پروڈکشن آرڈر قوانین اور سیاسی گرفتاریاں

وزیراعظم

وفاقی حکومت نے پروڈکشن آرڈرقوانین میں ترمیم کا فیصلہ کیا ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان نے کابینہ کو ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ منی لانڈرنگ اور کرپشن میں ملوث ارکان کے پروڈکشن آرڈرجاری نہیں ہونے چاہئیں ارکان اسمبلی پروڈکشن آرڈر کا غلط فائدہ اٹھاتے ہیں انہیں سیاسی قیدیوں کا پروٹوکول نہ دیا جائےحکومت کا راناثنا اللہ کی گرفتاری سے کوئی تعلق نہیں ۔

واضح رہے کہ رانا ثنا اللہ پنجاب کابینہ میں وزیر قانون بھی رہ چکے ہیں اور ن لیگ کے ایک سرگرم رہنما ہیں جو برسر اقتدار حضرات کے بیانات کا ترکی بہ ترکی جواب دیتے تھے، ان کی گرفتاری پر فیصل آباد میں کارکنوں نے احتجاج بھی کیا،پولیس نے متعدد کارکنوں کو گرفتار کیا اور قریباً ایک سو افراد کے خلاف مقدمہ بھی درجکرلیا ۔ لاہور ضلع کچہری میں انہیں پیش کیا گیا تو سخت ترین حفاظتی انتظامات کئے گئے،پولیس کے مطابق چار سو اہلکار ڈیوٹی پر مامور تھے،ان میں اینٹی رائٹ پولیس اہلکار بھی تھے جنہیں خصوصی تربیت اور آلات فراہم کئے گئے ۔

رانا ثنا اللہ بلاشبہ ایک متحرک رہنما ہیں ،ماضی میں ایک بار ان کو اغوا بھی کیا گیا،تشدد اور سر وغیرہ کے بال مونڈ کر چھوڑ دیا گیا تھا، تاہم اِس بار ان کو گم نہیں کیا گیا اور ان کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج ہے ۔ رانا ثناء اللہ کی گرفتاری پر تمام سیاسی جماعتوں نے احتجاج کیا اور مسلم لیگ ن کے اجلاس میں احتجاج کا پروگرام بھی بنایا گیا ہے، ان کی گرفتاری خصوصاً ایف آئی آر کو عوام نے مشکوک نظروں سے دیکھا ہے۔

جبکہ وفاقی و صوبائی حکومتی حلقوں نے لاتعلقی کا اعلان کر کے اسے اے این ایف کی صوابدید قرار دیا ۔ مسلم لیگ ن نے قانونی لڑائی کے ساتھ سیاسی جدوجہد کا بھی اعلان کیا ہے ۔

اس موجودہ سیاسی منظر نامے میں جو سوالات ابھر رہے ہیں ان کا جواب آنا ضروری ہو چکا ہے ۔ کیا حکومت یہ پوزیشن لیکر محض  آج کو ذہن میں رکھ رہی ہے یا کوئی مستقبل کا خاکہ بھی اس کے ذہن میں ہے  کیا پروڈکشن آرڈرز کا کوئی غلط استعمال کر رہا ہے ۔ محض الزامات کی بنیاد پر سیاست دانوں کے خلاف ذہن بنایا جا رہا ہے ۔ ہائی پروفائل گرفتاریوں سے سیاسی ماحول میں تلخی آئے گی اس سے معیشت کے رہے سہے اعتماد کا ستیاناس ہوگا ۔

موجودہ حالات میں جب حکومت اپنے بڑے بڑے حریفوں کو جیل یاترا کرا بیٹھی ہے اور ایوان میں محاذ آرائی میں اپنا حصہ ڈال کر بجٹ کو حیران کن طور پر پاس کرا چکی ہے تو ایک خیال یہ بھی تھا کہ نئے مالی سال کے آغاز میں حکومت ایک منجھی ہوئی اور سنجیدہ طرزِ سیاست کو لےکر چلے گی کیونکہ حکومت کے تمام امتحانات بظاہر ختم ہو چکے تھے ۔ مگر چند دن پہلے وزیراعظم کے آدھی رات کے خطاب کی دھمک ابھی باقی تھی اور حکومت نے اسی راستے پر چلنے کا مظاہرہ کیا ۔

ایک جانب تلخ ترین بجٹ نافذ ہو چکا ہے اور دوسری جانب اسی روز اپوزیشن کے بڑے رہنما رانا ثنا اللہ کی ڈرامائی طور پر منشیات برآمدگی میں گرفتاری ڈال دی گئی ۔ یہ بڑا قدم بجٹ کے پہلے اور دوسرے روز سب پر بھاری پڑ گیا اور ملک کے طول و عرض میں اس کی گونج سنائی دے رہی ہے ۔ اپوزیشن کو ظاہر ہے ایک خوفناک سگنل مل چکا ہے کہ کوئی سر ہرگز سلامت نہیں رہے گا خواہ کرپشن ہو یا نہ ہو ۔

ایمنسٹی سکیم : ٹیکس گزاروں کے تحفظات

واضح ہو چکا کہ سیاسی عناصر نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا، اس تمام صورتحال میں تلخی اس وقت مزید بڑھ گئی جب وزیراعظم نے حکومتی ٹیم کو پروڈکشن آرڈرزکے حوالے سے نئی ہدایات اور حکمت عملی بنانے کو کہا کہ کرپشن اور منی لانڈرنگ میں ملوث ارکان اسمبلی کو ہرگز اسمبلی کے فلور کی آڑ نہ لینے دی جائے ۔ اس کی آڑ میں سیاسی عزائم اور مقاصد نہایت مشکوک ہیں اور یہ احکامات محض کسی کی خواہش یا مرضی کے تابع نہیں بلکہ یہ ایک دستوری اختیار ہے جو سپیکر قومی اسمبلی کے پاس ہے جو وہ اس وقت استعمال کرتے ہیں جب ایوان میں کوئی اہم ترین آئینی ضرورت موجودہو ۔

لہذا عمران حکومت کو فیصلوں میں با اختیار ہونے کے ساتھ ساتھ حکمت کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے ۔ اس تمام صورت حال میں تمام سیاست دانوں کی مجموعی ذمہ داری یہ بن گئی ہے کہ محض الزامات پر ایک دوسرے کو چور اچکے اور کرپٹ کہنے اور سمجھے جانے کا کلچر ختم ہونا چاہئے ۔

گرفتاریوں اور فاشسٹ طریقوں کے بعد تحریک انصاف اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان فاصلے اور بھی بڑھے ہیں اور مزید بڑھنے کا امکان ہے، محاذ آرائی میں شدت ہو گی جو معروضی حالات میں ملک کے لئے بہتر نہیں ۔ حکمرانوں کو اپنے رویے اور اقدامات پر نظر ڈالنا ہو گی ۔

(Visited 5 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں