May 18, 2021

آج کل

Daily Aajkal News site

خلا

فائل فوٹو

12 اپریل خلا میں انسانی سفراور راکٹ کی ایجاد کا عالمی دن

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جن لوگوں نے زندگی کی مشکلات سے سبق سیکھ کر محنت کی اور جینے کے نئے راستے اپنائے اور اپنے ۔کارناموں سے ان لوگوں نے تمام انسانیت کو فائدہ پہنچایا، ان کے دینا سے جانے کے بعد بھی ان کو یاد رکھا جاتا ہے۔

یہ عظیم لوگ مخالفین کیوجہ سے ہمت نہیں ہارتے بلکہ ان سے مقابلہ کرتے ہیں ایسے ہی ایک عظیم شخص ربرٹ ایچ گوڈارڈ کے بارے میں ہم بات کریں گے جنہیں بیسویں صدی کے (فادر آف راکٹز) کہا جاتا ہے ۔ یہ وہ سائنسدان ہیں جنہوں نےدنیا میں خلائی سفر کرنے کے لیے سب سے پہلے راکٹ ایجاد کیا۔

رابرٹ ایچ گواڈارڈ  5 اکتوبر 1882 میں امریکی ریاست میساچوسٹس میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں ہی فلکیات میں دلچسپی کیوجہ سے والدین نے دوربین خرید کر دی جس سےوہ رات کو چاند ستاروں کا مشاہدہ کرتے۔

 ان کے ذہین میں یہ خیال رہتا کہ کیا انسان خلا میں سفرکر سکتا ہے انہی سوچوں میں ایک دن رابرٹ نے اپنے اندر کچھ غیر معمولی ذہانت کا اندازہ لگایا کہ وہ کچھ ایسا کر سکتے ہیں جس طرح  کا  کام پوری  دنیا میں ابھی تک کسی نے نہیں کیا  یہ خیال ان کے ذہن میں سولہ سال کی عمر میں آیا ۔

اس دن کے بعد رابرٹ نے اپنی زندگی راکٹ بنانے کے لئے وقف کر دی تاکہ خلا میں سفر کرنا ممکن ہو سکے اور اسی دوران انہوں نے میساچوسٹس سے گریجوئیشن کے بعد  کلاک یونیوسٹی سے پی ایچ ڈی کی اور وہیں درس و تدریس کرنا شروع کر دیا۔

خلا
رابرٹ گوڈارڈ )فائل فوٹو)

اسی یونیورسٹی میں رابرٹ نے راکٹ بنانے پر اپنی تحقیق شروع کر دی ، یونیورسٹی میں آلات کی کمی ہونے کے باوجود  رابرٹ نے راکٹ موشن کے متعلق اہم دریافتیں کیں ۔ جس پر انہیں سمتھ  سونین انسٹی ٹیوٹ نے 5 ہزار ڈالرز کے فندز جاری کیے۔

رابرٹ نے کہا کہ اگر راکٹ میں مائع ایندھن استعمال  کیا جائے تو ممکن ہے کہ انسان خلا میں جاسکے ، اس تحقیق کا شائع ہونا ہی تھا کہ ہر طرف سے مخالفین کی طرف سے تنقید کا سامنا شروع ہو گیا حتیٰ کہ 1921 میں نیویارک ٹائمز کے ایڈیٹوریل  میں بھی ان کے خلاف کہا گیا کہ انہیں راکٹ سائنس کا کچھ علم نہیں اور نہ جانے کہاں سے یہ تعلیم حاصل کر کے آگئے ہیں ، اگر کچھ جانتے ہوتے تو ایسی تحقیق نہ کرتے۔

اور پچاس سال بعد جب اپوالیون کی کامیاب لینڈنگ کے بعد نیل آرم اسٹرانگ چاند پر اپنا پہلہ قدم رکھ کر امریکہ واپس آیا تو نیویارک ٹائمز کو اپنی غلطی پر شرمندگی ہوئی جس پر اخبار والوں نے بقاعدہ معذرت بھی کی۔

ان کا یہی فارمولا جرمنی کو معلوم ہو گیا تھا تو انہوں نے مائع ایندھن پر چلنے والا راکٹ خلا میں بھیجا لیکن یہ راکٹ اپنا کام کرنے میں فیل ہو گیا اور زمیں پر آ کر تباہ ہو گیا۔ اس بات سے رابرٹ بہت پریشان ہوا تو اس نے ہمت نہ ہاری بلکہ ذیادہ محنت اور لگن سے کوشیش جاری رکھی ۔

اس طرح آخر کار 16 مارچ1926 میں رابرٹ نے پہلے راکٹ کا کامیاب تجربہ کیا اور خلائی سفر کے نئے دور کا آغاز کیا ۔ اسی دوران رابرٹ نے راکٹ کے ساتھ ایک بیرومیٹر جو کسی چیز کی سمت بتاتا ہے کے علاوہ ایک کیمرہ بھی لگایا۔

انہیں مون مین کا خطاب بھی دیا گیا کیونکہ یہ پہلا سائنسدان تھا جس نے راکٹ کے ذریعے چاند پر جانے کا تصور دیا ۔

اگست 1945 میں  رابرٹ گواڈرڈ کی وفات ہو گئی ۔اور اس کی موت کے بعد اس کے کام پر سائنسدانوں نے ذیادہ محنت کرنا شروع کردی اور 12 اپریل 1961 میں پہلی بار انسان نے چاند کیطرف سفر شروع کیا  تھا اور اسی سفر کیوجہ سے اقوام متحدہ  کے زیر اہتمام دنیا میں 12  اپریل کو  خلائی پرواز کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔

 اور رابرٹ گوڈارڈ کو خصوصی خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔