انوشکا شرما اور ویرات کوہلی پہلی بار کیسے ملے؟

انوشکا شرما

وراٹ کوہلی کی انوشکا شرما سے پہلی ملاقات ایک شیمپو کے اشتہار کی شوٹنگ کے دوران ہوئی تھی اور بقول ان کے اس دوران وہ بہت نروس تھے۔

انڈیا کی کرکٹ ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی نے امریکہ میں ایک ٹی وی شو ‘اِن ڈیپتھ وِد گراہم بنسنگر’ میں اپنی نجی زندگی کے بارے میں سوالوں کے جواب دیے اور بتایا کہ کس طرح ان کی انوشکا شرما سے پہلے ملاقات ہوئی۔

وراٹ کوہلی نے کہا کہ ’میں انوشکا سے پہلی بار شیمپو کے اشتہار کی شوٹنگ کے دوران ملا تھا۔ یہ شوٹنگ تین دنوں تک چلی۔ میرے منیجر نے بتایا تھا کہ یہ اشتہار انوشکا شرما کے ساتھ کرنا ہے۔ یہ سن کر میں نروس ہو گیا تھا۔ میں نے منیجر سے کہا کہ وہ پروفیشنل اداکارہ ہیں، میں ان کے ساتھ کیسے ایکٹنگ کروں گا۔ میرے منیجر نے سمجھایا کہ سب ٹھیک ہو گا۔ اشتہار کی سکرپٹ مزیدار ہے، میں پھر بھی بہت نروس تھا۔‘

وراٹ کہتے ہیں ’جب میں پہلی بار انوشکا سے ملا تھا تو انہوں نے ہِیل پہن رکھی تھی اور وہ مجھ سے زیادہ لمبی لگ رہی تھیں تو میں نے اپنے قد کے بارے میں ایک برا جوک مار دیا۔ اس سے صورتحال عجیب ہو گئی اور میں مزید نروس ہو گیا۔‘

وراٹ کوہلی نے انٹرویو میں پہلی ملاقات کے علاوہ اپنے اور انوشکا کے رشتے کے بارے میں اور بھی بہت سی دلچسپ باتیں کیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان دونوں کی زندگی ایک جیسی گزری تھی۔ دونوں کے کیریئر بھی ایک ہی وقت میں 2008 میں شروع ہوئے اور دونوں کے خاندان بھی ایک جیسے ہی ہیں۔

ان دونوں کی شادی کے بارے میں ان کے فینز کو بہت اشتیاق تھا۔

loading...

وراٹ کے مطابق شادی کی ساری تیاری انوشکا نے کی تھی کیونکہ وہ ایک سیریز کھیل رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ شادی کی جگہ کا فیصلہ بھی انوشکا نے ہی کیا تھا۔ ’مجھے کہا گیا تھا کہ شادی کی بات کو بس اپنوں کے بیچ ہی رکھنا ہے۔‘

وراٹ کوہلی نے بتایا کہ ان کی شادی میں صرف 42 لوگ ہی شریک ہوئے تھے۔ ان کی شادی اٹلی میں ہوئی تھی اور اٹلی سے واپس آ کر دو فنکشن رکھے گئے تھے ایک بالی وڈ کے لیے اور ایک کرکٹروں کے لیے۔

اپنے ہنی مون کے بارے میں بھی انہوں نے ایک دلچسپ قصہ سنایا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بھیڑ سے دور جانا چاہتے تھے۔ وہ ایسی جگہ جانا چاہتے تھے جہاں انہیں کوئی نہ پہچانتا ہو۔

وراٹ کوہلی نے بتایا کہ ’ہم کافی پینے گئے اور آپس میں بات کر رہے تھے کہ پوری دنیا میں ایک یہی جگہ ہے جہاں ہمیں کوئی نہیں پہچانتا اور ہم لوگوں کی نظروں اور کیمروں کی آنکھ سے آزاد ہیں۔ لیکن اسی دوران میری نظر ساتھ والی میز پر بیٹھے شخص پر پڑی، اس آدمی نے پگڑی پہنی ہوئی تھی اور مجھے ہی دیکھ رہا تھا۔ ہم اٹھ کر اندر والے ٹیبل پر جا کر بیٹھ گئے۔ لیکن کچھ دیر بعد وہ آدمی ہمارے پاس آ کر بولا کہ آپ لوگوں سے مل کر بہت اچھا لگا اور میرا نام بھی کوہلی ہے۔ ‘

’اس وقت میں یہی سوچ رہا تھا کہ ہم کسی ایسی جگہ کب جائیں گے جہاں ہمیں کوئی نہ پہچانتا ہو‘۔

(Visited 2,362 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں