہدہ کیا جائے تو پتہ لگتا ہے کہ پانچ سالوں میں وفاق میں کارکردگی، بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں کمی، شہباز شریف کی پنجاب میں 10 سالہ حکومت اور انتخابات سے پہلے نواز شریف اور مریم نواز کی پاکستان واپسی کی وجہ سے نواز لیگ کو اتنے ووٹ پڑے۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو 1 کروڑ 69 لاکھ ووٹ کس نے دیئے؟

اُن پاکستانیوں نے جو شریف اور بھٹو خاندان سے تنگ آچکے ہیں۔ یا پھر اُن پاکستانیوں نے جو عمران خان کے تبدیلی کے دعوؤں پر یقین کر بیٹھے؟

سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ جن پاکستانیوں نے عمران خان کو ووٹ دیا۔ وہ عمران خان سے چاہتے کیا ہیں؟

عمران خان کے اعلان کردہ 100 دنوں کے ایجنڈے میں بہت سارے دعوے ایسے ہیں۔ جو کسی بھی صورت ممکن نہیں۔ لیکن انتخابات سے پہلےعمران خان کی حکومت کے پہلے 100 دنوں کے دعوے یقینی طور پر ووٹرز کو بیوقوف بنانے کے لئے پیش کئے گئے۔

اُن ووٹرز کو جو آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ اراکین قومی اسمبلی کی ذمہ داری پورے ملک کیلئے قانون سازی کرنا نہیں، بلکہ محلے کی سڑکیں بنوانا اور ووٹرز کو سرکاری نوکریاں دلوانا ہے۔ صوبائی حکومتوں کا کام صوبائی معاملات چلانا نہیں، بلکہ گندے نالوں کی صفائی، سیوریج کے بہاؤ کو یقینی بنانا، کوڑا اٹھانا اور سڑکوں کی صفائی ہے۔

ان معصوم ووٹرز کے لیے حکومت صرف اُس کی ہوتی ہے۔ جو وزیراعظم ہوتا ہے۔ اُن کی بلا سے کہ اٹھاہرویں ترمیم کے بعد وفاق کے پاس کونسے اختیارات رہ گئے ہیں اور صوبوں کے پاس کون سے اختیارات۔

عام آدمی جس نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا ہے۔ اس میں سے اکثریت اُن ووٹرز کی ہے۔ جنھیں 25 جولائی کو اپنے حلقے میں کھڑے ہونے والے تحریک انصاف کے قومی اور صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کے نام تک معلوم نہیں تھے۔ انھیں معلوم تھا تو یہ کہ انھوں نے بس “بلے” کے نشان پر ٹھپہ لگانا ہے۔

عام آدمی کی توقعات:

عمران خان اور تحریک انصاف کو 25 جولائی کے انتخابات میں جتنی بڑی تعداد میں ووٹ ملے ہیں۔ وزیراعظم بننے کے بعد عوام کو عمران خان سے توقعات بھی اتنی ہی بڑی ہیں۔ 71 سالوں سے تنگ آئی اور حالات کی ستائی عوام اب فوری ریلیف کے انتظار میں ہے۔ جو دینے کے وعدے عمران خان نے عوام کے ساتھ کیے ہیں۔

عمران خان کو ووٹ دینے والے پُرامید ہیں کہ عمران خان کی کابینہ ایسے انقلابی فیصلے کرے گی کہ پٹرول کی قیمتیں آدھی ہو جائیں گی اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ نا صرف ختم ہوجائیگی بلکہ بجلی کے نرخوں میں بھی ہوشربا کمی کی جائیگی۔

عمران خان کی طرف سے اعلان کردہ 50 لاکھ گھر چند دنوں میں تعمیر ہوجائیں گے اور 1 کروڑ نوکریوں کے لیے بیروزگار افراد کی کھوج شروع کر دی جائیگی۔

loading...

تحریک انصاف میں شمولیت کرنے والے انتخابی بٹیروں کو بھی ووٹ دینے والے خوش ہیں کہ سرکاری محکموں میں تعینات افسران تمام جائز و ناجائز کام بغیر کسی رشوت اور سفارش کے کر دیا کریں گے۔ پولیس والوں کے پاس اگر کوئی شکایت لے کر جائیگا تو پولیس اہلکار بنا کچھ سوچے سمجھے سائل کی شکایت دور کرنے ساتھ چل پڑیں گے۔

ہسپتالوں میں بیڈ زیادہ ہونگے اور مریض کم۔ جنھیں ہر قسم کی ادویات بنا کسی قیمت کے دستیاب ہونگی اور ہر شعبے کے ماہر ڈاکٹرز پرائیویٹ کلینکس کی بجائے سرکاری ہسپتالوں میں خدمات سرانجام دیں گے۔

خیبرپختونخواء میں ہونے والی ترقی اور اصلاحات دیکھ کر عمران خان کو ووٹ دینے والے امید سے ہیں کہ نجی سکولوں کی فیسیں یا تو سرکاری سکولوں کے برابر کر دی جائیں گی یا پھر سرکاری سکولوں کا معیار نجی سکولوں کے برابر ہوجائیگا۔ جہاں سے لوگ اپنے بچے اٹھوا کر نجی سکولوں میں داخل کروادیں گے۔

نئے پاکستان میں پہلی یوم آزادی اور عیدالضحی منانے کے بعد پاکستانیوں نے دن گننا شروع کردیئے ہیں اور عمران خان اور ان کی حکومت بھی عمران خان کے وزیراعظم ہاؤس میں نا رہنے کے اعلان، پروٹوکول کی گاڑیاں کم کرنے، گورنر ہاؤسز کی دیواریں گرانے، تین مہینوں تک وزیروں اور مشیروں کی بیرونی دوروں پر پابندی اور بیرون ملک علاج پر پابندی جیسے اعلانات کررہی ہے۔

لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ان تمام مبینہ انقلابی اقدامات اور اعلانات سے عام آدمی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ بلکہ عمران خان کے وزیراعظم ہاؤس میں نا رہنے سے ان کی جان کو خطرات بڑھ جائیں گے۔ جس کا نقصان پوری قوم کو ہوسکتا ہے۔

ایک طرف کھائی، دوسری طرف دریا

حکومت بنانے اور کابینہ منتخب کرنے کے بعد اب عمران خان کے لیے دو ہی آپشنز ہیں۔ آیا وہ اُس عوام کو جس نے عمران خان کو منتخب کیا ہے۔ اسے فوری ریلیف دینے کے لیے پٹرولیم مصنوعات سمیت بجلی کی قیمتوں اور ٹیکسز میں کمی کردیں۔ یا پھر ایسے اقدامات کریں۔ جن کا فائدہ ایک عام انسان کو ہو۔ جس کے بعد عوام کو دی گئی فوری ریلیف کا سارا بوجھ حکومت کو اٹھانا پڑے گا۔

دوسری طرف عمران خان فوری ریلیف دینے کی بجائے پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ اور ٹیکسز میں اضافہ کردیں۔ تاکہ معیشت کے حالات بہتر ہوں۔ لیکن اس صورت میں اپوزیشن کے علاوہ عمران خان کو ووٹ دینے والے بھی بلبلا اٹھیں گے اور ویسے بھی عوام فوری تبدیلی کی طلبگار ہے۔ چاہے اس کا ملک کو کتنا ہی نقصان کیوں نا ہو۔

پاکستانیوں کی اکثریت اور 1 کروڑ 69 لاکھ ووٹرز کے گھر والے عمران خان سے فوری تبدیلی کی امید لگائے بیٹھے ہیں اور بد قسمتی سے پاکستانیوں کی اکثریت ویسے ہی اُتاوّلی ہورہی ہے۔ جیسے شادی کے چند دنوں بعد ہی دلہا اور دلہن کے گھر والے نو بیاہتا جوڑے سے خوش خبری سننے کے لیے اتاوّلے ہوئے پھرتے ہیں۔

پاکستان کی اُتاوّلی قوم کو سمجھنا چاہیئے کہ سمجھدار نوبیاہتا جوڑے کی طرح عمران خان کو بھی مستقبل میں ممکنہ چیلنجز کو مدّنظر رکھتے ہوئے خوش خبری (ریلیف) کی منصوبہ بندی کرنی چاہیئے۔

اُس دولہے کی طرح نہیں جو کہ شادی کی خوشی میں  شادی سے پہلے ہی اعلان کردے کہ شادی کے بعد 100 دنوں کے اندر اندر وہ گھر والوں کو خوش خبری سنائے گا۔ وگرنہ ہوگا کیا۔ دولہے کو بھی عمران خان کی طرح بعد ازاں کہنا پڑے گا کہ وہ اُن کا ازدواجی بیان تھا۔ جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

(Visited 19 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں