غزوہ ہند کیا ہے؟

غزوہ ہند

غزوہ ہند قیامت کی بہت سی نشانیوں میں سے ایک ہے. جب جب بھارت کا مقبوضہ کشمیر پر ظلم حد سے بڑھا ہے. “لبیک غزوہ ہند” کا نعرہ بلند ہوا ہے. غزوہ ہند ایک بشارت ہے جو مختلف احادیث سے واضح ہوتی ہے۔ احادیث کے مطابق غزوہ ہند مسلمانوں اور ہندووّں کے درمیان لڑی جانے والی ایک عظیم جنگ ہو گی اور یہ جنگ بھارت میں ہو گی۔ جس میں فتح مسلمانوں کا مقدر بنے گی.

غزوہ ہند سے متعلق سوالات :

جب بھی ہم غزوہ ہند سے متعلق کوئی بات کرتے ہیں ۔ تو بہت سارے سوالات ہمارے دل و دماغ میں جنم لیتے ہیں جیسے کہ
• غزوہ ہند کیا ہے ؟
• کیا غزوہ ہند لڑی جا چکی ہے ؟
• کیا غزوہ ہند ابھی لڑنی باقی ہے ؟
• غزوہ ہند کہاں لڑی جائے گی ؟
• غزوہ ہند کب لڑی جائے گی ؟
• کیا یہ کسی چھوٹے سے لشکر کی جنگ ہو گی ؟
• یا پھر لشکروں کے لشکر اس جنگ میں شرکت کریں گے ؟

مورخین کی مختلف رائے :

اس حوالے سے مختلف مورخین مختلف رائے رکھتے ہیں کوئی اسے چھوٹا سا لشکر سمجھتا ہے تو کوئی سمجھتا ہے کہ اس جنگ میں بہت سے لشکر شامل ہوں گے ۔ کوئی سمجھتا ہے اس غزوہ ہند میں قیامت تک لڑی جانے والی تمام جنگیں شامل ہیں ۔ تو کسی نے کہا محمد بن قاسم اور سلطان محمود غزنوی کا چڑھائی کرنا بھی اس غزوہ میں شامل ہے ۔ کسی عالم کا کہنا ہے کہ اس بارے میں فکر کرنے کی کوئی بات نہیں غزوہ ہند میں مسلمانوں سے فتح کا وعدہ کیا گیا ہے تو دوسرا مکتب فکر کہتا ہے کہ غزوہ ہند کے بارے میں بہت سے سوالات اٹھتے ہیں ۔

مسلمانوں سے فتح کا وعدہ :

حضرت ابو ھریرہؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے ہم سے غزوہ ہند کا وعدہ کیا ہے اور آپؐ نے ارشاد فرمایا ہے کہ
” کہ جو شخص اس جنگ میں شریک ہو گا پھر اگر وہ غازی بن کر لوٹا تو اللہ تبارک تعالیٰ اسے جہنم کی آگ سے آزادی عطا فرمائے گا اور اگر شہید ہوا تو وہ افضل الشہدا میں سے ہو گا ”

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی کی رائے :

اس بارے میں ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی کا کہنا ہے کہ ” غزوہ ہند سے مراد ہند کے خطے میں لڑی جانے والی ہر وہ جنگ ہے ہر وہ معرکہ ہے جو کسی بھی دور میں مسلمانوں ، ہندووّں اور مشرکوں کے درمیان لڑی جائے.. غزوہ ہند کا وہ اصل معرکہ جس کی بشارت حضور اکرمؐ نے عطا فرمائی ہے وہ حضرت سیدنا امام محدی کے دور میں وقوع پزیر ہوا. ”

مورخین کا اختلاف :

اس بارے میں مورخین کے درمیان گہرا اختلاف پایا جاتا ہے کوئی کہتا ہے کہ یہ جنگ بہت پہلے لڑی جا چکی ہے۔ تو کوئی کہتا ہے کہ یہ غزوہ ہند اس وقت ہو گی جب قیامت کی بڑی بڑی نشانیاں ظاہر ہوں گی۔ مثلا امام مہدی کا نزول. کسی کا ماننا ہے کہ ان روایات کو صرف سیاسی مقاصد کے لیئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ تو کوئی اس غزوہ ہند کی فضیلت کے گُن گا رہا ہے۔ تو کوئی اس غزوہ ہند میں تاریخی باتیں ڈھونڈتا دکھائی دیتا ہے ۔

غزوہ ہند کی فضیلت کیا ہے ؟

غزوہ ہند کی فضیلت کیا ہے ؟ اور یہ کس کس کے درمیان لڑی جائے گی ؟ اس بارے میں لوگ بہت عرصے سے معلومات اکٹھی کر رہے ہیں ۔ حارث بن مغیرہ ، محمد بن قاسم ، سلطان محمود غزنوی اور شہاب الدین غوری ہوں یا 65 اور 71 کی جنگ ۔ یا مسلمانوں اور ہندووّں کے درمیان لڑی جانے والی کوئی بھی جنگ ہو وہ غزوہ ہند میں شامل ہے ۔

غزوہ ہند کی حقیقت :

غزوہ ہند کی حقیقت کیا ہے ؟ اور اس میں کیا حکمت ہے ؟ یہ جاننے کے لیئے ہمیں پہلے ہندوستان کے بارے میں جاننا ہو گا اور پھر ہندوستان کی حقیقت جاننے سے پہلے ہمیں ہندو جودشیوں کے بارے میں جاننا ہو گا کہ وہ پاکستان کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ اُن پنڈتوں کی پریشانی یہ ہے کہ پاکستان اس کھٹن دور سے نکل کر ضرور آگے بڑھے گا اور بہترین دور میں داخل ہو گا ۔ اور یہی پنڈت سارے ہندوستان میں پاکستان کے خلاف باتیں کر رہے ہیں ۔

اللہ کا قانون :

یہ اللہ تعالی کا قانون ہے کہ جس قوم کو وہ فتح یاب کرنا چاہتا ہے اسکا خوف دشمن کے دل میں ڈال دیتا ہے ویسے سوچنے والی بات ہے شائد اسی وجہ سے مودی کو یہ خیال ستاتے رہتے ہیں کہ پاکستان آیا پاکستان اب کے اب آیا ۔
دشمن یہ بات اچھی طرح سے جانتا ہے کہ پاکستان شروع سے ہی غزوہ ہند کی تیاری میں لگا رہا اور اب یہ تیاری مکمل ہو چکی ہے ۔ اور اگر اسکی یہ کوششیں جاری رہیں تو انکا منہ توڑ جواب دینے کے لیئے مسلمان ہمیشہ تیار کھڑے ہیں ۔

ملک ہندوستان :

ہندوستان ایک وسیع سلطنت پر مشتمل ہے اور وہاں بہت سے مزاہب کے لوگ رہتے ہیں جیسے ہندو سکھ مسلمان وغیرہ ۔ اور اسطرح وہاں بہت سی زبانیں بولی جاتی ہیں ۔ فلموں ڈراموں آئی پی ایلز سے دنیا کے کونے کونے میں پہچنے والا انڈیا اب بھی توہم پرستی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا نظر آتا ہے ۔ لیکن انڈیا میں بیس کروڑ مسلمان بستے ہیں ۔
مورخ کا کہنا ہے کہ ” یہ ہندوستان کا کلچر ہے کہ وہاں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں لیکن وہاں ہندووّں کے بعد سب سے زیادہ مسلمان بستے ہیں ۔ اور اس وقت بیس کروڑ سے زائد مسلمان وہاں آباد ہیں ۔ لیکن اتنی بڑی تعداد وہاں ہونے کے باوجود انکا کوئی بظاہر اثر نظر نہیں آتا ۔

عشق کی انتہا :

حضرت حس بصری فرماتے تھے کہ ” اگر تم صحابہ کرام کو دیکھ لو تو تم ان کو دیوانہ کہو گے ”
مفتی عمران خان کا کہنا ہے کہ
” صحابہ کرام کی حضور اکرمؐ سے عشق کی انتہا یہ تھی کہ وہ ہر بات میں اللہ تعالی کی تعلیمات کو ترجیح دیتے تھے ۔ کیونکہ نبیؐ نے ان غزوات میں شرکت کے لیئے جنت کی بشارت دی ۔ تو وہ جنت میں داخل ہونے کے لیئے ان جنگوں میں شرکت کرتے تھے وہ اتنا شوق رکھتے تھے کہ اگر وہ شہید ہو جائیں گے تو جنت میں جائیں گے اور اگر بچ جائیں گے تو غازی بن جائیں گے اور فتح یاب کہلائیں گے ۔

حضرت حضیفہ بن سلمان سے مروی ہے کہ :
آپؐ نے فرمایا میری امت کے دو گروہ ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالی نے جہنم کی آگ سے محفوظ رکھا ہے ۔
پہلا گروہ وہ ہے جو ہند پر حملہ کرے گا اور
دوسرا گروہ وہ ہو گا جو حضرت عیسیؑ کے ساتھ ہو گا ۔

تین احادیث :

حضرت امام بن حمبل نےغزوہ ہند کے بارے میں تین احادیث منقول کی ہیں ۔
1) آپ روایت فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ھریرہ سے مروی ہے کہ حضورؐ نے ہم سے غزوہ ہند کے بارے میں وعدہ فرمایا ہے کہ اگر میں اس میں شہید ہو گیا تو میں بہترین شہید کہلاوں گا اور اگر میں لوٹ آیا تو آگ سے آزاد کیا ہوا ابو ھریرہ کہلاوں گا ۔
2) حضرت ابو ھریرہ نے حضور اکرمؐ سے غزوہ ہند کے فضائل دریافت کرتے ہوئے فرمایا یا رسول اللہ جب غزوہ ہند کے بعد حضرت مسیح تشریف فرما ہوں گے تو میں ان سے ملاقات کر کے یہ کہوں گا کہ میں آپکا صحابی ہوں تو آپؐ نے فرمایا اے ابو ھریرہ یہ بہت مشکل ہے آپکی تمنا اور خواہش کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے دو گروہوں پر جہنم کی آگ حرام کر دی
ایک گروہ جو غزوہ ہند میں شرکت کرے گا ۔
اور دوسرا وہ جو دجال کے ساتھ برسر پیکار ہو گا ۔
3) فرمایا میری امت میں سے ایک لشکر کو سندھ اور ہند کی طرف بھیجا جائے گا اگر میں اس میں شہید ہو گیا تو ٹھیک ہے اور اگر میں لوٹ آیا تو میں ابو ھریرہ ہوں جسکو اللہ آگ سے آزادی عطا فرمائے گا ۔

آرٹیکل 370 اور بھارتی بربادی — Article 370 Revoked and Kashmiris Provoked

ہندودوستان میں مسلمان آباد :

ہندوستان میں شروع سے ہی مسلمان آباد ہیں ۔ ہندوستان کے عظیم اور مستند مورخ ملاح محمد خان کی کتاب ” تاریخ فرشتہ ” میں درج ہے کہ حضرے نوحؑ کے تین بیٹے تھے اور انہوں نے تینوں کو دنیا آباد کرنے کی غرض سے ہجرت کرنے کا کہا ۔ یوں انسانوں کی تین نسلیں آباد ہوئیں ۔ ہام اپنے وقلد کے کہنے پر دنیا کے جنوبی حصے میں گئے ۔ ہام کے چھ بیٹے تھے ۔ ان چھ بیٹوں کے نام پر ایک ایک شہر آباد ہوا ۔ ان کے ایک بیٹے نے ہندوستان میں رہنے کو ترجیح دی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہندوستان میں شروع سے ہی مسلمان آباد تھے ۔

بہرحال غزوہ ہند کے بارے میں مورخین ، عالم اور مختلف سکالر کی رائے جو بھی ہو۔ برصغیر کی فتح غزوہ ہند ہے، قیام پاکستان غزوہ ہند ہے. اور اب 70 سالوں سے ہندوؤں کے ظلم کی انتہاء ایک اور غزوہ ہند کو دعوت دے رہی ہے. جبکہ وہ شاید یہ نہیں جانتے ہیں کہ مسلمان نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی محبت اور ایمان کی قوت سے سرشار ہیں. بھارت 70 سالوں سے کشمیر کی آواز دبا نہیں سکا. اور جس دن ہندوستان کے 20 کروڑ مسلمان، کشمیر کے 25 لاکھ مسلمان اور پاکستان کے 22 کروڑ مسلمانوں نے جنگ کا ارادہ کر لیا. فتح ہی مسلمانوں کا مقدر ہو گی.

مودی سرکار اور ہندوؤں کی کشمیر پر ظلم کی انتہاء ہند کے مسلمانوں کا صبر آزما کر غلطی کر رہے ہیں. جبکہ وہ 1947 میں منہ کی کھا چکے ہیں. آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنا خود بھارت کو بھاری پڑ سکتا ہے. ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے.

سپیشل رپورٹ: ذونیرہ شبیر، خدیجہ چوہدری

loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں