جنسی ہراسگی (Sexual Harassment) اور اس کے اثرات !

جنسی زیادتی

جنسی ہراسگی انگریزی کے دو الفاظ (Sexual Harassment) کا ترجمہ ہے۔ ہر اس فارسی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب خوف اور ڈر ہے۔ یہ اسم ہے اور اس کا فعل ہراساں کرنا یا ہراساں ہونا ہے۔

دنیا بھر میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ میشا شفع نے علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا الزام لگا دیا جسے علی ظفر نے مسترد کرتے ہوئے عدالت جانے کا اعلان کیا۔

میشا شفیع
Photo: File

گلوکار علی ظفر نے میشا شفیع کے الزامات پر خاموشی توڑ دی

شوبز کی دنیا میں بالخصوص کسی ایک جنس کا دوسری جنس پر یہ الزام لگانا کہ اس نے مجھے جنسی ہراسگی کا شکار کیا ہے، ایک عجیب و غریب اور ناقابلِ یقین منطق ہے۔ شوبز کی فیلڈز یعنی فلم یا ڈرامے کے تقاضے آج سے 70،80 برس پہلے کچھ اور تھے  جو اب  بالکل  بدل چکے ہیں۔

جنسی ہراسگی کسی خاص علاقے، معاشرے اور ملک کے ساتھ مخصوص نہیں۔ دنیا کے سارے براعظموں اور سارے معاشروں میں یہ وبا موجود ہے۔ کہیں کم، کہیں زیادہ۔۔۔۔

امریکی میڈیا کے مطابق فوج میں جنگ کے دوران اتنی خواتین سپاہی جان سے نہیں چاہتی جتنی آرمی دفاتر میں جنسی ہراسمنٹ کا نشانہ بنتی ہیں۔

پچھلے دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر درجن بھر عورتوں نے یہ الزام لگایا تھا کہ صدر نے جب وہ صدر نہیں تھے تو انہوں نے ان کو اپنے فلاں کارخانے، دفتر، فیکٹری یا مقامِ کار میں پیش دستی کا نشانہ بنایا تھا۔

امریکی میڈیا نے ایک بار پھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جھوٹا قرار دے دیا

Photo: File

حد یہ تھی کہ20،25 برس پہلے کے واقعات بھی میڈیا کی زینت بنائے گئے۔

یعنی یہ دنیا بھر کا مشترکہ مسئلہ بن چکا ہے ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ جنسی ہراسمنٹ کیا ہے اور کیا نہیں ۔

جنسی ہراسمنٹ کیا ہے

لیکن ہمیں سمجھنا چاہیے کہ جنسی ہراسمنٹ کیا ہے؟ پاکستان کے قانون اور عالمی اخلاقیات کے حساب سے دیکھیں تو

  • کسی بھی خاتون کو اس کی مرضی کے بغیر چھونا
  • اخلاق سے گری گفتگو کرنا
  • علیحدگی میں ملنے کیلئے مجبور کرنا
  • انٹرویو میں پاس کرنے یا امتحان میں نمبر دینے کیلئے جنسی تعلقات کی شرط رکھنا
  • کام کی جگہ پر اپنی پوزیشن کو استعمال کرتے ہوئے کسی کو جنسی تعلقات پر مجبور کرنا

جنسی طور پر ہراساں کرنا کہلائے گا

 لیکن ہمیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ جنسی طور پر ہراساں کرنا ایک پیچیدہ موضوع ہے۔

لیکن ہمیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ جنسی طور پر ہراساں کرنا ایک پیچیدہ موضوع ہے۔ آج کی جدید اور تیزی سے بدلتی دنیا میں اس کی واضح حدود مقرر کرنا مشکل ہے۔ لیکن پھر بھی سماجی علوم کے ماہرین

  • کسی کی خوبصورتی کی تعریف کرنا
  • کسی کو دیکھ کر مسکرا دینا
  • یا شادی کی پیشکش کرنا

جیسے معاملات کو جنسی طور پر ہراساں کرنا نہیں سمجھتے۔

جنسی ہراسمنٹ کا نشانہ لڑکے بھی ہیں

آج کل کے دور میں صرف لڑکیاں ہی نہیں لڑکوں کو بھی جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

لڑکے یہ بات کسی سے شیئر نہیں کرتے کیونکہ وہ سوچتے ہیں کہ ہماری سوسائٹی میں ان کا مذاق بنایا جائے گا اور انہیں ایک کم مرد سمجھا جائے گا اس ڈر سے وہ یہ بات کسی کو نہیں بتاتے۔ جنسی ہراسانی خواتین کے ساتھ بھی ہوتی ہیں اور مردوں کے ساتھ بھی۔

خواتین کی ہم اس لیے زیادہ بات کرتے ہیں کیونکہ دنیا کے اعداد وشمار یہ بتاتے ہیں کہ خواتین کے ساتھ اس طرح کے واقعات زیادہ ہوتا ہے ۔ آج کل کے والدین لڑکوں کی طرف سے بے خبر ہوتے ہیں وہ صرف لڑکیوں کے حوالے سے زیادہ محتاط رہتے ہیں لڑکیوں کو گھر میں اپنی نگرانی میں رکھا جاتا ہے۔

 ان کو ڈرائیور کے ساتھ اکیلے نہیں بھیجا جاتا جبکہ لڑکوں کے معاملے میں وہ اتنے فکرمند نہیں ہوتے ان کو آسانی سے ڈرائیور کے ساتھ کہیں بھی بھیج دیا جاتا ہے۔

والدین کو اس بات کا اندازہ نہیں کے آج کے اس جدید دور میں لڑکوں کی نگرانی بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی آپ اپنی بیٹی کی کرتے ہیں۔

جنسی ہراسمنٹ کے خلاف سخت قانون

پاکستان میں جنسی ہراسمنٹ کے خلاف سخت قانون بن چکا ہے۔ ہر ادارہ اس بات کا پابند ہے کہ وہ دفاتر میں جنسی ہراسمنٹ کی شکایات کیلئے ایک ڈیسک بنائے۔ جہاں خواتین خاموشی سے رپورٹ کر سکیں۔ جرم ثابت ہونے پر جنسی ہراساں کرنے والے کو تین سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

(Visited 76 times, 1 visits today)

Comments

comments

جنسی ہراسگی,

اپنا تبصرہ بھیجیں