ٹویٹرنے کالج اساتذہ سے مدد کیوں مانگ لی؟

ٹویٹر

کیلیفورنیا : سوشل میڈیا آج کل بہت مقبول ہو گیا ہے اور بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے اور اس پر بہت سی علی خبریں اور افواہیں موجود ہوتی ہیں۔  

دوسری جانب عوام نے دل کی بھڑاس نکالنے کےلیے اسے نفرت انگیز زبان سے بھر دیا ہے۔ اسی بنا پر ٹوئٹر نے اعلیٰ تعلیم یافتہ پروفیسرز سے اس کا حل پیش کرنے کی درخواست کی ہے۔

ٹویٹر نے جامعات کے اساتذہ اور پروفیسروں سے کہا ہے کہ وہ پورے ٹویٹر کا ڈیجیٹل آڈٹ کرکے بتائیں کہ آخر غیرمہذب زبان، غلط خبریں اور خود ساختہ کارستانیاں کہاں سے پھوٹ رہی ہیں۔ اس کےلیے ٹویٹر نے پروفیسرز سے قابلِ عمل منصوبوں کی تجاویز پیش کرنے کا بھی کہا ہے۔

اب تک مختلف ماہرین  اور پروفیسرز نے ٹویٹر کو 230 عملی منصوبے  اور تجا ویز پیش کی ہیں جن میں سے نیویارک کی سیراکیوس یونیورسٹی کے دو اور اٹلی کی بوکونی یونیورسٹی کے دو پروفیسروں کے پروپوزل قبول کیے گئے ہیں۔ یہ تمام حضرات ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے ماہرین بھی ہیں۔

ان جامعات کے تین پروفیسر لائیڈن یونیورسٹی، ہالینڈ کے پروفیسر ریبیکا ٹرامبے کی نگرانی میں کام کریں گے جو سیاست اور سوشل میڈیا کے ماہر ہیں۔

فیس بک ہو، واٹس ایپ ہو یا ٹوئٹر، یہاں منفی باتوں کا ایک دائرہ اس وقت بنتا ہے جب کچھ ہم خیال لوگ کوئی بحث شروع کرتے ہیں اور اختلاف پر وہاں شروع ہونے والی بحث منفی رخ پرچلی جاتی ہے۔

سوشل میڈیا میں اس کیفیت کو ’ایکو چیمبر‘ کہا جاتا ہے جہاں کئی دنوں تک غلط زبان اور گالیوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ماہرین یہ بھی دیکھیں گے کہ ٹوئٹرپر کون لوگ ہیں جو ایکو چیمبر سے جڑے رہتے ہیں اور کون ہیں جو اس کا رخ دوسری مثبت سمت میں موڑنا چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیں۔  ایڈز کیخلاف بھی آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے ،چیف جسٹس

یہ ٹیم ایسے الگورتھم اور سافٹ ویئر بھی بنائے گی جو  دیکھے گا کہ ٹوئٹر پر کب کوئی بحث غیرموزوں ہوگئی اور اس کے بعد نفرت میں بدل کر زہریلا رخ اختیار کرگئی۔ ساتھ میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ آخر یہ کس طرح سے ہوتا ہے اور اس کی کیا وجوہ ہوسکتی ہیں۔

اگر ایک بار ٹوئٹر غیرمہذب اور نفرت انگیز گفتگو یا بحث کے درمیان فرق معلوم کرلے تو اس سے نفرت والی بحثوں کو روکا جاسکتا ہے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں