آج کل کے لئے لکھیں

آج کل کے لئے لکھیں
Loading...

کیا آپ اخبارات پڑھتے ہیں؟۔

الیکٹرانک میڈیا پر چلنے والی برینگ نیوز اور تبصروں پر افسردہ ہوجاتے ہیں؟۔

اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں؟۔

پاکستان کے سیاسی حالات اور بڑھتی انتہا پسندی کی وجہ سے دلبرداشتہ ہیں؟۔

بدلتی دنیا اور پاکستان کو درپیش مسائل سے آشنا ہیں؟۔

اگر سنتے ہیں تو بولتے کیوں نہیں۔ اگر بول نہیں سکتے، لکھ تو سکتے ہیں۔

اپنے تحفظات، احساسات اور جزبات کو بزریعہ کالم/بلاگ دوسروں تک پہنچائیے۔

تاکہ جو آپ سوچتے ہیں۔ دوسرے جان سکیں اور جان کر وہ سوچ سکیں، جو آپ سوچتے ہیں۔

کیونکہ شیئر کرنے اور جاننے سے ہی مسائل کا حل نکلتا ہے۔ صرف سوچنے اور کُڑنے سے نہیں۔

روزنامہ آج کل لاہور اور کراچی سے شائع ہونے والا اخبار ہے۔ جس کا مقصد سنسنی پھیلانا یا صرف حکمرانوں پر تنقید کرنا نہیں۔ بلکہ نفسا نفسی کے اس دور میں رواداری، ہم آہنگی اور مثبت سوچ کو پاکستانیوں تک پہنچانا ہے۔ تاکہ مایوسیوں اور مسائل میں گھیرے پاکستانی، پاکستانی ہونے پر فخر کرسکیں۔

loading...

آپ کی تصانیف کو ناصرف اخبار کے ادارتی صفحات پر شائع کیا جائیگا۔ بلکہ اخبار کی ویب سائٹ کے علاوہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے بھی شیئر کیا جائیگا۔

ادارتی پالیسی

آج کل میں لکھنے کے لیے موضوع کی قید نہیں ہے۔ آپ کسی بھی موضوع پر تصنیف لکھ کر ہمیں ارسال کر سکتے ہیں۔ تاہم تصنیف لکھتے وقت اخلاقیات کو ملحوظِ خاطر رکھیں اور خاص کر عدلیہ، فوج اور مزہب پر تنقید کرتے ہوئے محتاط رہیں۔  ادارہ کسی بھی تصنیف میں ایڈیٹنگ یا رد کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

آپ اپنے مضامین درج ذیل ایمیل ایڈرس پر بھیج سکتے ہیں۔

For Blogs

blogs@aajkal.com.pk

For Photographs

photographs@aajkal.com.pk

مدیر

چوہدری غلام حسین

(Visited 701 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

2 تبصرے “آج کل کے لئے لکھیں

  1. ظلم وناانصافی کے خلاف برسرپیکارصحافیوں کے شب وروز
    پروفیسرعبدالشکورشاہ
    0321-4756436
    ہتھکڑیاں، بیڑیاں، زنداں کی سلاخیں کیا ہیں
    میرے انفاس کی گرمی سے پگھل جائیں گی
    اشاعتی صحافت کا آغازقدیم روم سے شرو ع ہو تا ہے۔اس دور میں عوام خطابات کو اشاعت شکل دی جاتی تھی۔یہ تحریریں یا تقاریر لکھ کر عوامی مقامات پر لٹکائی جاتی تھیں۔چین میں تانگ بادشاہت کے دوران درباری اشاعت جسے چینی زبان میں باو کے نام سے جانا جاتا تھا، ایک حکم نامہ جاری ہوتا تھا جو 1911 تک شائع ہوتا رہا۔ صحافت کی باقاعدہ اشاعت جرمنی کے شہراینٹورپ میں تقریبا 1609 میں شروع ہوا۔پہلا انگریزی اخبار، ویکلی نیوز 1622میں شائع ہوا۔ 1702میں روزنامہ کورینٹ کے نام سے ایک اخبار شائع ہوا۔ اٹھاہویں صدی تک حکومت ٹیکسز اور دیگر بہانوں سے اخبارات اور صحافیوں پر پابندیاں لگاتی رہی۔اٹھارہویں صدی کے بعد صحافت میں ماضی کی نسبت قدرے آزادی دیکھنے کو ملتی ہے۔ میگزین کا آغاز سترہویں صدی سے ہی ہو ا۔ ان میگزینز میں حالات حاضرہ پر کالم شائع ہونے لگے۔ شروع کے میگزینز میں ٹاٹلر اور سپیکٹیٹر زیادہ مشہور ہیں۔اٹھارہویں صدی میں ان میگزینز میں خواتین کے میگزینز زیادہ نمایاں تھے۔ ان میگزینز کی شہرت اور مانگ نے نیوز ایجنسیوں کی داغ بیل ڈالی۔ٹیلی گراف، ریڈیو اور ٹی وی کی ایجاد سے صحافت کی ترقی اور ترویج کا سبب بنی۔ بیسویں صدی میں سیٹلائٹ اور انٹر نیٹ کی ایجادات نے صحافت کے میدان میں انقلاب برپا کر دیا۔ موجود ہ دور کو اگر صحافت کا دور کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ مگر اس شعبے کے ساتھ وابستہ افراد کی کہانی بہت کم لو گ ہی جانتے ہیں۔ صحافت سے وابسطہ افراد میں سے اکثر افلاس و تنگدستی کی زندگی گزارتے ہیں۔ اقوام متحدہ میں پاکستانی صحافت سے متعلق پیش کی جانی والی رپورٹ کے مطابق سال 2013-19 کے دوران 33صحافیوں کے قتل کی 32 ابتدائی رپورٹس درج کی گئی۔ پولیس کی روایتی سستی اور سیاسی مداخلت کی وجہ سے صرف 20 کا چالان پیش کیا گیا ہے۔ عام آدمی اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے لیے صحافت کا سہار لیتا ہے۔ مگر المیہ دیکھیں دوسروں کو انصاف دلانے والے، دوسروں کو ظلم اور ناانصافی سے بچانے والے خود کس کرب اور مشکلات سے گزر رہے ہیں۔ یہ شعبہ جتنا دلکش اور سہانا لگتا ہے اتنا ہر گز نہیں ہے۔ اس شعبے کی مشکلات کا اندازہ عملی طور پر اس شعبے سے وابستہ افراد کے علاوہ کوئی نہیں جان سکتا۔ صحافیوں کے قتل کے چالان شدہ مقدمات میں سے صرف 6 کا فیصلہ ہوا ہے۔ یہ تو ان صحافیوں کو ملنے والے انصاف کی مختصر سی رپورٹ تھی جو دوسروں کا انصاف دلاتے، ظلم اور نا انصافی کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی زندگیاں قربان کر گے۔ سال 2013سے پہلے بھی بے شمار صحافی حق کی خاطر اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں۔ظلم و ناانصافی کے خلاف کے خلاف سف آرا صحافی کس حال میں ہیں یہ بات زیادہ دل دہلا دینے والی ہے۔ آی پی آئی کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کی حکومتیں صحافیوں کے تحفظ اور ان کو انصاف دلانے میں ناکام ہو چکی ہیں۔ویانا میں قائم آئی پی آئی کی ڈیتھ واچ کے مطابق ہر سال تقریبا 40صحافی اپنی زندگیوں سے محروم کر دیے جاتے ہیں۔ظلم و ناانصافی کے خلاف لڑتے ہوئے سالانہ 25 صحافی اپنی رپورٹنگ کے دوران جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ جان گنوانے والے بیشتر صحافی کرپشن کو بے نقاب کرنے،جرائم کے خلاف لڑتے ہوئے یا معاشرتی ناسوروں کو بے نقاب کرتے ہوئے معاشرے کے امن اور انصاف کی خاطر اپنی جانیں قربان کر دیتے ہیں۔ روزانہ جان ہتھیلی پر رکھ کر نکلنے والے صحافی ہمارے ہیروز ہیں۔ امن ہو یا جنگ، خوشی ہو یا غم، جیسے بھی حالات ہوں صحافی ہمیشہ میدان میں ہر اول دستے کی صورت میں نظر آتے ہیں۔ ان کے لیے خبر کسی جہاد کی طرح ہے۔ اس سب کے بدلے میں ہم صحافیوں کو معاشرے میں وہ مقام نہیں دیتے جس کے وہ حقدار ہیں۔ساری رات جاگ کر ہمیں پوری دنیا سے متعلق آگاہ کرنے والے کس حال میں رہتے ہمیں نہیں پتہ۔ دنیا کی کسی بھی تحریک میں صحافیوں کا کردار اہمیت کا حامل رہا ہے۔ قلم تلوار سے زیادہ طاقتور ہو تا ہے۔ دنیا تو درکنار، پاکستان سے ہمیں سینکڑوں مثالیں ملتی ہیں جہاں صحافیوں کے قلم نے بڑے بڑے ڈکٹیٹروں کو رخصت کیا۔صحافیوں کی قربانیاں بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔ مگر ایک عام صحافی کی زندگی اس شعبے کے بارے لکھے گئے فلسفوں کے بالکل برعکس ہے۔ ہمارے ملک میں صحافی کی آمدن کا دارومدار اس کی میڈیا ہاوس سے وابستگی پر منحصر ہے۔ پرنٹ میڈیا کے صحافی الیکٹرانک میڈیا کے صحافیوں سے کم آمدن رکھتے کے حامل ہیں۔ پرنٹ میڈیا میں بھی اردو اور انگریزی اخبارات سے وابستہ صحافیوں کی تنخواہوں میں بہت فرق پایا جا تا ہے۔ الیکڑانک میڈیا کا فل وقتی صحافی ایک لاکھ سے دو لاکھ کے درمیان تنخواہ لیتا ہے، بعض اس سے بھی زیادہ تنخواہ لیتے۔ ٹی وی اور خبارات کا عملہ جو کنٹریکٹ پر رکھا جاتا ہے ان کی تنخواہ میں موجودہ وقت میں گزارہ کر نا بھی ناممکن ہے۔ بعض صورتوں میں تو کنٹریکٹ کے بغیر ہی کام لیا جا تا ہے۔ اخبارات میں کم از کم تنخواہ 10,000 رکھی جاتی ہے مگر کچھ اخبارات اس سے بھی کم ادا کر تے ہیں۔ بڑے اخبارات 15 سے 20ہزار کے درمیان تنخواہ ادا کر تے ہیں۔ مظہر عباس صاحب کے مطابق اخبارات میں کام کرنے والوں میں سے 80% سے زیادہ اپوانٹمٹ لیٹر اور کنٹریکٹ کے بغیر کام کرتے ہیں۔ اشاعتی ادارے قانونی کاروائی سے بچنے کے لیے سب کنٹریکٹ کے نام سے کام کرواتے ہیں۔ دیہاتی علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کو مالک اکثر تنخواہ تک نہیں دیتے اور انہیں کہا جاتا ہے وہ اشتہارات کے زریعے پیسے خود بھی کمائیں اور ادارے کو بھی دیں۔ ادارہ ان کے ساتھ ایک تناسب طے کر دیتا ہے۔ رپوٹنگ کرنے کے لیے چھوٹے ادارے بجائے تنخواہ دینے کے سیکورٹی، صحافی کارڈ، مائیک اور رجسٹریشن کے نام پر بھاری رقوم وصول کرتے ہیں۔ یہ ساری کاروائی مکمل کرنے کے بعد بھی ان کو اپنی خبر لگوانے یا چلوانے کے لیے باضابطہ پیسے دینے پڑتے۔ صحافی کو پیسے خبر لگنے یا چلنے کے بعد ہی ادا کیے جاتے۔ دور دراز کے علاقوں کے صحافی اپنی خبر لگوانے اور چلانے کے لیے دن میں بیس بار فون کر تے ہیں۔ دور دراز کے علاقوں میں اکثر صحافی جز وقتی یا فری لانسرز کے طور پر کام کر تے ہیں۔ مالی پریشانیوں کے ساتھ ساتھ صحافیوں کو کے تحفظ کا کوئی پائیدار نظام بھی موجود نہیں ہے۔ قانونی تحفظ کے علاوہ انہیں کسی قسم کی انشورنس بھی نہیں دی جاتی۔اکثرمقامی صحافی زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہو تے اور ملک میں ان کی تربیت کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ وہ شعبہ جو رائے عامہ ہمورا ر کر تا ہے اسے بغیر تعلیم و تربیت کے رکھنا ملک کو اندھیرے میں جھونکنے کے مترادف ہے۔ خبارات کے مالکان ملازمت کے لیے کسی دوسرے ادارے کے ساتھ کام نہ کرنے کی شرط عائد کر تے مگر صحافی کے گھر کا چولہا جلانے کی فکر نہیں کرتے۔ صحافت کا شعبہ 24/7 ڈیوٹی کا متقاضی ہے۔صحافی کو تو ہفتے میں ملنے والی ایک چھٹی کا بھی پتہ نہیں ہوتامقررہ دن ملے گی یا چھٹی کے دن بھی کام کرنا پڑے گا۔ اگر دنیا میں کوئی ایسا شعبہ ہے جہاں چھٹی کا تصور کم ہے وہ دو افراد ہی سر انجام دے پا رہے ہیں ایک ماں اور دوسرے صحافی۔ کام کی شفٹیں بھی بدلتی رہتی ہیں جس کی وجہ سے اس شعبے سے منسلک افراد کسی اور شعبے میں کام کرنے سے قاصر رہتے۔ اگر کسی نہ کسی طرح کوئی کام شروع کر بھی لیں تو صحافت کی دنیامیں کام کے اوقات مقررہ نہیں ہوتے۔ جب تک اگلی شفٹ چلانے والا فر د نہ آئے اس وقت تک آپ جا نہیں سکتے۔ اقربا پروری بھی کافی ہوتی۔ اپنے چہیتوں کو جلدی بھیج دیا جاتا اور دیر سے آنے پر بھی کوئی انکوائری نہیں ہو تی۔ صحافت کے شعبے میں بس بنا کر چلنا پڑتا۔ ایسے انچارج بھی دیکھے ہیں جو ذاتی کام کروانے پر صحافتی کام میں چھوٹ دے دیتے۔ صحافت کے شعبے میں نچلے طبقے کا زیادہ استحصال ہو تا ہے۔ بعض مالکان تو تنخواہ تک پوری نہیں دیتے اور تھوڑے تھوڑے پیسے کر کے ایک بڑی رقم اپنے پاس رکھ لیتے۔ صحافی نہ تو کام کرنے کا رہتا ہے اور نہ ہی کام چھوڑ کر کسی اور ادارے میں شامل ہو سکتا ہے۔ میرے ساتھ کام کرنے والے ایسے بھی نامی گرامی صحافی ہیں جو لاکھوں روپے پھنسا کر بیٹھے تھے۔ اگر بیمار ہو جائیں تو علاج کے لیے پیسوں کا بندوبست کر نا مشکل ہو جا تا ہے۔ ادارے کے مالکان خبریں بھی اپنی مرضی سے لگواتے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا میں اس کا رجحان زیادہ ہے۔صحافت میں سفارشکا کلچر بھی کافی عام ہے۔سال 2009میں جب میں نے عملی صحافت میں قدم رکھا تو سکرین کے سامنے اور سکرین کے پیچھے کے تلخ حقائق کا سامنا کرنا پڑا۔ مجھے بخوبی یاد ہے میرے صحافتی شوق کو دیکھتے ہوئے مجھے مشورہ دیا گیا تھا کہ اس میں شامل نہ ہوں۔ ہم اکثر قبل از وقت ملنے والے مشوروں پر کان نہیں دھرتے لیکن بعد میں مشورہ دینے والے کے خلوص کا اندازہ ہوتا ہے۔ حتی کہ نیوز روم میں میرے پہلے دن مجھے میرے ایڈیٹر صاحب (اللہ ان کو جنت میں جگہ دے) فرمایا شاہ جی کیتھے پھنس گئے او۔ میں مسکرایہ مگر بعد میں احساس ہوا ان کا جملہ کتنا قیمتی تھا۔صحافت کے شعبے میں حسد بھی کافی حد تک موجود ہے۔صحافت کے شعبے میں اکثر اوقات تخلیقی کام کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی بلکہ بنی بنائی یا روائیتی طریقہ کار کو ترجیح دی جاتی ہے۔ خبروں میں سے اکثر مختلف نیوز ایجنسیوں کی طرف سے بنی بنائی مل جاتی ہیں۔بہت سارے اشاعتی ادارے مختلف ناموں سے بہت سارے اخبارات شائع کر تے ہیں مگر ہر اخبار کے لیے عملہ الگ سے نہیں رکھتے۔ایک ہی اخبار کا عملہ دو یا تین بعض صورتوں میں تین سے بھی زیادہ اخبارات یا چینلز کا چلاتا ہے مگر تنخواہ اسے ایک کے حساب سے ملتی ہے وہ بھی مشکل سے۔میں بذات خود بھی ایک تنخواہ پر ایک اردو اور ایک پنجابی چینل پر کام کر چکا ہوں اور اس کے ساتھ ایک اخبار کا کام بھی سونپا گیا تھا۔دوسروں کو انصاف دلانے والے اشاعتی ادارے صحافیوں کے حقوق کا خیال رکھیں۔ ہمیں سب سے پہلے اپنا گھر درست کرنا ہے پھر معاشرہ درست سمت پر گامزن ہو گا۔ حق سچ لکھنے پر نوکری سے بھی ہاتھ دھونے پڑتے ہیں۔صحافی معاشرتی ڈاکٹرز ہیں۔ جیسے طبی ڈاکٹر جسمانی بیماری کی تشخیص اور علاج کرتا ہے صحافی ایسے ہی معاشرتی بیماریوں کی تشخص کرکے ان کے علاج کی کوشش کر تے ہیں۔ ہمیں ظلم و ناانصافی کے خلاف لڑنے والے صحافیوں کو وہ مقام دینا ہے جس کے وہ حقدار ہیں نہ کے ان کے حقائق سامنے لانے پر ان پر مقدمات کا سلسلہ شروع کر دیا جائے۔ اگر حق کی آواز کو طاقت کے ساتھ دبایا جا سکتا تو آج فرعون کی حکومت ہوئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں