کیا آپ “شکستہ دل سنڈ روم- Broken Heart Syndrome” کے بارے میں جانتے ہیں؟

شکستہ دل سنڈ روم- Broken Heart Syndrome

سوئٹز ر لینڈ کے سائنسی محققین نے “شکستہ دل سنڈ روم – Broken Heart Syndrome ” کی غیر معمو لی صورت حا ل سے دوچا ر افراد پر تحقیق کی ہے۔ اس میں دل کا کمز ور پڑجا نا اور نا کا م ہو جا نا اچا نک ہوتا ہے اور یہ عا م طو ر پر کسی تناؤ یا جذبا ت واقعے جیسے کسی کے مر نے ، کھو جا نے یا جد ا ہو جا نے کے نتیجے میں ہوتا ہے ۔

اس کو ابھی پو ری طر ح سمجھا نہیں جا سکا ہے لیکن یورپی ہا رٹ جنرل میں یہ اشارہ ملتا ہے کہ تناؤ یا دباؤ میں ذہنی ردعمل اس میں اپنا کردار ادا کرتا ہے ۔

اسے تا کو ٹسو بو سنڈ روم بھی کہا جا تا ہے جو انسا ن کے ٹو ٹے ہو ئے دل سے اسی نا م کے جا پا نی بر تن سے مشا بہ ہے ۔ شکستہ دل بند ہو نے سے ہوتا ہے لیکن اسکی علا مات ایک جیسی ہیں یعنی سا نس لینے میں دشواری اور سینے میں درد ۔ عا م طو ر پر کوئی نا خوشگوار واقعہ اس کا محر ک ہو تا ہے لیکن شا دی یا نئی ملا زمت جیسے کسی برے پر جو ش مو قعے کو بھی اس سے منسلک کیا جا تا ہے ۔ یہ عارضی ہو سکتا ہے اور دل کے پھٹے وقت کے ساتھ ٹھیک ہو جا ئیں لیکن بعض اوقات بعض لو گو ں کے لئے یہ مہلک بھی ثابت ہو تا ہے ۔ ایک اندا ز ے کے مطا بق بر طا نیہ میں ہر سا ل تقریباً ڈھا ئی ہز ار لو گ اس کیفیت سے دوچا ر ہو تے ہیں۔

اس کے قطعی سبب کا علم نہیں ہے لیکن ما ہر ین کا خیال ہے کہ اس کا تعلق دباؤ میں ذہنی رد عمل اس میں اپنا کردار اد ا کرتا ہے۔اسے تا کو ٹسو بو سنڈ روم بھی کہا جاتا ہے جو انسا ن کے ٹو ٹے ہوئے دل سے اسی نا م کے جا پا نی بر تن سے مشا بہ ہے ۔ شکستہ دل بند ہو نے سے ہوتا ہے لیکن اسکی علا ما ت ایک جیسی ہیں یعنی سا نس لینے میں دشواری اور سینے میں درد۔ عا م طو ر پر کو ئی ناخوشگو ار واقعہ اس کا محر ک ہو تا ہے لیکن شا دی یا نئی ملا زمت جیسے کسی بڑے پر جو ش موقعے کو بھی اس سے منسلک کیا جا تا ہے ۔ یہ عارضی ہو سکتا ہے اور دل پٹھے وقت کے ساتھ ٹھیک ہو جائیں لیکن بعض لو گو ں کے لئے یہ مہلک بھی ثا بت ہو تا ہے ۔ ایک انداز ے کے مطا بق بر طا نیہ میں ہر سا ل تقریباً ڈھا ئی ہز ار لو گ اس کیفیت سے دوچا ر ہوتے ہیں ۔ اس کے قطعی سبب کا علم نہیں ہے لیکن ما ہر ین کا خیا ل ہے کہ اس کا تعلق دباؤ کے ہا رمو ن ایڈ رینی لائن کی بڑھی ہوئی سطح سے ہو سکتا ہے۔

نر یو رچ یو نیو رسٹی میں ڈاکٹر جلینا غادری اور ان کے سا تھیو ں نے شکستہ دل سنڈ روم والے 15مر یضو ں کے دما غ کی جا نچ کی کہ ان کے دماغ میں کیا ہو تا ہے ۔ ان کے دماغ کے اسکین کا مقا بلہ جب 39 صحت مند افراد کے اسکین سے کیا گیا تو واضح فر ق نظرآیا ۔ اس میں دماغ کا جو حصہ جذبا ت اور غیر حسا س یا جسم کے خو د کا ر ردعمل جیسے دھڑکن وغیرہ کو کنٹرول کر تا ہے اس حصے سے بہت کم مواصلا ت دیکھے گئے۔

دما غ کے یہ حصے وہ ہیں جن کے با رے میں کہا جا تا ہے دباؤ کے ردعمل کو کنٹرول کر تے ہیں ۔ ڈاکٹر غا دری نے کہا جذبا ت کو دما غ میں پرائس کیا جا تا ہے اس لئے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اس بیما ری کی ابتدا دما غ میں ہو تی ہے جو اوپر سے نیچے آتی ہے اور دل کو متاثر کر تی ہے۔ اس کے قطعی طو ر پر صحیح راستے کو پوری طرح نہیں سمجھا جا سکا ہے اس لئے اس ضمن میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے ۔ دل کی شکستگی سے دوچا ر مریضوں کے دما غ کے اسکین اس سنڈ روم سے قبل اور اسکے ہونے کے وقت کے موجود نہیں ہیں اس لئے محققین یہ با ت قطعیت کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ آیا دماغ کے اس سے مواصلا ت میں کمی تاکو ٹسو بو سنڈ روم کا سبب ہے یا اسکا الٹ درست ہے۔

بادام بھگو کر کھانا صحت کے لیے کس حد تک فائدہ مند؟

کارڈیو ما یو پیتھی یو کے چیف ایگز یکٹیو جوئل روز نے کہا : یہ اہم تحقیق ہے جس سے ہمیں کارڈیو مایوپیتھی کی ایک قسم کو سمجھنے میں مد د ملے گی جسے عا م طو رپر نظر اند ار کیا جا تا ہے اوروہ اب تک نا قابل حل پہلی بنا ہو ا ہے ۔ انہو ں نے مز ید کہا : تا کو ٹسو بو کارڈ ما یو پیتھی سے دوچا ر افراد جن کی ہم مد د کر تے وہ یقینا ان حالات میں دماغ کے کردار کو سمجھنے کی کوششوں کا خیر مقدم کر یں گے دوسروں کے مقا بلے میں بعض لو گ اس سے زیا دہ متا ثر کیوں ہوتے ہیں. ہمیں امید ہے کہ اس تحقیق سے اس شعبے پر مز ید روشنی پڑے گی اور نیو روسا ئنسدانو ں اور کارڈیو کے ماہرین کے درمیان وسیع تعا ون ہو گا ۔ برٹش ہا رٹ فاؤنڈ یشن ما لی امداد پا نے والی ایبر دین یونیورسٹی کی پر وفیسر ڈانا اوسن نے کہا : یہ تحقیق ان چیز وں کی تصدیق کر تی ہے جس کے متعلق ہمیں بہت پہلے سے شبہ تھا کہ تا کو ٹسو بو میں دما غ اور دل کا کو ئی نہ کو ئی رشتہ ہے۔
جوئل روز

(Visited 8 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں