ڈاکٹر ابراہیم خلیل کی 5 کروڑ تاوان کی تحقیقات کی جائیں گی، ڈی آئی جی

کوئٹہ: ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ کا کہنا ہے کہ سول اسپتال کے نیورو سرجن ڈاکٹر ابراہیم خلیل کی 5 کروڑ تاوان کی ادائیگی کے نتیجے میں بازیابی کی تحقیقات کی جائیں گی۔

میڈیا سے گفتگو میں ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر ابراہیم خلیل کا اغوا اور بازیابی سے متعلق بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکٹر ابراہیم خلیل کے اغوا میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ واضح رہے کہ سول اسپتال کوئٹہ کے نیورو سرجن ابراہیم خلیل کو 13 دسمبر 2018 کو کوئٹہ کے علاقے شہباز ٹاؤن سے اغواء کیا گیا تھا۔

وہ 30 جنوری کو 48 روز بعد اپنے گھر پہنچے، جس کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کی رہائی 5 کروڑ روپےکے لگ بھگ تاوان کی ادائیگی کے بعد ممکن ہوئی۔ چیئرمین ڈاکٹرز ایکشن کمیٹی ڈاکٹر ظاہر مندوخیل کا کہنا تھا کہ حکومت کا ڈاکٹر ابراہیم کی بازیابی میں کوئی کردار نہیں، انہیں کراچی میں چھوڑا گیا اور وہاں سےکوئٹہ پہنچے۔

کوئٹہ کے مغوی سرجن ابراہیم خلیل گھر پہنچ گئے

اس حوالے سے نیورو سرجن کے بھتیجے نے  بتایا تھا کہ اغواء کاروں نے ڈاکٹر ابراہیم خلیل کو کراچی میں چھوڑا، جہاں سے وہ فلائٹ لے کر بذریعہ جہاز کوئٹہ پہنچے۔

گذشتہ روز چیئرمین ڈاکٹر ظاہر خان مندوخیل  کی زیر صدارت ڈاکٹرز ایکشن کمیٹی کے جنرل باڈی اجلاس میں ڈاکٹر ابراہیم خلیل کی تاوان کی ادائیگی کےعوض بازیابی کو حکومت کی ناکامی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا تھا کہ نیورو سرجن کے خاندان کی طرف سے ادا کیے گئے تاوان کا ازالہ کیا جائے۔

اجلاس میں ڈاکٹر ابراہیم خلیل کے اغواء کاروں کی فوری گرفتاری یقینی بنانے اور ڈاکٹروں کے لیے فوری طور پر اطمینان بخش سکیورٹی پلان بنانے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔

Leave a Reply