محبت کیا تمہیں لگتا ہے؟

محبت کیا تمہیں لگتا ہے؟

محبت کیا تمہیں لگتا ہے؟

ایک عارضی تجربہ ہے؟جو برپا ہو، گزر جائے؟
ایک رنگ جو اُتر جائے؟آرزو جو ڈھل جائے؟
موم کا مجسمہ جودھوپ میں پگھل جائے؟

محبت کیا تمہیں لگتا ہے؟

جنّات کا جو سایہ ہو
بھسم ھو جائے گا جو پُھونکوں سے؟
طلسم کوئی ہو جو طاری ہو؟
اُتر جائے گا جو روحوں سے؟
محبت کیا تمہیں لگتا ہے؟
کہانی ھے؟ اک فسانہ ہے؟
تیر ہے؟ نشانہ ہے؟
زمین ہے؟ زمانہ ہے؟

محبت کیا تمہیں لگتا ہے؟

محبت گر واقعی محبت ہو
اک سانحہ مسلسل ہے
اک حادثہ مسلسل ہے
وصل ھو تو غاصب ہے
ہجر ھو تو قاتل ہے
بلاۓ نا گہاں طاری
قلب و روح پر بھاری
اس بلا کا جادو گر زمین سے اُتر جائے
کہکشائیں پھٹ جائیں، آسماں بھی مر جائے
فصلِ نوعِ انسانی
یاجوج میں بدل جائے
زندگی کا سورج بھی
زرد ہو کے ڈھل جائے

کامران الصوفی
نومبر 2019
المقام
فیصل آباد

(Visited 54 times, 1 visits today)

Comments

comments

بزم شاعری, شاعری, محبت, محبت کیا تمہیں لگتا ہے؟,

اپنا تبصرہ بھیجیں