کرکٹ کو اوپر لے جانے کے لیے کام کروں گا، مصباح الحق

لاہور: قومی ٹیم کے نومنتخب ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق نے کہا ہے کہ ٹیم سلیکشن میں چیف سلیکٹر کی رائے اور فائنل الیون کپتانی کی ہونی چاہئے۔

تفصیلات کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر منتخب ہونے کے بعد مصباح الحق نے پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان کرکٹ کو اوپر لے جانے کے لیے کام کروں گا، دو اہم ذمہ داریاں دی گئی ہیں جنہیں نبھانے کی کوشش کروں گا۔

مصباح الحق نے کہا کہ جب بھی اسٹریٹیجی ہوتی ہے وہ وسائل پر مبنی ہوتی ہے، سمت ہمیشہ ہیڈ کوچ طے کرتا ہے، وقار یونس کے ساتھ بہت کام کیا ہے اور میرے ان سے اچھے ورکنگ تعلقات ہیں، ہمیں پتا ہے پیشہ وارانہ کام کیسے کرنا ہے۔

چیف سلیکٹر کا کہنا ہے کہ ڈائریکشن ہیڈ کوچ دیتا ہے، ایک دوسرے کی ڈومین میں نہیں جائیں گے، غلطیوں کو ماننے کا حوصلہ ہونا چاہئے، کوشش ہوگی ایسی ٹیم ہو جو اٹیکنگ کرکٹ کھیلے۔

قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ نے کہا کہ بولنگ کوچ کے لیے وقار اور وسیم بھائی سے اچھا کوئی آپشن شاید نہیں تھا، طویل کرکٹ کھیلی، تنقید برائے تنقید کو کیسے ہینڈل کیا سب نے دیکھا، دستیاب وسائل پر ہی حکمت عملی بنائی جاتی ہے۔

مصباح الحق نے کہا کہ 17 سال کرکٹ کھیلی ہے سب نے دیکھا تنقید کو کیسے ہینڈل کیا، جس نے گراؤنڈ میں کھلانا ہے اس کو پورا مینڈیٹ ملنا چاہئے، کوچ اور چیف سلیکٹر کو کپتان کی رائے کو اہمیت دینا چاہئے۔

ایم ڈی پی سی بی وسیم خان نے کہا کہ مصباح الحق کو موقع ملنا چاہئے، وہ قومی کرکٹ کو آگے لے جانے کے لیے رائٹ پرسن ہیں، کہا جاتا ہے ڈومیسٹک میں کئی کھلاڑی پرفارم کرتے ہیں چانس نہیں ملتا، ڈومیسٹک کے 6 کوچز کھلاڑیوں سے متعلق مصباح کو معلومات دیں گے۔

وسیم خان کا کہنا ہے کہ 6 کوچز کی معلومات ملنے کے بعد مصباح کے لیے کھلاڑی کو منتخب کرنا آسان ہوگا، مصباح ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر ہیں، ان پر پریشر ہے، ان کو تنخواہ کم کیوں دیں گے دہری ذمہ داری ہے تنخواہ بھی زیادہ ہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی مقابلے ہورہے ہیں، ہمارے لیے پاکستان کی کامیابی بہت ضروری ہے، ہم مصباح الحق کی کارکردگی کو ریویو کریں گے، ان کی 56 گیندوں پر سنچری یاد رکھیں، موقع کی مناسبت کو دیکھتے ہیں۔

وسیم خان نے کہا کہ 2020-21 میں اہم ایونٹس ہیں، مصباح کے تجربے سے فائدہ ہوگا، ان کا بہترین تجربہ ہے، ہم نے فیصلہ کیا انہیں موقع ملنا چاہئے۔

(Visited 27 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں