لاہور سائنس میلہ

خوارزمی سائنس میلہ سوسائٹی ؛ ایک علمی فلاحی ادارہ ہے جو 1997ء سے ملک میں فروغ سائنس کی عملی تحریک بن کر ابھرا ہے ۔اس سوسائٹی کا مقصد عوام اور خواص میں سائنسی شعور اجاگر کرتا ہے علی انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن اساتذہ کی تربیت کا قابل اعتماد ادارہ ہے۔خوازمی سائنس سوسائٹی اور علی انسٹیوٹ آف ایجوکیشن نے مل کر 27اور28کو دوسرے لاہور سائنس میلے کا انعقاد کیا ۔ علی انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن میں منعقد یہ میلہ سائنسی کرشموں کا دوسرا بڑا جشن تھا۔ میلے میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی حیرت انگیز نمائشوں اور تجربوں کے ذریعے طلبہ وطالبات کو سائنس بطور شعبہ اختیار کرنے کی ترغیب دی گئی ، میلے کا افتتاح سید بابر علی نے کیا ، انہوں کہا کہ میری دعا اور خواہش ہے کہ بچے سائنس میں دلچسپی لیں اور یہ کسی کا ورثہ نہیں بلکہ سیکھنے اور پڑھنے سے ہوتا ہے۔ اور ہماری یہی کو شش ہے کہ بچے سائنس اور ٹیکنالوجی میں آگے بڑھیں۔اس کے علاوہ ملک اور دنیا کے دیگر حصوں سے سائنس دان آئے اور میلے میں شرکت کی ۔ ان سائنس دانوں میں شوبا ریاضیات، اصفحان سے شرارہ دستجردی اور بوسٹن یونیورسٹی سے ڈاکٹر محمد حامد زمان شامل تھے

loading...


علی انسٹیٹیوٹ میں قائم ہونے والے اس عارضی عجائب گھر میں تقریباًبستر سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں اور افراد نے شرکت کی۔ ان سائنسی مظاہر کاروں میں پاکستا ن سائنس کلب ، لاہور فلکیاتی سوسائٹی پی سی ایس آئی آر میکستان ،پنجاب ،انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ ، ایجاد ٹیک ، روبوکڈز، علامہ اقبال میڈیکل کالج ، لسڑ، گورنمنٹ کالج ،اور سیکوز یونیورسٹی کے علاوہ ملک بھر کے چیدہ چیدہ سائنسی ادارے شامل تھے ۔اس کے علاوہ ایران سے تعلق رکھنے والے خانہ ریاضیات ، اصفحان نے بھی میلے میں حصہ لیا ، اس سلسلے میں اصفحان سے دو ماہرین ریاضیات لاہور تشریف لائیں۔میلے میں اسلامی طرزتعمیر ، روبوٹکس ، انسانی جسم کی ساخت ، بنیادی طب ، فزکس ، کیمیا ، حیاتیات ، خوردبینی جانور ، فکیا ت ، شمسی توانائی اور دیگر شعبوں پے روشنی ڈالی گئی ۔میلے میں مختلف کا ریگر ار مستریوں نے بچوں کو اپنے تکنیکی مظاہر سکھائے اور لوگ صنعتی دانش میں استعمال میں آنے والی سائنسی ماڈل پیش کیے ۔ ننھے سائنس دانوں نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا ننھے ہذیر اعوان ، معیز مدثر ، ایلسہ کھوکھر اور ایمن راجپوت نے اپنی ایجادات اور سائنسی جانکاری کی پیشکش سے عوام کو حیران کر دیا گیارہ سال کے معیزمدثر نے پھلوں سے دی این اے الگ کر کے نہ صرف عوام کو حیران کر دیا بلکہ یہ مظاہرہ دوسرے بچوں کے لیے بھی حوصلے اور ہمت افزائی کا سبب بنا۔ یہ ایک ایسا جشن تھا جہاں ہر عمر اور طبقے کے لوگ سائنسی سرگرمیوں میں مشغول تھے ۔ میلے میں شرکت کی کوئی فیس نہیں تھی ۔ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان ، سنو ایف ایم 89.4اور ٹیک جوس اس میلے کے تشہیری معاون ہیں

مزید پڑھیں۔  رمضان میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں