آبی بحران کا واحد حل: نیشنل اکنامک چارٹر

سال 2018
Loading...
 کیا پاکستان کے آبی مسائل کا واحد حل نیشنل اکنامک چارٹر ہے؟
پاکستان اور بھارت کے آبی ماہرین کے درمیان سندھ طاس معاہدے کے سلسلے میں ڈیموں پر دوروزہ مذاکرات شروع ہو گئے ۔ پاکستان کی جانب سے دریائے چناب پر دو نئے ڈیموں لوئر کلنائی 48میگا واٹ اور پکل ڈل 1500میگا واٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے متعلق اعتراضات سے آگاہ کیا گیا۔ نیسپاک ہاؤس لاہور میں ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کے دس رکنی ماہرین کی ٹیم کی سربراہی کمشنر انڈس واٹر مہر علی شاہ اور بھارتی 9 رکنی وفد کی کمشنر انڈس واٹر پی پردیپ کمار سکسینہ نے کی۔ ذرائع نے بتایا کہ مذاکرات کے پہلے دن پاکستان کی طرف سے دریائے چناب پر تعمیر ہونے والے پکال دل اور لوئر کلنائی کے ڈیزائن ، پکال دل پن بجلی کے ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اورجھیل بھرنے اور وہاں سے پانی چھوڑنے کے پیٹرن پر اعتراضا ت کئے گئے ۔ مذاکرات کے دوران پاکستانی وفد نے موقف اپنایا کہ بھار ت کی جانب سے دریائے چناب پر دو ہائیڈرو پاور منصو بو ں پکل ڈل اور لوئر کلنائی کے منصوبوں کے ڈیزائن پر شدید اعتراض ہے۔ پکل ڈل پن بجلی ذخیرہ کرنے کی سطح اونچائی میں پانچ میٹر کمی کی جائے جبکہ سپل ویز کے گیٹس کی تنصیب میں سطح سمندرسے چالیس میٹر اونچائی کا اضافہ کیا جائے۔ پکل ڈل پن بجلی گھر کی جھیل بھرنے اور وہاں سے پانی چھوڑنے کا پیٹرن بھی واضح کیا جانا چاہیے۔ پاکستانی وفد نے لوئر کلنائی پن بجلی گھر منصوبے کے حوالے سے بھی اپنے تحفظات واضح کئے۔مذاکرات کے دوران بھارتی وفد کی جانب سے بھی اپنا موقف پیش کیا گیا تاہم پاکستان کی جانب سے اعتراضات بر قرار ہے۔دوسری طرف ایک خبر کے مطابق 1410میگاواٹ بجلی کی پیداوار کے تربیلا ڈیم کے چوتھے توسیعی منصوبہ کی بندش کا وفاقی حکومت نے نوٹس لے لیا ۔ ذرائع نے منصوبہ کی بندش کے اصل حقائق کے بارے میں بتایا کہ جب یونٹ 17کو آپریشنل کیا گیا تو اس وقت تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول 1386 فٹ پر تھی۔ یونٹ کو بجلی کی پیداوار کے لئے بہت ہی کم مقدار میں پانی کی فراہمی کی گئی جس کی وجہ سے ہزاروں ٹن مٹی سرنگ میں چلی گئی اور یونٹ 15,16,17 کے گیٹ مٹی میں دب گئے ہیں جو منصوبہ کی بندش کا باعث بن چکے ہیں۔
عالمی سامراجی طاقتیں عالمی مالیاتی اداروں کے ذریعے معاشی ہتھیار استعمال کرکے بھی دوسرے ملکوں کو دباؤ میں لاتی ہیں۔ پاکستان واحد ایٹمی اسلامی ریاست ہے جو امریکہ اسرائیل اور بھارت کو کھٹکتی ہے۔ ان ممالک کی خواہش ہے کہ پاکستان کو معاشی اور عسکری طور پر اس قدرکمزور کردیا جائے کہ عالم اسلام کی واحد ایٹمی ریاست گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجائے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ مجرمانہ غفلت کی المناک مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ ترقیاتی منصوبے کے تخمینے کروڑوں سے شروع ہوکر تاخیر کی بناء پر اربوں تک پہنچ گئے جن کا بوجھ عوام کو برداشت کرنا پڑا۔ پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ معاشی بحران ہے جو گزشتہ دس برسوں کے دوران سنگین ہوا ہے۔عالمی ادارے موسمی تبدیلیوں کے پیش نظر پاکستان کو مستقبل میں پانی کی شدید قلت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی قحط سالی کے بارے میں خبردار کرتے رہے مگر میاں نواز شریف نے موٹرویز کے جنون میں اس اہم قومی مسئلے پر بھی توجہ نہ دی البتہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے دور میں نیشنل واٹر پالیسی کے سلسلے میں ہنگامی بنیادوں پر کام کیا گیا۔ پاکستان واٹر چارٹر پر وزیراعظم اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے اتفاق کیا اور چارٹر پر دستخط کیے۔ اس چارٹر کی روشنی میں نیشنل واٹر پالیسی تشکیل پائی اور مشترکہ مفادات کی کونسل نے نیشنل واٹر پالیسی 2018 کی منظوری دے دی اور آخر کار پندرہ سال کے بعد ریاست نیشنل واٹر پالیسی بنانے میں کامیاب ہوئی جس کی روشنی میں موجودہ حکومت پالیسی کے مطابق پانی کے منصوبوں کو آگے بڑھاسکتی ہے۔ پاکستان واٹر چارٹر میں چاروں صوبوں نے اتفاق کیا کہ پانی کی قلت سے مادر وطن میں خوراک ، انرجی اور پینے کے پانی کے سلسلے میں انتہائی تشویشناک خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔ آزادی کے وقت ہمیں 5200 کیوبک میٹر فی کس پانی دستیاب تھا جو کم ہو کر 1000 کیوبک میٹر رہ گیا ہے۔ اگر اس وقت پانی کی قلت پر قابو نہ پایا گیا تو مستقبل قریب میں قحط سالی کا سامنا ہوسکتا ہے۔پاکستان کی پہلی چار دہائیوں میں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے قابل رشک منصوبے تعمیر کیے گئے جبکہ گزشتہ تین دہائیوں میں ہماری کارکردگی شرمناک رہی۔ پاکستان کو موسمی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے خطرات کا سامنا ہے۔ آبادی میں غیر معمولی اضافے سے پانی کی طلب بڑھ چکی ہے۔ پانی کو سمندر میں گر کر ضائع ہونے سے بچانے کے لیے ڈیم بنانے کی ضرورت ہے۔ پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے قابل اعتبار نظام وفاقیت کے لیے لازمی ہے۔ آلودہ پانی کے استعمال سے 80فیصد بیماریاں انسانوں کو لاحق ہورہی ہیں لہذا صاف پانی کی فراہمی قومی ترجیح ہونی چاہیئے۔ واٹر چارٹر کے مطابق پانی کے بارے میں مختلف اقدامات اٹھانے سے پہلے صوبوں کو اعتماد میں لیا جائے گا تاکہ تمام فیصلے منصفانہ اور شفاف انداز سے کیے جاسکیں۔ پانی کی منصوبہ بندی کے لیے ٹیکنو کریٹس میرٹ پر نامزد کیے جائیں گے۔ صوبوں کے وزرائے اعلی نے پانی کے بحران پر قابو پانے کے لیے ہر قسم کے مالی اور انتظامی تعاون کا یقین دلایا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لیے تمام اختلافات سے بالاتر ہوکر چیلنجوں کا متحد ہوکر مقابلہ کیا جائے گا۔نیشنل واٹر پالیسی 2018 میں پانی کے بارے میں تمام تفصیلات شامل کی گئی ہیں تاکہ کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے اور حکومتیں اس پالیسی کی روشنی میں اقدامات اٹھاسکیں۔ اس قومی پالیسی میں ترجیحات کا تعین کیا گیا ہے۔ پانی کے ضیاع کو روکنے اور پانی ذخیرہ کرنے کے لیے منصوبہ بندی پر اتفاق رائے کیا گیا ہے۔ بھاشا ڈیم کی بروقت تعمیر کے لیے چاروں صوبوں نے ترقیاتی فنڈ سے بجٹ مختص کرنے پر اتفاق کیا ہے۔نیشنل واٹر پالیسی جامع واضح اوردور رس نتائج کی حامل ہے جس میں چاروں صوبوں کے آبی ماہرین کی تکنیکی رائے اور سیاسی جماعتوں کی مشاورت شامل ہے۔ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اگر اس پالیسی پر صدق دل سے عملدرآمد کیا جائے تو پاکستان پانی کے بحران پر قابو پاکر آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بناسکتا ہے۔پاکستان اور بھارت کے آبی ماہرین کے درمیان سندھ طاس معاہدے پر ہونے والے مذاکرات سے پہلے بھی خوش کن امیدیں وابستہ نہیں تھیں بلکہ اسے ایک معمول کی کارروائی ہی سمجھناچاہیے تھا۔معاشی بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے نیشنل واٹر چارٹر کی طرح
نیشنل اکنامک چارٹر کی ضرورت ہے۔
(Visited 37 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں