ڈونلڈ ٹرمپ کا سابق سیکریٹری دفاع کو برطرف کرنے کا دعویٰ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان کے معاملے پر سابق سیکریٹری دفاع جم میٹس کو عہدے سے برطرف کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

یو ایس اے ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کابینہ اجلاس کے دوران کہا کہ ’ جم میٹس نے میرے لیے کیا کیا ہے؟‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق سیکریٹری دفاع پر افغانستان سے متعلق تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کمانڈ کے دوران امریکی فوج کی پالیسی اچھی نہیں تھی۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’ جو کچھ انہوں نے افغانستان میں کیا، میں اس سے خوش نہیں‘، جیسا کہ آپ جانتے ہیں صدر باراک اوباما نے بھی انہیں برطرف کیا تھا اور اب میں نے بھی کردیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کانگریس رہنماؤں سے حکومت کے شٹ ڈاؤن سے متعلق تبادلہ خیال کے لیے ملاقات کے دوران یہ گفتگو کی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ میکسیکو کی سرحد کے ساتھ دیوار کی تعمیر کے لیے درکار 5 ارب ڈالر کی فنڈنگ کے مطالبے پر قائم ہیں۔
’ مستعفی جم میٹس‘ کے نائب نے سیکریٹری دفاع کا منصب سنبھال لیا

قبل ازیں ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی سیکریٹری دفاع جم میٹس کے استعفیٰ کے بعدقائم مقام دفاعی سربراہ اور نائب سیکریٹری دفاع پیٹرک شنیہن نے سیکریٹری دفاع کا منصب سنبھال لیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے نئی پاکستانی قیادت سے جلد ملاقات کی خواہش ظاہر کر دی

سابق دفاعی سیکریٹری جم میٹس 31 دسمبر کی شب اپنے عہدے سے سبکدوش ہوگئے تھے لیکن یکم جنوری کو تعطیل کے باعث قائم مقامی سیکریٹری دفاع نے اپنے نئے عہدے کا قلمدان 2 جنوری کو سنبھالا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر کی جانب سے شام اور افغانستان سے فوجوں کے انخلا پر اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے جم میٹس 20 دسمبرکو مستعفی ہوگئے تھے۔

استعفی کے بعد ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے انخلا کے شیڈول میں رد و دبدل کا اشارہ دیا لیکن یہ بھی واضح کیا کہ وہ ’ نہ ختم ہوے والی جنگوں ‘ میں امریکی فوجیوں کو طویل عرصے تک بھیجنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

68 سالہ جم میٹس واضح کر چکے تھے کہ وہ فروری کے اواخر میں عہدہ چھوڑ دیں گے تاکہ اگلے چیف کی آمد کے تمام مراحل احسن طریقے سے طے پاجائیں لیکن 23 دسمبر کو ڈونلڈ ٹرمپ نے یکم جنوری کو نئے سیکریٹری دفاع تعینات کیے جانے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم 20 دسمبر کو ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹ میں اعلان کیا تھا کہ جم میٹس فروری کے اختتام میں اعزاز کے ساتھ ریٹائر ہوجائیں گے لیکن بعد ازاں امریکی صدر نے اپنا ارادہ تبدیل کرلیا۔

اس حوالے سے میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے مذکورہ ٹوئٹ سے قبل جم میٹس کا استعفیٰ نہیں پڑھا تھا، استعفیٰ میں جم میٹس نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اتحادیوں کو نظر انداز کرنے پر ملامت کا اظہار کیا تھا۔

پانچ ممالک اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے نئے رکن بن گئے

بعد ازاں ڈونلڈ ٹرمپ نے جم میٹس کی جلد ریٹائرمنٹ سےمتعلق بیان دینے سے قبل سابق سیکریٹری دفاع کے استعفیٰ پر میڈیا کوریج کی شکایت کی تھی۔

پیٹرک شنیہن کو سیکریٹری دفاع کا اہم ترین عہدہ سونپتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’بطور نائب سیکریٹری دفاع پیٹرک کی کامیابیوں کا سلسلہ طویل ہے‘۔

اس حوالے سے پیٹرک شنیہن نے وزارت دفاع کی جانب سے جاری ایک مختصر بیان میں کہا تھا کہ ’ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے نقطہ نظر کے تحت امریکی دفاعی اور فوجی اداروں کے ہمراہ ان کے ساتھ کام کرنےکے منتظر تھے‘۔

اپنے الوداعی پیغام میں جم میٹس نے امریکی فوج کو دشمنوں کے خلاف سرگرم اتحادیوں کے ساتھ ثابت قدم رہنے کی ہدایت دی۔

انہوں نے فوجیوں کو امریکی آئین کی بقا کے لیے اپنے مشن پر توجہ مرکوز رکھنے پر زور دیا۔

اس موقع پر پینٹاگون کا کہنا تھا کہ وہ جم میٹس کی خواہش کے مطابق ان کے اعزاز میں روایتی الوداعی تقریب منعقد نہیں کریں گے۔

پینٹاگون کی چیف ترجمان ڈینا وائٹ کا کہنا تھا کہ’ جم میٹس اس بات کو ترحیح دیتے ہیں کہ ہر دن کی طرح آج بھی تمام تر توجہ اپنے مشن اور اس پر کام کرنے والوں پر مرکوز رکھنی چاہیے‘۔

Leave a Reply