سُپریم کورٹ اور صدارتی نظام

سپریم کورٹ
Loading...

(سید شاہ نجم الرحمٰن)

ملک کی سب سے بڑی عدالت کے سربراہ چیف جسٹس ثاقب نثار کی رفتار تندی اور احتسابی تحریک یہ بتانے کو کافی ہے کہ ملک میں بہت ساری تبدیلیوں کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اوراس فیصلے کو مقتدرحلقوں کی بھی حمایت حاصل ہے اوراس خاموش اکثریت کی بھی جو جمہوریت کے کڑوے پھل کھا کر انتخاب سے دن بدن کنارہ کش ہوتی جارہی ہے۔

یہ الگ بات ہے کہ انتخاب میں ووٹوں کی شرح بڑھانے میں جعلی ووٹوں کا تناسب کتنا ہوتا ہے۔ یہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ اب ملک میں حکمرانی کا طریقہ کار ہی نہیں بلکہ نظامِ حکومت کے طریقہ کارکو بھی بدل کر ملکی مزاج کے مطابق ڈھالنے کے لیے پارلیمان کی بجائے صدارتی کرنے کے پرانے منصوبے کو تکمیل تک پہنچا دینے کا پلان بھی بتایا جاتا ہے۔

یہ منصوبہ جو صدر ضیاءالحق کی سوچ و بچار اور شریف الدین پیرزادہ جیسے نامور قانون دان کی ریسرچ کا نچوڑ تھا۔ ضیاء الحق کی شہادت کے تیس سال گزرنے کے بعد اب تک یہ منصوبہ زندہ و جاوید ایک حلقے میں رہاہے۔

یہ بھی عجب اتفاق ہے کہ نہ صرف ضیاءالحق کی برسی کے دن ہی پاکستان کی پارلیمنٹ میں عمران خان کو نیا وزیراعظم منتخب کیا گیا ہے بلکہ اپوزیشن کی طرف سے گرینڈ الائنس بھی ختم ہو کر اب انفرادی اپوزیشن تک محدود ہو کر رہ گیا ہے گویا جمہوریت کی پٹاری میں سے اب کئی نئے کھیل تماشے سامنے آئیں گے جس کو دیکھ کرعوام موجودہ پارلیمانی نظام کی خامیوں کو دیکھ کر نئی تبدیلی کی کھلے دل سے حمایت پر مجبور ہوجائیں گے۔

اب پارلیمانی نظام کے یہ تلخ ثمرات بین الاقوامی سطح پر بھی وقوع پذیر ہوئے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے معاملات یمن جنگ کے بارے میں پارلیمنٹ میں گئے اور ان حساس معاملات پر پارلیمنٹ نے جو پالیسی بیان دیا اس نے پاکستان کی تنہائی میں اضافہ کردیا۔

ایک ٹی وی انٹرویو میں سابق صدر آصف علی زرداری نے بتایا کہ اس وقت پاکستان مدد کرنے والے سعودی اور اماراتی حکومتوں کی ہمدردی ہی نہیں کھوچکا بلکہ سوائے تاجکستان کے کوئی بھی ملک حمایتی نہیں رہا۔

ماہرین کے معاملے کو جب غیر ماہرین کی اکثریت سے مربوط کردیا جائے تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ اب تو یہ بحث بھی چھڑ گئی ہے کہ پارلیمنٹ کوعدالت پر بالادستی ہے کہ نہیں اور کون بالادست ہے۔

ملک کے آئین میں صدارتی نظام کی کوئی گنجائش نہیں مگر یہ بھی نہیں ہے کہ ملک میں گنجائش نکالنے والے ماہر قانون بھی نہیں ہیں۔ نظریہ ضرورت اور چیف ایگزیکٹو کی اصطلاح کے ذریعے فوجی حکمرانوں کی گنجائش بھی تونکال لی گئی۔

آخر آصف زرداری بخوبی جانتے ہیں کہ اگر کرنے والے کرنے پر آئیں تو سب کچھ کر گزریں گے۔ اس لیے انہوں نے اپنے صدارتی دور کے آخری مہینوں میں صدر کے اختیارات کم کرکے انہیں پارلیمنٹ کو منتقل کر دیا تھا تاکہ اگر صدارتی نظام کا فیصلہ ہو تو صدر کے اختیارات ذوالفقار علی بھٹو کے دور کے صدر چوہدری فضل الٰہی جیسے ہوں مگر باخبرحلقوں کا کہنا ہے کہ صدارتی نظام کی بھی تیاری کرنے والوں نے تیاری مکمل کی ہوئی ہے۔

Loading...

پارٹی گرفت سے آزاد ممبران اسمبلی اس کام میں ان کے ساتھ ہوں گے اور پارلیمنٹ جس نے صدر کے اختیارات ماضی قریب میں وزیراعظم  کو منتقل کیے تھے وہ خوش دلی کے ساتھ صدر کو اختیارات منتقل کرنے اور ملک میں صدارتی نظام نافذ کرنے میں کوئی لیت و لعل سے کام نہیں لیں گے۔

ان آزاد ارکان پر کسی کا کوئی دباؤ بھی نہیں ہوگا اور نہ ہی یہ کسی کے فیصلے کے پابند ہوں گے۔ ترکی کے صدرطیب اردوگان نے جس طرح نظام حکومت بدل کر رکھ دیا یہ عمل پاکستان میں بھی جگہ بنا سکتا ہے۔

عدالتی احتساب اور جمہوریت کے امتزاج سے ملک کو ایک ایسا نظام حکومت دیے جانے کی کوشش ہے جو متوازن ہو۔ صدر مملکت بے دست و پاء نہ ہو اور پارلیمنٹ منہ زور نہ ہو۔

پہلے صدر کے پاس اسمبلی برخاست کرنے کا آئینی اختیار”اٹھاون ٹو بی” تھا جو پارلیمنٹ کے دلدادہ حضرات نے ختم کر دیا اور اب یہ حالت ہوچلی ہے کہ پارلیمنٹ جس کے فیصلوں نے پاکستان کوعالمی سطح پر تنہائی کا تحفہ دیا۔ وہ عدالت کے پر کاٹنے اور فوج کے نظام کو ہاتھ میں لینے کی حد تک سوچنے لگا ہے۔

ترکی طرز کا صدارتی نظام جس میں صدر کو کُل کاسٹ کردہ ووٹوں کا پچاس فیصد لینا لازم ہوتا ہے، اگر کوئی بھی امیدوار یہ تعداد حاصل نہیں کر پاتا تو سب سے زیادہ اور دوسرے نمبر والے امیدوار کے درمیان دوبارہ مقابلہ کرایا جاتا ہے اور یوں پچاس فیصد سے زائد کا حامل صدر بن جاتا ہے اور صدرکو جو حقیقی اکثریت کا نمائندہ ہوتا ہے خوب اختیارات ہوتے ہیں۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ پاکستان کے مقتدر حلقے اسی طرز حکومت کی پیش بندی کیے ہوئے ہیں۔ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کی بلاشرکت غیر حکومت رہی اس کے ووٹ مخالف ووٹوں کی تعداد سے کم تھے اور یوں جعلی اکثریت نے اسے سندھ میں حکمران بنا دیا۔ اب آصف زرداری اور فریال تالپور کے گرد گھیرا تنگ ہونے سے اس پارٹی کو بھی گرد وغبار کا سامنا ہے اور بات دوسری سمت چل رہی ہے۔

آصف زرداری کے ساتھی انور مجید اور ان کے بیٹے غنی مجید کو بینکنگ کورٹس کی طرف سے نہ صرف گرفتار بلکہ ان کا جسمانی ریمانڈ بھی دے دیا گیا ہے۔ ان پرالزام ہے کہ انہوں نے سمٹ بینک پاکستان سے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے 40 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی ہے۔

انور مجید کے اکاؤنٹس سے نہ صرف آصف زرداری کے اکاؤنٹس میں رقوم کی منتقلی کے شواہد مل گئے ہیں بلکہ مشہور زمانہ ماڈل گرل ایان علی کو بھی زرداری صاحب کے اکاؤنٹس سے ادائیگی کے ثبوت مل گئے ہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق بینکنگ کورٹس نے آصف علی زرداری اور دیگر 19 مفرور افراد کے ناقابل ضمانت گرفتاری وارنٹ جاری کر دیے ہیں جبکہ فریال تالپور ضمانت قبل ازگرفتاری کرواچکی ہیں۔

یاد رہے کہ ماڈل گرل ایان علی عدالت سے ضمانت منظور ہوتے ہی ملک چھوڑ چکی ہیں جبکہ ایان علی کے مقدمے میں تحقیقات کرنے والے انسپکٹر کو قتل کر دیا گیا تھا اور قاتلوں کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ گویا بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے۔۔۔ !

(Visited 10 times, 1 visits today)
loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں