حُسینی برہمن کون ہیں ؟

محرم الحرام

(گوہر تاج)

محرم کے مہینے میں مسلمان جہاں اپنی روایتی عزاداری کرتے ہیں۔ وہاں ہندوستان کے ہندو بھی روایتی جوش و خروش سے امام حسین (ع) کی شہادت کا سوگ مناتے ہیں۔ مثلًا آندرا پردیش میں لوگ تِلگو میں غمگین کلام پڑھتے ہیں۔

راجھستان میں ہندو کربلا کی داستان کو تمثیلی انداز میں مجمعے کے سامنے پیش کرتے ہیں اور امامِ حسین (ع) کی شہادت کا منظر پیش کرنے کے بعد ماتمی جلوس نکلتا ہے۔ اور یزید کے ظلم پر برملا اظہارِ غم اور احتجاج کیا جاتا ہے۔

ان سب میں دت اور موہیل فرقے جو پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں ان کا غیر معمولی کردار دیکھنے میں آتا ہے۔ مثلًا ہر عاشورہ کو برہمپور کے بڑی امام بارگاہ سے ننگے پاؤں سوگواروں کا ماتمی جلوس یا حسین کا ورد کرتا ہے۔ ان کے ہاتھوں میں بینرز ہوتے ہیں۔ جو ان کے دلی جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے آباؤ اجداد نے امام حسین (ع) کے لیے کربلا میں قربانی دی اور یہ بھی اس شہادت کے تاریخی واقعے میں سوگوار ہیں۔ یہ عزا دارِ حسین دراصل حسینی برہمن کہلاتے ہیں۔

میرا تعارف حسینی برہمن سے تقریباً تین سال قبل اپنے عزیز دوست ڈاکٹر شیر شاہ سید کے افسانے حسینی برہمن کے توسط سے ہوا جو ان کی کتاب چاک ہوا دل میں چھپا تھا۔ لکھتے ہیں۔

چودھری راہب چند ٹیکسلا، ایبٹ آباد کے علاقے کا سوداگر تھا۔ جس کی تجارت ہندوستان سے عراق اور شاید اور بھی جگہوں تک تھی۔ وہ کربلا کے واقعے کے وقت کربلا میں موجود تھا۔ جانے کیسے وہ امام حسین (ع) کی دوستی میں ان کی جانب سے یزید سے لڑا (صفحہ 171)۔

بعد میں اس موضوع پر کچھ اور مضامین بھی نظر سے گزرے۔ خاصی تفصیل اردو کے مشہور افسانہ نگار اور نقاد انتظار حسین کے ایک مضمون سے بھی ملی جو رسالہ دنیا زاد میں شائع ہوا (مارچ 2008)ء۔ جس کی رو سے حسینی برہمن وہ ہندو تھے جو واقعیِ کربلا کے وقت عرب میں مقیم تھے اور جنہوں نے معرکہِ کربلا میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور یوں حسینی برہمن کہلائے۔ ان کے عقائد ہندؤ اور مسلمان عقائد کا مجموعہ ہیں۔ واقعہِ کربلا کے بعد یہ ہندوستان واپس آئے اور زیادہ تر مغربی پنجاب میں آباد ہیں۔

تاریخ نویس سارکمار مترا نے اپنی کتاب دی وژن آف انڈیا کے صفحہ نمبر 183 پر کچھ یوں لکھا ہے کہ اسلام کے سورج کے طلوع ہونے سے پہلے ہندؤ خاص کر برہمن بھی عرب میں رہتے تھے۔ اس زمانے میں برہمنوں نے اہلِ عرب کو حساب الجبرا اور اعشاریہ وغیرہ سے بہرہ ور کروایا۔

loading...

اسی زمانے میں کہ جب واقعہ کربلا پیش آیا راہب سدھ دت جو دت قبیلے سے تعلق رکھتا تھا وہیں موجود تھا۔ وہ پنجاب سے عرب آیا تھا۔ اور وہاں کا معزز فرد سمجھا جاتا تھا۔ جس وقت آلِ محمد (ص) کے مقابل یزید کی تیس ہزار کی فوج صف آراء تھی تب راہب سدھ دت نے یزیدی فوج کے خلاف امام کے ساتھ لڑنے کو ترجیح دی۔

وہ دس برہمن تھے جو کربلا میں امام حسین (ع) کے لشکر میں شامل تھے۔ ان میں ایک کا نام تھا راہب دت بھی تھا۔ وہ اور اس کے سات بیٹے بہت بہادری سے لڑے۔ ساتوں بیٹے لڑتے ہوئے مارے گئے لیکن وہ بچ گیا۔

کربلا سے کوفہ کی طرف نکل گیا۔ وہاں سے افغانستان آیا، افغانستان سے ہوتا ہوا ہندوستان آیا۔ یہاں پہلے وہ ننکانہ صاحب آکر ٹھہرا۔ کربلا سے نکل کر وہ امام حسین (ع) کے خاندان کے لوگوں سے بھی ملا تھا۔ انہیں بتایا کہ میں اصل میں برہمن ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تم اب حسینی برہمن ہو اور ہم تمہیں یاد رکھیں گے انتظار حسین ( صفحہ 113 )۔

کہا جاتا ہے کہ راہب جب کربلا سے واپس آیا تو اپنے ساتھ امام حسین (ع) کا بال لے آیا تھا جو کشمیر میں حضرت بل کی عبادت گاہ میں محفوظ ہے۔

ضلع سیالکوٹ میں میرن دتن بستی جو دراصل راہب دت کی بسائی ہوئی ہے اس میں یہ ریت تھی کہ نوزائیدہ بچے کا مونڈن امام حسین (ع) کا نام لے کر کیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ حسینی برہمن کے گلے پرایک نشان پڑا ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے بڑوں نے کربلا میں امام حسین (ع) کے نام پر گلا کٹایا۔ انتظار حسین ( صفحہ 112 )۔

انتظار حسین نے یہ معلومات نونیکا دت سے حاصل کیں جو حسینی برہمن ہے اور دلی یونیورسٹی میں تاریخ کی استاد ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ راہب کو امام حسین (ع) نے آلِ محمد (ص) سے اظہارِ عقیدت کے اعتراف میں سلطان یا بادشاہ کا خطاب بھی دیا تھا۔ اسی لیے مشہور ہے:
واہ دت سلطان
ہندؤ کا دھرم
مسلمان کا امام
آدھا ہندؤ، آدھا مسلمان

حُسینی برہمن کی تاریخ کے شواہد کئی کتابوں اور تاریخی دستاویز پر ملتے ہیں۔ مثلًا تاریخی ناول کربلا جو 1924ء میں لکھنؤ سے چھپا اور جسے منشی پریم چند نے لکھا۔ ان جیالے ہندوؤں کا ذکر کیا ہے جنہوں نے معرکہِ کربلا میں اپنی جانوں کی قربانی پیش کی۔

اس کے مطابق یہ افراد اشواء تھاما نسب سے تھے اس سے حسینی برہمن کی تاریخ کی حقانیت کا پتہ چلتا ہے۔ کیونکہ دت بھی اپنا تعلق اشوا تھاما کے قبیلے سے ملاتے ہیں۔ حسینی برہمن کو یہ بھی یقین ہے کہ کرشنا نے کربلا میں امامِ حسین (ع) کی شہادت کا واقعہ گیتا میں لکھا ہے۔ حسینی برہمن کے عقائد کے مطابق جو عقائد کے اعتبار سے برہمن اور اسلام سے ملتے ہیں۔ کربلا کی جنگ حق و باطل کی جنگ تھی جو انسانیت اور ایمان کی بقاء کے لیے لڑی گئی تھی۔

(Visited 79 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں