غیرت کا دائرہ کار عورت تک ہی محدود کیوں؟

عورت

یہ ایک مشہور قصہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں جب لوگوں نے کسی طوائف کو سنگسار کرنے کا فیصلہ کرکے اس پر سنگ باری کی تو اس طوائف نے حضرت عیسیٰ کے پیچھے خود کو چھپا لیا۔ لوگ پھر بھی اس پر مُصر تھے کہ اس عورت کو قتل کیا جائے، مگر حضرت عیسیٰ نے کہا کہ تم میں سے سب سے پہلا پتھر وہ شخص اس عورت کو مارے جس نے اپنی زندگی میں کوئی گناہ نہ کیا ہو اور اس طرح وہ عورت سنگسار ہونے سے بچ گئی۔

مگر دنیا میں آج بھی معصوم عورتیں سنگسار ہو رہی ہیں اور شاید آنے والے دنوں میں بھی ہوتی رہیں، کیوں کہ مرد یہاں خود کو پاک دامن اور عورتوں کو گناہگار ہی سمجھتے ہیں۔ لہٰذا یہ سنگ باری ہمیشہ عورت کے وجود کو ہی خون میں ڈبو کے رکھ دیتی ہے۔

آج جسے ہم جدید دور کہتے ہیں، وہ دور پتہ نہیں کہاں اپنی جدت کے جلوے دکھا رہا ہے، مگر آج بھی ہمارے معاشرے میں لوگوں کے ہاتھوں میں پتھر ہیں اور وہ کسی ایسی عورت کی تلاش میں ہیں، جس پر کوئی جھوٹا بہتان ہی کیوں نہ لگا ہو۔ پھر سب کے سب اپنا غصہ اور ہوس اُس عورت کو اپنے تئیں جہنم رسید کرکے نکالتے ہیں۔

سندھ میں کارو کاری والی رسم آج بھی چلتی آ رہی ہے۔ کسی عورت یا مرد کو جھوٹے الزام میں مار کر سرخرو ہونے یا غیرت مند کہلائے جانے کا اعزاز حاصل کرنے کے شوق میں کئی انسانی وجود آج بھی کلہاڑی یا بندوق کے ذریعے موت کے گھاٹ اتارے گئے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ کوئی انسان کسی زندہ انسان کو مار کر غیرت مند کیسے کہلاتا ہے اور پھر غیرت کا دائرہ عورت تک محدود ہوکر کیوں رہ گیا ہے۔ جب کہ کئی دیگر مسائل ہیں جن پر غیرت آنی چاہیے مگر ان معاملات پر ہمیں سانپ سونگھ جاتا ہے۔ لیکن عورت کو مار کر ہمیں لگتا ہے کہ زمین کو گناہوں سے پاک کر دیا ہے اور مارنے والے بھی وہی ہوتے ہیں جن کا اپنا دامن گناہوں اور گندے کاموں کے چھینٹوں سے لبریز ہوتا ہے۔

دو دن قبل ہی سندھ میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے، جس نے سب کے دل لرزا کے رکھ دیے ہیں۔ سندھ کے ضلع دادو میں ایک چھوٹے سے گاؤں میں قبائلی رسم کے تحت بلائے گئے ایک جرگے میں 14 سالہ بچی پر کاری کا الزام لگا کر اسے مبینہ طور پر سنگسار کرکے قتل کیا گیا۔

مقامی افراد کے مطابق چند روز قبل ایک قبائلی جرگہ ہوا تھا، جس میں بچی گل سماں رند کو کاری قرار دے کر سنگسار کرنے کا حکم دیا گیا تھا، جس کے بعد گل سماں کو سر پر پتھر مار کر ہلاک کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر چلنے والی ایک ویڈیو میں اس کے والدین پولیس کو بلوچی زبان میں بتا رہے ہیں کہ ان کی بچی سر پر پہاڑی تودہ گرنے سے ہلاک ہوئی، اگر اسے کاری قرار دے کر ہلاک کیا جاتا تو اس کی نماز جنازہ کیوں پڑھائی جاتی؟

سرفروشی کی تمنا اور میرا دکھ…!

واہی پاندھی پولیس نے پہلے ایک مذہبی شخص کو حراست میں لیا، جس نے لڑکی کی نماز جنازہ پڑھائی تھی اور پھر اس کی رہنمائی میں لڑکی کے والدین کے گھر پہنچے۔ ایف آئی آر کے مطابق لڑکی کے والد، ان کے رشتے دار اور چار دیگر افراد نے بچی کے قتل کی سازش کی اور اسے پتھر مار مار کر قتل کردیا گیا۔

ابھی چند روز قبل ہی کوٹ ڈی جی میں خانزادی کو جعلی عامل نے تشدد کا نشانہ بنا کر مار ڈالا تھا۔ اس کی تو شاید قبر کی مٹی بھی خشک نہیں ہوئی ہوگی کہ ایک اور جواں سال لڑکی کو سنگسار کرکے اس کی جان لے لی گئی۔

اس قسم کے واقعات ہمارے ہاں ہونا انہونی نہیں ہے۔ ہر سال ایسے واقعات نہ صرف ہوتے ہیں بلکہ ان کی تعداد بھی بڑھتی ہی جاتی ہے۔ اگر کسی عورت کو قتل کرکے انسان عزت کما سکتا ہے تو شاید ہم سے زیادہ عزت دار لوگ دنیا میں کہیں بھی نہیں ہوں گے۔ کیا کسی عورت یا لڑکی کی زندگی بچا کر عزت نہیں کمائی جاسکتی اور جسے ہم غیرت سمجھتے ہیں، کیا واقعی وہ غیرت ہے بھی یا ہماری جھوٹی انا ہے؟

کسی بھی عورت کو پتھروں سے اس طرح سنگسار کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں تو آتا ہی ہے مگر کیا یہ ملکی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے، جس کے مطابق کسی بھی ملزم کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنی صفائی پیش کرسکے۔

آج گل سماں کی سرد لاش ایک پہاڑ کے دامن میں دفن ہے۔ کیا گل سماں کے بعد کوئی اور لڑکی اس طرح سنگ باری کا شکار نہیں ہوگی۔ یا پھر ہماری غیرت کے معیار بھی وہی رہیں گے، جو صدیوں سے چلے آ رہے ہیں۔ اگر ہم گل سماں جیسی معصوم لڑکیوں کا جینا سہل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں نہ صرف غیرت کے معیار تبدیل کرنے ہوں گے  بلکہ اپنے ہاتھوں میں پتھر اٹھانے کی بجائے ان ہاتھوں کو خالی چھوڑنا ہوگا۔ منظر بھوپالی نے کیا خوب کہا ہے.

میرے ہی بزرگوں نے سر بلندیاں بخشیں

میرے ہی قبیلے پر مشق سنگ باری ہے

(Visited 72 times, 1 visits today)

Comments

comments

عورت,

اپنا تبصرہ بھیجیں