آرمی چیف اپنے بیان کے ذریعے الیکشن میں فریق ہونے یا نہ ہونے کی تصدیق کریں،فضل الرحمن

فضل الرحمان

اسلام آباد:متحدہ مجلس عمل کے صدر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہے آرمی چیف کی دشمن کو ووٹ سے شکست دینے کا مطلب کیا،فوج اس بیان کی وضاحت کرے کہ کون دشمن ہے؟

امریکہ بھی مذہبی جماعتوں کو پاکستان کا دشمن سمجھتا ہے،سپہ سالار اپنے بیان کی تصدیق کریں کہ کس کو شکست دیں ہیں،آرمی چیف اپنے بیان کے ذریعے الیکشن میں فریق ہونے یا نہ ہونے کی تصدیق کریں۔اسلام آباد میں ایم ایم اے کی مشاورتی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اسٹبلشمنٹ کھلے دل سے مداخلت کو تسلیم کرے،اس طرح کے اقدامات سے عوام اور فوج کے مابین دوریاں بڑھیں گی۔

مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ الیکشن کمیشن بار بار اصرار کر رہا ہے کہ انتخابات شفاف ہوئے ہیں جبکہ تمام جماعتیں متفق ہیں کہ دھاندلی ہوئی ہے،پی ٹی آئی کو دھاندلی کے ذریعے اکثریت ملی ہے،ان کے پاس حکومت بنانے کیلئے مطلوبہ تعداد ہی نہیں اس لئے پی ٹی آئی اپنے حد میں رہے۔سربراہ ایم ایم اے نے کہا کہ ایم ایم اے متحد ہیں،اختلافات کی باتیں محض پروپیگنڈا ہے، ان افواہوں کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں،

تمام امور اتفاق رائے سے طے پارہے ہیں اور پا چکے ہیں،ایم ایم اے کے اندر اور باہر کی دینی جماعتوں نے انتخابات میں 50لاکھ سے زائد ووٹ لیے،اس سے پاکستان میں دینی جماعتوں کی مضبوط جڑوں کا اندازہ ہوتا ہے۔ فضل الرحمن کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی تاریخ کی بدترین ہارس ٹریڈنگ کر رہی ہے،جو کل تک ہارس ٹریڈنگ کو گالی دیتے تھے آج اسی کو چاٹ رہی ہے،آل پارٹیز کانفرنس کے بعد متفقہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ حلقے کھلوانے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ تمام حلقے کھول کر انگوٹھوں کی تصدیق کرائی جائے،

مزید پڑھیں۔  ماضی کی نامور اداکارہ و گلوکارہ نگینہ خانم کی 14ویں برسی (کل) منائی جائے گی

الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کو آئین کی غلط تشریح سے روکے،احتجاج ہمارا حق ہے کارکن روزانہ ہر حلقے میں احتجاج جاری رکھیں۔فضل الرحمن کا حکومت بنانے سے متعلق سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ جو لوگ دھاندلی کے ذریعے ایوان میں پہنچیں ہیں وہ حکومت بنا سکتے ہیں تو جو لوگ بغیر دھاندلی اوراپنی محنت کے ذریعے ایوان میں پہنچیں ہیں ان کو بھی حکومت بنانے کا حق ملنا چاہیے۔انہوں کا حلف اٹھانے سے متعلق سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ حلف کیوں اٹھائے رہے ہیں یہ واضح ہونی چاہئے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں