شراب پینے والے کے دماغ‌ میں کیا تبدیلی آتی ہے ؟

 یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں کہ شراب انسان کی ذہنی و جسمانی صحت کو تباہ کر کے رکھ دیتی ہے۔

تاہم اب سائنسدانوں نے شراب کے عادی افراد کے دماغوں کے سکین کرکے دنیا کو بتا دیا ہے کہ شراب دماغ کے کن حصوں کو تباہ کرتی ہے اور کتنا تباہ کرتی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق جرمنی اور سپین کے سائنسدانوں کی اس مشترکہ تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ شراب پینے سے دماغ کے وہ حصے شدید متاثر ہوتے ہیں جو جذبات، روئیے اور یادداشت کو کنٹرول کرتے ہیں۔

شراب کے عادی افراد کے دماغوں کے سکین میں یہ بات سامنے آئی کہ ان کے دماغ کے یہ حصے بہت حد تک غیرمتحرک ہو چکے تھے اور ان کے شراب چھوڑنے کے کئی ہفتے بعد بھی ان حصوں میں کوئی نمایاں سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی۔

اس تحقیق میں سپین کے ’سپینش انسٹیٹیوٹ آف نیوروسائنس‘ اور جرمنی کے سنٹرل انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کے سائنسدانوں نے 126  افراد کے دماغوں کے سکین کیے۔ ان میں سے 90 شراب کے عادی تھے اور اسی مسئلے کے باعث انہیں ہسپتال داخل کیا گیا تھا جبکہ 36 ایسے تھے جو شراب نہیں پیتے تھے۔

جب ان دونوں طرح کے لوگوں کے دماغوں کے سکین کا موازنہ کیا گیا تو ان میں بہت نمایاں فرق سامنے آیا۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر سین تیاگو کینلز کا کہنا تھا کہ ”جو لوگ شراب نہیں پیتے تھے ان کے دماغ کے جذبات، روئیے اور یادداشت کو کنٹرول کرنے والے حصے شراب کے عادی افراد کی نسبت کئی گنا زیادہ متحرک تھے۔

مسلمانوں کو زبردستی خنزیر کھلایا اور شراب پلائی جانے لگی

ان حصوں کے نام ہیپوکیمپس (Hippocampus)اور ’پری فرنٹل کورٹیکس‘ (Prefrontal Cortex)ہیں جو شراب کے عادی افراد میں تباہ اور بہت حد تک غیرمتحرک ہو چکے تھے۔

ہماری تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ایک بار شراب کی لت سے دماغ کے ان حصوں کو جو نقصان پہنچتا ہے اسے دوبارہ ٹھیک کرنا ناممکن ہوتا ہے بلکہ بعد میں شراب چھوڑ دینے کے باوجود یہ نقصان شدید تر ہوتا چلا جاتا ہے۔“

Next Post

Discussion about this post

ایڈیٹوریل

ضرور پڑھیں

Welcome Back!

Login to your account below

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Add New Playlist

%d bloggers like this: