ایمنسٹی سکیم : ٹیکس گزاروں کے تحفظات

اثاثے

ایک صدارتی حکم نامے کے تحت اثاثے ظاہر کرنے کی ایمنسٹی سکیم میں توسیع کا فیصلہ کیا گیا ، جس کا مقصد بقول چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو یہ ہے کہ جو لوگ اس سکیم کے تحت اپنے ریٹرن فائل کرنے کے مراحل میں ہیں انہیں مزید وقت دیا جائے ۔

ایف بی آر کے چیئرمین کے مطابق اب تک پچاسی ہزار افراد اس سکیم کے تحت اپنے ریٹرن جمع کروا چکے ہیں اور مزید کئی افراد ابھی آ رہے ہیں۔

اگرچہ پاکستان میں آئی ایم ایف کے نمائندے نے اس سکیم کے حوالے سے تحفظات ظاہر کئے ہیں بقول ان کے ٹیکس ایمنسٹی سکیم معیشت کے لیے بہتر نہیں ۔ انہوں نے ایسی سکیم کو ٹیکس گزاروں کے ساتھ بھی زیادتی قرار دیا ہے تاہم اس معاملے میں کوئی یونیورسل اصول متعین کرنا مناسب نہیں ہو گا۔ ٹیکس نظام اور سکیمیں ملکوں کے اپنے حالات کے پیش نظر وضع کی جانی چاہئیں۔

پاکستان میں ایسی سکیموں کی ضرورت اس لیے پیش آرہی ہے کہ ہم اپنی معیشت کو دستاویزی صورت میں لانا چاہتے ہیں۔ یقیناً ٹیکس ایمنسٹی سکیمیں ہمیشہ کے لیے کوئی قابل عمل یا مفید طریقہ کار نہیں ہو سکتیں مگر وقتی طور پر اس طریقے سے ہی اگر کچھ فائدہ حاصل ہوتا ہو تو اس میںکیا حرج ہے۔ تاہم حکومت کو اس معاملے پر بھی کڑی نظر رکھنا ہو گی اورماضی کی سکیموں کی کامیابی کا جامع تجزیہ کرنا ہو گا۔ حالیہ سکیم کے نتائج کو بھی دیکھنا ہو گا اور نتیجہ اخذ کرنا ہو گا کہ ان سکیموں سے ملکی معیشت کو کتنا فائدہ ہوا ہے۔

ان سکیموں کے اثرات کا جائزہ لیے بغیر صرف اس غرض سے انہیں شروع کردیناکہ وقتی طور پر کچھ گمنام اثاثے ٹیکس نیٹ میں آ جاتے ہیں اور حکومت کو اس سے یک مشت بہت سا ریونیو حاصل ہو رہا ہے ملکی معیشت کے حق میں سود مند نہیں۔ اس طرح بد عنوانی اور دیگر غیر قانونی ذرائع سے دولت بنانے اور کئی سال تک اثاثے خفیہ رکھنے کا رجحان ختم نہ ہو گا۔ حکومت کو اس معاملے میں سخت پالیسی اختیار کرنا ہو گی۔

ایک حتمی نقطہ مقرر کرنا ہو گا جس کے آگے کوئی ایمنسٹی سکیم نہ ہو ۔ ابھی تک ہمارے ملک میںٹیکس معاملات میں قانون کی سختیاں بروئے کار آتی نہیں دیکھی گئیں یہی وجہ ہے کہ قومی فرض تصور کرتے ہوئے ٹیکس ادائیگی کا رجحان بھی پروان نہیں چڑھ سکا۔ کرپشن دھڑلے سے ہوئی، لوگوں نے ذرائع آمدنی وسائل اور اثاثے خفیہ رکھے پوچھنے والا کون تھا۔ریاست کا ریونیو بڑھا کر اپنے قومی وسائل میں اضافہ کر کے نظام مملکت چلانے کے لیے کوئی فکر مند نہ تھا۔

آئی ایم ایف کی آندھی، عوام کی چیخیں

قرضے آسانی سے مل جاتے تھے سو لیتے چلے گئے۔ دیکھا جائے تو اب قومی معیشت میں ہم ایک نئے اور مختلف دور میں داخل ہو رہے ہیں کم از کم دعویٰ یہی کیا جارہا ہے اور عام لوگ باور یہی کرتے ہیں کہ اب چھوٹے بڑے سبھی کو اپنے حصے کا ٹیکس دینا ہو گا۔ نظام معیشت میں شفافیت آئے گی خفیہ اور بے نامی جائیدادیں رکھنا اب پہلے کی طرح آسان اور ممکن نہ رہنے دیا جائے گا۔ بظاہر تصور تو بہت اچھا ہے اور عام شہری اس کی کھل کر حمایت بھی کرے گا کیونکہ عام آدمی جانتا ہے کہ اگر ٹیکس وصولی پوری ہو تو صحت تعلیم سمیت بہت سی سہولتوں میں بہتری آ سکتی ہے۔

ایک خبر یہ ہے کہ امتناعِ بے نامی ٹرانزیکشن ایکٹ 2017 کے تحت ایک ادارہ قائم کیا جا رہا ہے جو خفیہ اثاثے رکھنے والے افراد کے خلاف کارروائی کا مجاز ہو گا۔ اس ادارے کے سربراہ اور ارکان کے ناموں کے نوٹیفیکیشن بھی جاری ہو چکے ہیں۔ بارِ دگر یہ کہتے چلیں کہ بظاہر مقصد بہت اچھا ہے خفیہ جائیدادوں اور ان کے مالکان کے خلاف کارروائیوں کے لیے کوئی ادارہ یا نظام ضرور ہونا چاہیے اور اگلے کئی برس اس معاملے میں نہایت دلجمعی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر اس سے پیشتر یہ تسلی کر لی جائے کہ یہ بڑی ذمہ داری جن صاحبان کو دی جا رہی ہے کیا وہ اسے نبھانے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہیں بھی یا نہیں۔

(Visited 4 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں