انسان جاتا تو ہے مگر واپس نہیں آتا۔۔!

انسان جاتا تو ہے مگر واپس نہیں آتا۔۔!

پاکستان  کے ایسے10 خوفناک مقامات  جہاں جانا انسان کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے

آپ  لوگوں نے بے شمار  خوفناک  واقعات سنے ہوں گے  اور ان  کےمقا مات  کا بھی سنا ہوگا۔ ایسے ہی مقا مات پاکستان  میں بھی موجود ہے جنہیں پاکستان کے خوفناک  مقامات  کہا جاتا ہے ۔

1 ۔ کوہ چلتن:

یہ جھیل کوئٹہ میں موجود ہے، کوہ چلتن  کامطلب ہے “چالیس جسم”۔ اس پہاڑی سلسلے کے بارے میں مشہور ہے کہ کہاں ان چالیس بچوں کی روحیں بھٹکتی ہیں جن کے ماں باپ نے   انہیں وہاں مرنے ے لیے چھوڑ دیا تھا۔

2۔مکلی کا قبرستان :

  صوبہ سندھ کے شہر ٹھٹھہ میں واقع اس قبرستان  نے اپنے اند ر  کی داستانیں چھوپائی  ہوئی ہیں  یہ دنیا کا سب سے بڑا قبرستان ہے جہاں قبریں منظلوں میں بنی ہوئی ہیں۔تیسوی صدی کے اس قبرستان میں 1لاکھ سے زائد قبریں ہیں۔ دفن ہونے والوں میں ہر طبقے کے لوگ شامل ہیں مگر اب اس یہاں کوئی نہیں دفن کیا جاتا ہے۔

3۔ شہرروغان:

 بلوچستان کے اس علاقے کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں جن اور بدروحیں موجود ہیں۔ ایسا کہا جاتا ہے کہ حضرت سلمان کے زمانے میں کہاں ایک بدالاجمال نامی شہزادی رہتی تھی لیکن اس پر جنات کا سایہ تھا، کئی شہزادوں نے  اس شہزادی  کو ان جنات سے  چھوڑ وانے کی کوشش کی  لیکن تمام ناکام رہے۔  ایک دن ایک  شہزادے سیف المعلوک نے  اس سے شہزادی کو نجات دلوائی، مگر اب  مشہور ہے کہ  وا جنات شہر روغان پر راج کرتے ہیں اور وہاں آنے والوں پر حملہ کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں۔  انگلینڈ اورآسٹریلیا کے درمیان پانچ ون ڈے میچ ہفتہ کھیلا جائیگا

4۔  موہٹہ پیلس:  ( کراچی)

موفوق مطرت اشیاء  برطانوی دور سے اس پیلس میں موجود ہیں، یہ پیلس 1927ء میں بنایا گیا تھااور ایسا کہا جاتا ہے کہ یہاں بہت سی عجیب حرکتیں دیکھی جاتی ہیں،  کبھی پیلس کی لائٹس خود باخود جلتی اور بجتی ہیں اور کبھی یہاں سے خوفناک آوازیں سننے کو ملتی ہیں۔

5۔ موہنجو داڑو:

یہ پورانہ شہر بھی اپنے اندر بہت سے راز دبائے ہوئے ہے۔ سائنسی تحقیق کے مطابق یہ شہر نیوکلیئر  دھماکے سے تباہ ہوا تھا۔ سائنس دان اس بات سے حیران ہیں کہ اس علاقے کے لوگوں کو 2000 قبل سال اس  ایٹمی دھماکے کا علم کیسے تھا تاہم ابھی تک اس راز کو معلوم نہیں کیا جاسکا۔

6۔   چو کنڈی قبرستان :

   یہ کراچی سے دور 29 کلومیٹر مشرق میں واقع موجود ہے جس میں بادشاہ اور ملکہ دفن کیے گئےہیں۔ اس قبرستان کے بارے میں مشہور ہے  سورج غروب ہوجانے کے بعد یہاں کی قبریں چلنے لگتی ہیں  ، ہوا بہت گرم ہوجاتی ہے اور لوگوں کا کہنا ہے چیخوں کی آوازیں بھی آتی ہیں۔

7۔ کوہ سلیمان :

    سیلمانی کی سب سے بلند چوٹی  کوہ سلیمان ہےاور یہ حضرت سلیمان کے زمانے سے موجود ہے۔ ابن بطوطہ کے مطابق اس چوٹی پر سب سے پہلے حضرت سلیمان   اس چوٹی پر گئے تھے۔

8۔  کالا باغ:

کالا ڈیم کے بارے میں تو آپ نے سنا ہی ہوگا مگر کیا آپکو معلوم ہے یہاں اب ایک بھڑیا   چلتی پھرتی دیکھی جاتی ہے۔ جن لوگوں نے اس بھڑیا کو دیکھا ہے انکا کہنا ہے کہ یہ چھوٹے قد، پتلے جسم اور لمبے بال رکھتی ہےاور ہر رات وہاں چلتی ہے۔

مزید پڑھیں۔  بھِڑ کے کاٹنے پرگھریلو ٹوٹکا آزمانا استاد کو مہنگا پڑگیا

9۔ جھیل سیف الموک:

ایسا کہا جاتا ہے کہ یہاں ایک ایرانی شہزادہ اور پریوں کی رانی ایک دوسرے کے عشق میں مبتلا ہوگئے تھے مگر وہاں کی  روحوں نے  ان دونوں کو قتل کردیا اور تب سے اب تک ہر رات  وہاں پریاں آکر انہیں یاد کر کے  روتی ہیں۔

10۔ پیر غائب :

    بلوچستان کے علاقے جل ملصی کے قریب لمبی اور تیز   قسم کی  مچھلیاں پائی جاتی ہیں۔ اگر ان کو  کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کرے تو وہ مچھلیاں اسے کاٹ پھینکتی ہیں۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں