ماہ ربیع الاول : سیرت النبی ﷺ کو اپنانے کا پیغام

ماہ ربیع الاول

نبی کریمﷺ کی ولادت مبارکہ یقینا تاریخ انسانیت کا وہ موڑ ہے جس کے پیغام یہ تھا کہ اب دنیا میں وہ عظیم انقلاب لانے والی عظیم شخصیت پیدا ہوچکی ہے جسے رب کائنات نے تمام مخلوقات میںسب سے افضل مقام عطا فرما کر سب سے بڑی ذمہ داری نبھانے کے لیے منتخب فرمایا ہے۔

کون نہیں جانتا کہ نبی کریمﷺ سے پہلے جتنے بھی انبیاء و رسول آئے وہ سب کے سب متعین ومحدود وقت اور علاقوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے چنانچہ ظاہر سی بات ہے کہ اس صورت میں ذمہ داری بھی انتہائی محدود ہوجاتی ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے پیارے نبی محمدﷺ کو تمام انسانوں کی طرف نبی و رسول بنا کربھیجا اور قیامت تک کے لیے یہ منصب دے کر بھیجا اور ساتھ ہی اعلان کروادیا گیا کہ وہ ’’خاتم النبیین‘‘ ہیں ۔ اب ان کے نبوت کا دروازہ بند ہوچکا ۔

اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جس فرد کو تمام انسانوں کے لیے اور قیامت تک کے لیے مبعوث کیاگیا ہے اس کی ذمہ داری کتنی بڑی ہوگی؟

بلاشبہ انہوں نے اس ذمہ داری کو احسن انداز سے نبھایا، اس مقصد کے لیے جوقربانی انہیں دینا پڑی انہوں نے بخوشی دیدی، اس راہ میں انہیں جو مصائب اٹھانے پڑے انہوں نے ان سب کو صبر سے برداشت کیا، دعوت دین کے لیے خود کو ایسا وقف کیا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ’’داعی الی اللہ‘‘ کے لقب سے سرفراز فرمایا۔ حضرت آقا مدنیﷺ ایک ایسا دین لے کر آئے جس نے پہلے موجود تمام شریعتوں کو منسوخ کردیا، پہلے سے موجود ملتوں میں جو تحریفات واقع ہوچکی تھیں نہ صرف ان سے پردہ اٹھایا بلکہ ایک مکمل نیا نظام زندگی عنایت فرمایا جس کے بعد کسی اور نظام سے بھیک مانگنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ زندگی کے ہرشعبے سے متعلق وہ واضح ہدایات دیدی گئیں جن کے بعد کسی اور ہدایت کی ضرورت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

Photo: File

چنانچہ حضرات صحابہ کرام جو نبوت محمدی کے گواہ بنائے گئے ان کی زندگیاں اس دعوے کی سب سے بڑی دلیل ہیں کہ کس طرح وہ ہر محاذزندگی کے فاتح بنے اور ان فتوحات میں اگر کوئی چیز ان کے لیے آئیڈیل تھی تو وہ نبی کریمﷺ کی مبارک زندگی اور مبارک تعلیمات تھیں، جنہوں نے عرب کے ان امیوں کو دنیا کا قائد ورہنما بنادیا تھا۔

حجر اسود کہاں سے آیا ،شرو ع میں اس کا رنگ کیا تھا؟

اہل اسلام کے ہاں ہر سال ربیع الاول آتے ہی سیرت النبیﷺ کے اجتماعات اور سیمینارز وغیرہ کا بھرپور انعقاد ہوتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ اجتماعات جس قدر روحِ شریعت کے مطابق ہوں اسی قدر نفع مندہوتے ہیں مگر افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ کچھ عرصے سے اس بارے میں بے انتہاء غلو کیا جارہاہے جس سے نہ صرف روح شریعت بری طرح متاثر ہوتی ہے بلکہ شریعت کا ظاہری حسن و جمال بھی بگاڑا جاتا ہے۔ غیر شرعی افعال کی بھرمار میں اگر سیرت النبی ﷺ یا میلاد النبیﷺ کا پروگرام منعقد کیا جائے گا تو یقینا یہ صورت نہ صرف یہ کہ کسی ثواب کا باعث نہیں ہوگی بلکہ خطرہ ہے کہ ڈبل گناہ کا سبب نہ بن جائے کیوں کہ سیرت النبیﷺ اور ولادت نبوی کاتذکرہ اس لیے قابل مدح ہے تاکہ نبی کریمﷺ کے لائے ہوئے دین سے وفاداری میں پختگی لائے جائے ۔ اس لیے نہیں ہوتے کہ خلاف شریعت امور کو رواج دیاجائے۔

اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ولادت نبوی کی مناسبت سے اس مہینے میں بلا شبہ نبی کریم ﷺ کی یاد میں ایسی دینی مجالس منعقد کی جائیں جو روح شریعت کے موافق ہوں اور ان میں سیرت النبیﷺ کو عملا اپنانے کی بھرپور دعوت ہو اور یہ تبھی ہوگا جب خود وہ پروگرام اور اس کی انتظامیہ شریعت کے رنگ میں رنگی ہوئی ہوگی !

(Visited 52 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں