کوٹ پتلون

مائی نانکی

ناظم جب باندرہ میں منتقل ہوا تو اُسے خوش قسمتی سے کرائے والی بلڈنگ میں تین کمرے مل گئے۔ اس بلڈنگ میں جو بمبئی کی زبان میں چالی کہلاتی ہے، نچلے درجے کے لوگ رہتے تھے۔

چھوٹی چھوٹی (بمبئی کی زبان میں ) کھولیاں یعنی کوٹھڑیاں تھیں جن میں یہ لوگ اپنی زندگی جوں توں بسر کررہے تھے۔ ناظم کو ایک فلم کمپنی میں بحیثیت منشی یعنی مکالمہ نگار ملازمت مل گئی تھی۔ چونکہ کمپنی نئی قائم ہوئی تھی اس لیے اسے چھ سات مہینوں تک ڈھائی سو روپے ماہوار تنخواہ ملنے کا پورا تیقن تھا، چنانچہ اُس نے اس یقین کی بنا پر یہ عیاشی کی ڈونگری کی غلیظ کھولی سے اُٹھ کر باندرہ کی کرائے والی بلڈنگ میں تین کمرے لے لیے۔ یہ تین کمرے زیادہ بڑے نہیں تھے، لیکن اس بلڈنگ کے رہنے والوں کے خیال کے مطابق بڑے تھے، کہ انھیں کوئی سیٹھ ہی لے سکتا تھا۔ ویسے ناظم کا پہناوا بھی اب اچھا تھا کیونکہ فلم کمپنی میں معقول مشاہرے پر ملازمت ملتے ہی اِس نے کُرتہ پائیجامہ ترک کرکے کوٹ پتلون پہننا شروع کردی تھی۔ ناظم بہت خوش تھا۔ تین کمرے اُس کے اور اس کی نئی بیاہتا بیوی کے لیے کافی تھے۔ مگر جب اُسے پتہ چلا کہ غسل خانہ ساری بلڈنگ میں صرف ایک ہے تو اُسے بہت کوفت ہوئی ڈونگری میں تو اس سے زیادہ دقت تھی کہ وہاں کے واحد غسل خانہ میں نہانے والے کم از کم پانچ سو آدمی تھے اور اس کو چونکہ وہ صبح ذرا دیر سے اُٹھنے کا عادی تھا، نہانے کا موقع ہی نہیں ملتا تھا۔ یہاں شاید اس لیے کہ لوگ نہانے سے گھبراتے تھے یا رات پالی(نائٹ ڈیوٹی)کرنے کے بعد دن بھر سوئے رہتے اس لیے اسے غسل کے سلسلے میں زیادہ تکلیف نہیں ہوتی تھی۔ غسل خانہ اس کے دروازے کے ساتھ بائیں طرف تھا۔

اس کے سامنے ایک کھولی تھی جس میں کوئی۔ معلوم نہیں کون رہتا تھا۔ ایک دن ناظم جب غسل خانے کے اندر گیا تو اس نے دروازہ بند کرتے ہوئے دیکھا کہ اس میں سوراخ ہے غورسے دیکھنے سے معلوم ہوا کہ یہ کوئی قدرتی درز نہیں بلکہ خود ہاتھ سے کسی تیز آلے۔ کی مدد سے بنایاگیا ہے۔ کپڑے اُتار کے نہانے لگا تو اس کو خیال آیا کہ زون میں سے جھانک کرتو دیکھے۔ معلوم نہیں اسے یہ خواہش کیوں پیدا ہوئی۔ بہرحال اس نے اٹھ کر آنکھ اس سوراخ پر جمائی۔ سامنے والی کھولی کا دروازہ کھلا تھا۔ اور ایک جوان عورت جس کی عمر پچیس چھبیس برس کی ہو گی صرف بنیان اور پیٹی کوٹ پہنے یوں انگڑائیاں لے رہی تھی جیسے وہ ان دیکھے مردوں کو دعوت دے رہی ہے کہ وہ اسے اپنے بازوؤں میں بھینچ لیں اور اس کی انگڑائیوں کا علاج کردیں۔ ناظم نے جب یہ نظارہ دیکھا تو اس کا پانی سے ادھ بھیگا جسم تھرتھرا گیا۔ دیر تک وہ اسی عورت کی طرف دیکھتا رہا، جو اپنے مستور لیکن اس کے باوجود عریاں بدن کو ایسی نظروں سے دیکھ رہی تھی جس سے صاف پتہ چلتا تھا کہ وہ اس کا مصرف ڈُھونڈنا چاہتی ہے۔ ناظم بڑا ڈرپوک آدمی تھا۔ نئی نئی شادی کی تھی، اس لیے بیوی سے بہت ڈرتا تھا۔ اس کے علاوہ اُس کی سرشست میں بدکاری نہیں تھی۔ لیکن غسل خانے کے اُس سوراخ نے اس کے کردار میں کئی سوراخ کردیے۔

اس میں سے ہر روز صبح کو وہ اس عورت کو دیکھتا اور اپنے گیلے یا خشک بدن میں عجیب قسم کی حرارت محسوس کرتا۔ چند روز بعد اسے بعد اُسے محسوس ہوا کہ وہ عورت جس کا نام زبیدہ تھا اُس کو اس بات کا علم ہے کہ وہ غسل خانے کے دروازے کے سوراخ سے اُس کو دیکھتا ہے۔ اور کن نظروں سے دیکھتا ہے ظاہرہے کہ جو مرد غسل خانے میں جاکر دروازے کی درز میں سے کسی ہمسائی کو جھانکے گا تو اُس کی نیت کبھی صاف نہیں ہوسکتی۔ ناظم کی نیت قطعاً نیک نہیں تھی۔ اُس کی طبیعت کو اس عورت نے جو صرف بنیان اور پیٹی کوٹ پہنتی اور اس وقت جب کہ ناظم نہانے میں مصروف ہوتا اس قسم کی انگڑائیاں لیتی تھی کہ دیکھنے والے مرد کی ہڈیاں چٹخنے لگیں، اس نے اسے اُکسادیا تھا مگر وہ ڈرپوک تھا۔ اُس کی شریف فطرت اُس کو مجبور کرتی کہ وہ اُس سے زیادہ آگے نہ بڑھے۔

ورنہ اُسے یقین تھا کہ اس عورت کو حاصل کرنا کوئی بڑی بات نہیں۔ ایک دن ناظم نے غسل خانے میں سے دیکھا کہ زبیدہ مسکرارہی ہے اُس کو معلوم تھا کہ ناظم اُس کو دیکھ رہا ہے۔ اُس دن اُس نے اپنے صحت مند ہونٹوں پر لپ اسٹک لگائی ہوئی تھی۔ گالوں پر غازہ اور سُرخی بھی تھی۔ بنیان خلافِ معمول چھوٹی اور انگیا پہلے سے زیادہ چست۔ ناظم نے خود کو اس فلم کا ہیرو محسوس کیا جس کے وہ مکالمے لکھ رہا تھا۔ لیکن جونہی اپنی بیوی کا خیال آیا جو اس کے دولت مند بھائی کے گھر ورلی گئی ہوئی تھی وہ اسی فلم کا ایکسٹرا بن گیا۔ اور سوچنے لگا کہ اسے ایسی عیاشی سے باز رہنا چاہیے۔ بہت دنوں کے بعد ناظم کو معلوم ہوا کہ زبیدہ کا خاوند کسی مل میں ملازم ہے۔ چونکہ اُس کی اولاد نہیں ہوتی اس لیے پیروں فقیروں کے پیچھے پھرتا رہتا ہے۔ کئی حکیموں سے علاج بھی کراچکا تھا۔ بہت کم زبان، اور داڑھی مونچوں سے بے نیاز۔ پنجابی زبان میں ایسے مردوں کو

’’کھودا‘‘

کہتے ہیں معلوم نہیں کس رعایت سے، لیکن اس رعایت سے زبیدہ کا خاوند کھودا تھا کہ وہ زمین کاہر ٹکڑا کھودتاکہ اِس سے اُس کا کوئی بچہ نکل آئے۔ مگر زبیدہ کو بچے کی کوئی فکر نہ تھی۔ وہ غالباً یہ چاہتی تھی کہ کوئی اس کی جوانی کی فکر کرے۔ جس کے بارے میں شاید اس کا شوہر غافل تھا۔ ناظم کے علاوہ اس بلڈنگ میں ایک اور نوجوان تھا۔ کنوارا۔ کنوارے تو یوں وہاں کئی تھے، مگر اس میں خصوصیت یہ تھی کہ وہ بھی کوٹ پتلون پہنتا تھا۔ ناظم کو معلوم ہوا کہ وہ بھی غسل خانے میں سے زبیدہ کو جھانکتا ہے اور وہ اسی طرح سوراخ کے اس طرف اپنے مستور لیکن غیر مستور جسم کی نمائش کرتی ہے۔ ناظم پہلے پہل بہت جلا۔ رشک اور حسد کا جذبہ ایسے معاملات میں عام طور پر پیدا ہو جایا کرتا ہے۔ لازماً ناظم کے دل میں بھی پیدا ہوا۔ لیکن یہ کوٹ پتلون پہننے والا نوجوان ایک مہینے کے بعد رخصت ہو گیا۔ اس لیے کہ اسے احمد آباد میں اچھی ملازمت مل گئی تھی۔ ناظم کے سینے کا بوجھ ہلکا ہو گیا تھا۔ لیکن اُس میں اتنی جرأت نہ تھی کہ زبیدہ سے بات چیت کرسکتا۔ غسل خانہ کے دروازے کے سُوراخ میں سے وہ ہر روز اُسی انداز میں دیکھتا اور ہر روز اُس کے دماغ میں حرارت بڑھتی جاتی۔ لیکن ہر روز سوچتا کہ اگر کسی کو پتہ چل گیا تو اُس کی شرافت مٹی میں مل جائے گی۔ اسی لیے وہ کوئی تیز قدم آگے نہ بڑھاسکا۔ اس کی بیوی ورلی سے آگئی تھی۔ وہاں صرف ایک ہفتہ رہی۔ اس کے بعد اس نے غسل خانے میں سے زبیدہ کو دیکھنا چھوڑ دیا۔ اس لیے کہ اُس کے ضمیر نے ملامت کی تھی۔ اس نے اپنی بیوی سے اور زیادہ محبت کرنا شروع کردی۔ شروع شروع میں اسے کسی قدر حیرت ہوئی مگر بعد میں اُسے بڑی مسرت محسوس ہوئی کہ اس کا خاوند اس کی طرف پہلے سے کہیں زیادہ توجہ دے رہاہے۔ لیکن ناظم نے پھر غسل خانے میں سے تاک جھانک شروع کردی۔ اصل میں اُس کے دل و دماغ میں زبیدہ کا مستور مگر غیر مستور بدن سما گیا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کی انگڑائیوں کے ساتھ کھیلے اور کچھ اس طرح کھیلے کے خود بھی ایک نہ ٹُوٹنے والی انگڑائی بن جائے۔ فلم کمپنی سے تنخواہ برابر وقت پر مل رہی تھی۔ ناظم نے ایک نیا سوٹ بنوالیا تھا۔ اُس میں جب زبیدہ نے اُسے اپنی کھولی کے کھلے ہوئے دروازے میں سے دیکھا تو ناظم نے محسوس کیا کہ وہ اسے زیادہ پسندیدہ نظروں سے دیکھ رہی ہے۔ اُس نے چاہا کہ دس قدم آگے بڑھ کر اپنے ہونٹوں پر اپنی تمام زندگی کی تمام مسکراہٹیں بکھیر کر کہے

’’جناب سلام عرض کرتا ہوں۔ ‘‘

ناظم یوں تو مکالمہ نگار تھا۔ ایسے فلموں کے ڈایلاگ لکھتا جو عشق و محبت سے بھرپور ہوتے تھے۔ مگر اس وقت اس کے ذہن میں تعارفی مکالمہ یہی آیا کہ وہ اُس سے کہے

’’جناب ! سلام کرتا ہوں۔ ‘‘

اُس نے دو قدم آگے بڑھائے۔ زبیدہ کلی کی طرح کھلی مگر وہ مُرجھاگیا۔ اُس کو اپنی بیوی کے خوف اور شرافت کے زائل ہونے کے احساس نے یہ بڑھائے ہوئے قدم پیچھے ہٹانے پر مجبور کردیا۔ اور اپنے گھر جاکر اپنی بیوی سے کچھ ایسی محبت سے پیش آیا کہ غریب شرما گئی۔ اسی دوران ایک اور کوٹ پتلون والا کرائے دار بلڈنگ میں آیا۔ اس نے بھی غسل خانے کے سوراخ میں سے جھانک کر دیکھنا شروع کردیا۔ ناظم کے لیے یہ دوسرا رقیب تھا مگر تھوڑے ہی عرصہ کے بعد برقی ٹرین سے اُترتے وقت اُس کا پاؤں پھسلا اور ہلاک ہو گیا۔ ناظم کو اُس کی موت پر افسوس ہوا۔، مگر مشیتِ ایزدی کے سامنے کیا چارہ ہے اُس نے سوچا شاید خدا کو یہی منظور تھا کہ اُس کے راستے سے یہ روڑاہٹ جائے۔ چنانچہ اُس نے پھرغسل خانے کے دروازے کے سُوراخ سے اور اپنے تین کمروں میں آتے جاتے وقت زبیدہ کو اُنھیں نظروں سے دیکھنا شروع کردیا۔ اتفاق ایسا ہوا کہ لاہور میں ناظم کی بیوی کے کسی قریبی رشتہ دار کی شادی تھی۔ اس تقریب میں اُس کی شمولیت ضروری تھی۔ ناظم کے جی میں آئی کہ وہ اس سے کہہ دے کہ یہ تکلف اس سے برداشت نہیں ہوسکتا۔ لیکن فوراً اُسے زبیدہ کا خیال آیا اور اُس نے اپنی بیوی کو لاہور جانے کی اجازت دے دی۔ مگر وہ فکر مند تھا کہ اُسے صبح چائے بنا کر کون دے گا۔ یہ واقعی بہت اہم چیز تھی۔ اس لیے کہ ناظم چائے کا رسیا تھا۔ صبح سویرے اگر اُسے چائے کی دو پیالیاں نہ ملیں تو وہ سمجھتا تھا کہ دن شروع ہی نہیں ہوا۔ بمبئی میں رہ کر وہ اس شے کا حد سے زیادہ عادی ہو گیا تھا۔ اُس کی بیوی نے تھوڑی دیر سوچا اور کہا، آپ کچھ فکر نہ کیجیے۔ میں زبیدہ سے کہے دیتی ہوں کہ وہ آپ کو صبح کی چائے بھیجنے کا انتظام کردے گی۔ چنانچہ اُس نے فوراً زبیدہ کو بلوایا اور اس کو مناسب وموزوں الفاظ میں تاکید کردی کہ وہ اُس کے خاوند کے لیے چائے کی دو پیالیوں کا ہر صبح جب تک وہ نہ آئے انتظام کردیا کرے۔ اس وقت زبیدہ پورے لباس میں تھی اور دوپٹے کے پلو سے اپنے چہرے کا ایک حصہ ڈھانپے کنکھیوں سے ناظم کی طرف دیکھ رہی تھی۔ وہ بہت خوش ہوا۔ مگر کوئی ایسی حرکت نہ کی جس سے کسی قسم کا شبہ ہوتا۔ چند منٹوں کی رسمی گفتگو میں یہ طے ہو گیا کہ زبیدہ چائے کا بندوبست کردے گی۔ ناظم کی بیوی نے اُسے دس روپے کا نوٹ پیشگی کے طور پر دینا چاہا مگر اُس نے انکار کردیا اور بڑے خلوص سے کہا۔

’’بہن اس تکلف کی کیا ضرورت ہے۔ آپ کے میاں کو کوئی تکلیف نہیں ہو گی۔ صبح جس وقت چاہیں، چائے مل جایا کرے گی۔ ‘‘

ناظم کا دل باغ باغ ہو گیا۔ اُس نے دل ہی دل میں کہا۔ چائے ملے نہ ملے۔ لیکن زبیدہ تم مل جایا کرے۔ لیکن فوراً اُسے اپنی بیوی کا خیال آیا اور اُس کے جذبات سرد ہو گئے۔ ناظم کی بیوی لاہور چلی گئی۔ دوسرے روز صبح سویرے جبکہ وہ سو رہا تھا دروازے پر دستک ہوئی۔ وہ سمجھا شاید اُس کی بیوی باورچی خانے میں پتھر کے کوئلے توڑ رہی ہے۔ چنانچہ کروٹ بدل کر اُس نے پھر آنکھیں بند کرلیں۔ لیکن چند لمحات کے بعد پھر ٹھک ٹھک ہوئی اور ساتھ ہی مہین نسوانی آواز آئی۔

’’ناظم صاحب۔ ناظم صاحب‘‘

ناظم کا دل دھک دھک کرنے لگا۔ اُس نے زبیدہ کی آواز کو پہچان لیا تھا۔ اُس کی سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کرے۔ ایک دم چونک کر اُٹھا۔ دروزاہ کھولا زبیدہ دونوں ہاتھوں میں ٹرے لیے کھڑی تھی۔ اس نے ناظم کو سلام کیا اور کہا

’’چائے حاضر ہے۔ ‘‘

ایک لحظے کے لیے ناظم کا دماغ غیر حاضر ہو گیا۔ لیکن فوراً سنبھل کر اُس نے زبیدہ سے کہا

’’آپ نے بہت تکلیف کی۔ لائیے یہ ٹرے مجھے دے دیجیے۔ ‘‘

زبیدہ مسکرائی

’’میں خود اندر رکھ دیتی ہوں۔ تکلیف کی بات ہی کیا ہے۔ ‘‘

ناظم شب خوابی کا لباس پہنے تھا۔ دھاری دار پاپلین کا کرتا اور پائجامہ۔ یہ عیاشی اُس نے زندگی میں پہلی بار کی تھی۔ زبیدہ شلوار قمیص میں تھی۔ ان دونوں لباسوں کے کپڑے بہت معمولی اور سستے تھے مگر وہ اس پر سج رہے تھے۔ چائے کی ٹریک اُٹھائے وہ اندر آئی۔ اس کو تپائی پر رکھا اور ناظم کے چڑیا ایسے دل کو کہہ کر دھڑکایا

’’مجھے افسوس ہے کہ چائے بنانے میں دیر ہو گئی۔ دراصل میں زیادہ سونے کی عادی ہوں۔ ‘‘

ناظم کرسی پر بیٹھ چکا تھا جب زبیدہ نے یہ کہا تو اُس کے جی میں آئی کہ ذرا شاعری کرے اور اُس سے کہے

’’آؤ۔ سو جائیں۔ سونا ہی سب سے بڑی نعمت ہے۔ ‘‘

۔ لیکن اس میں اتنی جرأت نہیں تھی، چنانچہ وہ خاموش رہا۔ زبیدہ نے بڑے پیار سے ناظم کو چائے بنا کردی۔ وہ چائے کے ساتھ زبیدہ کو بھی پیتا رہا۔ لیکن اُس کی قوت ہاضمہ کمزور تھی۔ اس لیے اس نے فوراً اس سے کہا

’’زبیدہ جی آپ اور تکلیف نہ کریں۔ میں برتن صاف کراکے آپ کو بھجوا دُوں گا۔ ‘‘

ناظم کو اس بات کا احساس تھا کہ اُس کے دل میں جتنے برتن ہیں، زبیدہ کی موجودگی میں صاف کر دیے ہیں۔ برتن اُٹھا کر جب وہ چلی گئی تو ناظم کو ایسا محسوس ہوا کہ وہ تھوتھا چنا بن گیا ہے جو گھنا بج رہاہے۔ زبیدہ ہر روز صبح سویرے آتی۔ اُسے چائے پلاتی۔ وہ اُس کو اور چائے دونوں کو پیتا۔ اور اپنی بیوی کو یاد کرکے ڈرکے مارے رات کو سوجاتا۔ دس بارہ روز یہ سلسلہ جاری رہا۔ زبیدہ نے ناظم کو ہر موقع دیا کہ وہ اُس کی نہ ٹُوٹنے والی انگڑائیوں کو توڑدے۔ لیکن ناظم خود ایک غیر مختتم ! انگڑائی بن کے رہ گیا تھا۔ اُس کے پاس دو سُوٹ تھے مگر اُس نے چرفی روڈ کی اُس دکان سے جہاں اُس فلم کمپنی کا سیٹھ کاسٹیوم بنوایا کرتا تھا ایک اور سُوٹ سُلوایا اور اس سے وعدہ کیا کہ رقم بہت جلدادا کردے گا۔ گبر ڈین کا یہ سُوٹ پہن کر وہ زبیدہ کی کھولی کے سامنے سے گزرا۔ حسبِ معمول وہ بنیان اور پیٹی کوٹ پہنے تھی۔ اُسے دیکھ وہ دروازے کے پاس آئی۔ مہین سی مسکراہٹ اُس کے سرخی لگے ہونٹوں پر نمودار ہوئی اور اُس نے بڑے پیار سے کہا

’’ناظم صاحب آج تو آپ شہزادے لگتے ہیں۔ ‘‘

ناظم ایک دم کوہ قاف چلا گیا۔ یا شاید اُن کتابوں کی دنیا میں جو شہزادوں اور شہزادیوں کے اذکار سے بھری پڑی ہیں۔ لیکن فوراً وہ اپنے برق رفتار گھوڑے پر سے گرکر زمین پر اوندھے منہ آ رہا۔ اور اپنی بیوی سے جو لاہور میں تھی کہنے لگا سخت چوٹ لگی ہے۔ عشق کی چوٹ یوں بھی بڑی سخت ہوتی ہے، لیکن جس قسم کا عشق ناظم کا تھا۔ اس کی چوٹ بہت شدیدتھی۔ اس لیے کہ شرافت اور اُس کی بیوی اُس کے آڑے آتی تھی۔ ایک اور چوٹ ناظم کو یہ لگی کہ اُس کی فلم کمپنی کادیوالیہ پٹ گیا۔ معلوم نہیں کیا ہوا۔ بس ایک دن جب وہ کمپنی گیا تو اُس کو معلوم ہوا کہ وہ ختم ہو گئی۔ اُس سے پانچ روز پہلے وہ سو روپے اپنی بیوی کو لاہور بھیج چکا تھا۔ سو روپے چرنی روڈ کے بزاز کے دینے تھے کچھ اور بھی قرض تھے۔ ناظم کے دماغ سے عشق پھر بھی نہ نکلا۔ زبیدہ ہر روز چائے لے کر آتی تھی۔ لیکن اب وہ سخت شرمندہ تھا کہ اتنے دنوں کے پیسے وہ کیسے ادا کرے گا۔

اُس نے ایک ترکیب سوچی کہ اپنے تینوں سوٹ جن میں نیا گیبر ڈین کا بھی شامل تھا گروی رکھ کر صرف پچاس روپے وصول کیے۔ دس دس کے پانچ نوٹ جیب میں ڈال کر ناظم نے سوچا کہ ان میں دو چار زبیدہ کو دے دے گا، اور اس سے ذرا کھلی بات کرے گا۔ لیکن دادرا اسٹیشن پر کسی جیب کترے اُس کی جیب صاف کردی۔ اُس نے چاہا کہ خود کشی کرلے ٹرینیں آ جارہی تھیں پلیٹ فارم سے ذرا سا پھسل جانا کافی تھا۔ یوں چٹکیوں میں اُس کا کام تمام ہوجاتا۔ مگر اس کو اپنی بیوی کا خیال آٰگیا جو لاہور میں تھی اور اُمید سے۔ ناظم کی حالت بہت خستہ ہو گئی۔ زبیدہ آتی تھی لیکن اُس کی نگاہوں میں اب وہ بات ناظم کو نظر نہیں آتی تھی۔

چائے کی پتی ٹھیک نہیں ہوتی تھی۔ دُودھ سے تو اُسے کوئی رغبت نہیں تھی لیکن پانی ایسا پتلا ہوتا تھا، اُس کے علاوہ اب وہ زیادہ سجی بنی نہ ہوتی تھی۔ غسل خانے میں جاتا اور اُسے دروازے کے سوراخ میں سے جھانکتا وہ نظر نہ آتی۔ لیکن ناظم خود بہت متفکر تھا۔ اس لیے کہ اُسے دو مہینوں کا کرایہ ادا کرنا تھا۔ چرنی روڈ کے بزاز کے اور دوسرے لوگوں کے قرض کی ادائیگی بھی اس کے ذمہ تھی۔ چند روز میں ناظم کو ایسا محسوس ہوا کہ اس کا جو بہت بڑا بینک تھا فیل ہو گیا ہے۔ اس کی ٹانچ آنے والی تھی، مگر اس سے پہلے ہی اُس نے کرائے والی بلڈنگ سے نقل مکانی کا ارادہ کرلیا۔ ایک شخص سے اس نے طے کیا کہ وہ اُس کا قرض ادا کردے تو وہ اس کو اپنے تین کمرے دے دے گا۔ اُس نے اُس کے تینوں سوٹ واپس دلوادیے۔ چھوٹے موٹے قرض بھی ادا کردیے۔ جب ناظم غمناک آنکھوں سے

’’کرائے والی بلڈنگ‘‘

سے اپنا مختصر سامان اُٹھوا رہا تھا تو اس نے دیکھا زبیدہ نئے مکین کو جو شارک سکن کے کوٹ پتلون میں ملبوس تھا ایسی نظروں سے دیکھ رہی ہے، جن سے وہ کچھ عرصہ پہلے اسے دیکھا کرتی تھی۔

سعادت حسن منٹو
(Visited 3 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں