دنیا کی ایسی واحد مسجد جس کے محافظ سکھ ہیں..

برصغیر پاک و ہند کی تاریخ انتہائی دلچسپ ہے جہاں کئی تہذیبیں اور مذاہب اکٹھے رہے ہیں ۔اب بھی آزادی کے بعد کئی مذاہب اکٹھے رہتے ہیں اور انسانیت کا ایک روشن باب بھی دیکھنے کو ملتا ہے ۔

بھارت پنجاب کے علاقے ہرگوبندپور میں موجود ایک ایسی مسجد ہے جس کی حفاظت نہنگ سکھ کرتے ہیں، نیلا لباس زیب تن کئےیہ سکھ طویل عرصے سے مسجد کی رکھوالی کیلئے ہر دم چوکس اور تیار تلواریںاور کرپانیں تھامے رہتے ہیں.

940 1کی دہائی کے آخری برسوں میں جب ہندو، مسلمان، سکھ مذہب کے نام پر ایک دوسرے کے دشمن بن بیٹھے تھے،جب مندر، گردوارے اور مسجدیں ڈھائی جا رہی تھیں، نہنگ سکھوں کے سردار کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ اگر کوئی اس مسیت(مسجد ) کو نقصان پہنچائے گا تو ہم اسے قتل کر دینگے، وہ دن اور آج کا دن یہ مسجد ان کی نگرانی میں ہے ۔ مسجد کے احاطے میں نیلے کپڑے میں بندھا 50 فٹ لمبا ڈنڈا ایستادہ ہے جس پر دودھاری تلوار لٹک رہی ہے، اس بات کا اعلان ہے کہ مسجد کی حفاظت اب نہنگوں کے ہاتھ میں ہے۔

اس مسجد کی تعمیر کی کہانی کچھ یوں ہے کہ سکھوں کے چھٹے گرو ہرگوبند سنگھ نے جب 17 ویں صدی میں ہرگوبندپور بسایا تو شہر کے مسلمانوں کے لیے یہ مسجد تعمیر کروائی تھی۔

آب زم زم ایک معجزہ

وہ محض 11 سال کی عمر میں اس وقت سکھوں کے چھٹے گرو بنائے گئے تھے جب ان کے والد اور سکھوں کے پانچویں گرو ارجن دیو کو مغل بادشاہ جہانگیر کے حکم پر قتل کر دیا گیا تھا۔ مسجد کی محرابوں پر لکھی آیات مدھم ہوچکی ہیں، ٹائل پر قلم كاری سے بنے بیل بوٹوں کے رنگ جگہ جگہ سے اڑ گئے ہیں،مگر آس پاس پلستر اور بنا پلستر والے مکانات اور درختوں کے درمیان سے نظر آتے گنبد اس کے مسجد ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔

گذشتہ 35 برس سے مسجد کی دیکھ بھال کرنے والے بابا بلونت سنگھ کہتے ہیں کہ ‘یہاں کا چودھری گرو صاحب کو بہت برا بھلا کہتا تھا۔ ایسا کتابوں میں لکھا ہے۔ جنگ ہوئی جس میں وہ ہار گیااور مارا گیا۔ گرو نے کہا یہاں مندر نہیں بنے گا، گردوارہ نہیں بنے گا اور اس جگہ پر مسجد کی تعمیر کروائی۔

بابا بلونت سنگھ کے ساتھ موجود رجوت سنگھ کہتے ہیں، ‘گرو ہرگوبند ظلم کے خلاف لڑے. مذہب کے لیے نہیں۔ اس لیے انھوں نے لوگوں کے لیے یہ مسیت بنوائی۔

(Visited 445 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں