آج کل

‏اگر میں مانگ لیتا تو …..جوریہ ملک

اگر میں مانگ لیتا تو—-
‏تجھے میں نے ہے چاہا بس
‏کسی سے بھی نہیں مانگا
‏مجھے معلوم تھا شاید
‏اگر میں مانگ لیتا تو
‏اک طوفان آنا تھا
‏بکھر جانا تھا سب کچھ یہ
‏بہت نقصان ہونا تھا

‏جو بے معنی سے رشتے ہیں
‏کہ جن میں کچھ دراڑیں ہیں
‏انہوں نے ٹوٹ جانا تھا
‏تیرے گھر میں مسائل تھے
‏میرے گھر میں مسائل تھے
‏اگر مسلے یہ مل جاتے
‏تو اک سیلاب آنا تھا
‏محبت کون تکتا پھر
‏یہ سب کچھ بہہ ہی جانا تھا!

‏یہی کچھ سوچ کر میں نے,
‏دل پہ رکھ لیا پتھر
‏اور کمرے میں جا کر پھر
‏دروازہ بند کر ڈالا

‏ برسوں کی رفاقت کا
‏میری پہلی محبت کا
‏وہیں پہ خون کر ڈالا

‏مگر میں اب بھی زندہ ہوں
‏اسی امید پر جاناں!——
‏ —————
‏ ————————
‏اگر میں مانگ لیتا تو———–
‏توشاید——–
‏———————مل ہی جاتے تم

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *