کیا پاکستان کبھی قرضوں کے دلدل سے نکل پائے گا؟

آئی ایم ایف

آئی ایم ایف سے قرض کا حصول پاکستان کی حکومتوں کیلئے ہمیشہ اطمینان کا باعث بنتا رہا ہے۔ ماضی سے لیکر آج تک کی حکومتیں اور بالخصوص وزارتِ خزانہ کے وزیر و مشیران آئی ایم ایف سے مذاکرات کی کامیابی اور قرضوں کے حصول کو اپنی قابلیت و استعداد ملک کے معاشی مسائل کے حل اور عوام کیلئے ریلیف کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں۔

آئے روز اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے عوام کیلئے دو وقت کی روٹی کو مشکل بنا کر فاقہ کشی پر مجبور کردیا ہے۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے بجلی کی قیمت میں 10 پیسے فی یونٹ اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ۔ نیپرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں اضافہ مئی کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے ۔ نیپرا کے مطابق بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں جولائی کے بجلی کے بلوں میں اضافہ صارفین سے وصول کریں گی جبکہ بجلی کی قیمت میں اضافے کا اطلا ق لاف لائن اور کے الیکٹرک صارفین پر نہیں ہوگا ۔جبکہ آئی ایم ایف کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کو آئندہ ماہ بجلی کے ریٹس ڈھائی روپے فی یونٹ بڑھانا ہوں گے۔

پاکستان نے بجٹ میں 733 ارب 50 کروڑ روپے کے نئے ٹیکس لگائے ہیں۔ پارلیمنٹ کو بتایا گیا کہ 516 ارب روپے کے ٹیکس لگائے گئے ہیں جو حقیقت میں 733 ارب 50 کروڑ روپے کے تھے۔ رپورٹ کی مزید تفصیلات کے مطابق رئیل اسٹیٹ سیکٹر اور زرعی آمدن پر ٹیکس لگانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، ٹیکس مراعات اور چھوٹ ختم کرنے پر اتفاق ہوا ہے پراپرٹی کی قیمتیں مارکیٹ ویلیو کے قریب لانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے ۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے ٹیکس کی شرح میں جی ڈی پی کا 4 سے 5 فیصد بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

پاکستانی سیگریٹ چینی اور سیمنٹ پر ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان نے درآمدی گیس اور لگژری اشیا پر ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سٹیٹ بنک اور نیپرا کی خود مختاری کا بل دسمبر 2019 میں پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ اوگرا کی خود مختاری کا ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ نیسرا 2020 کے بجلی ٹیرف کا اعلان ستمبر 2019 میں طے کرے گا پاکستان گیس سیکٹر کے واجبات کی وصولی یقینی بنائے گا۔

گیس واجبات کی وصولی کا پلان ستمبر 2019 میں پیش کیا جائے گا رپورٹ کے مطابق رواں سال مہنگائی کی شرح 13 فیصد تک جائے گی۔ اگلے سال پاکستان میں مہنگائی کی شرح 8.3 فیصد رہے گی۔ رواں سال پاکستان کا بجٹ خسارہ 7.3 فیصد اور اگلے سال خسارہ 5.4فیصد رہے گا۔ پاکستان آئندہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم نہیں دے گا اور ٹیکس محصولات 5503ارب روپے ہونگے۔

آئی ایم ایف کی آندھی، عوام کی چیخیں

پی ٹی آئی کی حکومت کے دور میں ریکارڈ کیے گئے مہنگائی کے تناسب نے گزشتہ تمام حکومتوں کے ریکارڈ توڑ دیئے۔ آئی ایم ایف نے قرضہ پروگرام کی پہلی ایک ارب ڈالر سے ز ائد کی قسط پاکستان کے حوالے کرتے ہوئے پروگرام کی شرائط اور اہداف کی تفصیلات پر مبنی دستاویز جاری کر دی ہے جس کے مطابق بجلی کے نرخوں میں اگلا اضافہ اگست میں ہو گا اور حکومت ستمبر تک نیپرا ایکٹ میں ترمیم کر کے بجلی کے ٹیرف پر خود کار عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔

آئے روز اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے عوام کیلئے دو وقت کی روٹی کو مشکل بنا کر فاقہ کشی پر مجبور کردیا ہے۔نون لیگ کے دور ِاقتدار میں حکومتی معمولات کو ناقص حکمت ِعملی کا نام دینے والے حکمرانوں نے اپنے دورِ حکومت میں عوام کاکیا حال کر دیا ہے؟ پی ٹی آئی کی حکومت کے دور میں ریکارڈ کیے گئے مہنگائی کے تناسب نے گزشتہ تمام حکومتوں کے ریکارڈ توڑ دیئے۔ آئی ایم ایف نے قرضہ پروگرام کی پہلی ایک ارب ڈالر سے ز ائد کی قسط پاکستان کے حوالے کرتے ہوئے پروگرام کی شرائط اور اہداف کی تفصیلات پر مبنی دستاویز جاری کر دی ہے جس کے مطابق؛ بجلی کے نرخوں میں اگلا اضافہ اگست میں ہو گا اور حکومت ستمبر تک نیپرا ایکٹ میں ترمیم کر کے بجلی کے ٹیرف پر خود کار عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔

وزیر اعظم عمران خان نے آئی ایم ایف سے قرض نہ لینے کے جو وعدے عوام سے کئے تھے عوام کا ان وعدوں پر اعتماد فطری امر تھا مگر تلخ اور سخت معاشی حالات کی حقیقت یہ سامنے آئی کہ آئی ایم ایف نے موجودہ حکومت کو قرض دینے میں نا صرف لیت و لعل سے کام لیا بلکہ قرض کی منظوری سے قبل اپنی کڑی شرائط بھی عائد کردیں اور ان شرائط کے عملی طور پر لاگو ہونے کے بعد ملک کا نئے سال کا بجٹ منظور ہونے کے بعد ہی منظوری دی۔

آئی ایم ایف کا قرض دینے سے قبل قرضوں کی وصولی کیلئے وسائل اکٹھا کرنے کے طریقہ کار کو رائج کروانا اہم شرط تھی۔ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے پاکستان کیلئے 6 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کی منظوری کے بعد جاری شدہ شرائط کے مطابق جس کے نتیجے میں عوام کی مشکلات میں اضافہ اور مہنگائی آسمان سے باتیں کرنے لگی ہے جو ظاہر ہے کہ حکومت اور عوام کا مسئلہ ہے آئی ایم ایف کو اس سے کوئی سروکار نہیں ان کو قرضوں کی وصولی یقینی بنانا ہے خواہ قرض خواہ ملک کیسی مشکلات کا بھی شکار ہو۔ ڈالر آزاد ہوگا، بجلی گیس کی قیمتوں میں حکومتی مداخلت نہیں ہوگی، ٹیکس آمدنی میں اضافہ ،گردشی قرضوں کا خاتمہ، واجبات کی وصولیابی یقینی بنائی جائے گی۔

آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کی معیشت ایک نازک موڑ پر ہے۔ پاکستان میں کرنسی کی شرح تبادلہ مارکیٹ طے کرے گی اور سٹیٹ بینک کرنسی کی شرح تبادلہ میں مداخلت نہیں کرے گا۔ مانیٹرنگ پالیسی کے ذریعے مہنگائی پر قابو پایاجائے گا۔توانائی کے شعبے سے متعلق آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی جائیں گی اور گردشی قرضوں کا خاتمہ کیا جائے گا۔ واجبات کی وصولیاں یقینی بنائی جائیں گی جبکہ گیس اور بجلی کی قیمتوں میں سیاسی مداخلت نہیں کی جائے گی۔ آئی ایم ایف کا قرض جب ممبر ملک کے حصے سے بڑھ جائے تو اس کی شرائط سخت اور ادائیگی مشکل سے مشکل تر ہوجاتی ہے۔

پاکستان کو ملنے والا حالیہ قرض سخت شرائط کے ساتھ ملنے والا قرضہ ہے۔1988 سے پہلے پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین ہونے والے معاہدے قلیل مدتی بنیادوں پر ہوتے تھے جن میں عمومی طور پر قرض معاشی اصلاحات سے مشروط نہیں ہوتے تھے۔سٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ پروگرامزشروع ہو گئے۔سٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ پروگرامز یعنی ایس اے پی وہ ہوتے ہیں جن میں قرض دینے والا ادارہ شدید معاشی مشکلات کے شکار قرض حاصل کرنے والے ممالک کو مخصوص شرائط کے تحت نیا قرض دیتا ہے۔ای ایف ایف وسط مدتی پروگرام ہے جس کا مقصد صرف ادائیگیوں میں توازن نہیں بلکہ اس کی خاص توجہ ملک کے معاشی ڈھانچے میں اصلاحات پر بھی ہوتی ہے۔

یہ منصوبہ تین سال کا ہوتا ہے لیکن اسے ایک سال تک کی توسیع مل سکتی ہے جبکہ رقم کی واپسی چار سے دس سال کے عرصے میں کی جاتی ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق ملک کی معیشت کی خراب صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے ٹھیک ڈگر پر لانے اور اس سے فائدہ اٹھانے کیلئے اصلاحات ضروری ہیں۔ حکومت نے جن اقدامات کا آغاز کیا ہے ان پر حقیقی عملدرآمد ہی وہ راستہ نظر آتا ہے جس پر چل کر ملک کے معاشی مسائل میں کمی لانا ممکن ہوگا۔

حکومت کو ٹیکس نادہندگان بے نامی جائیدادوں اور بدعنوانی سے بنائی گئی املاک اور دولت کا نا صرف حساب لینا ہوگا بلکہ اسے قومی خزانے میں جمع کرانے کو بھی یقینی بنانا ہوگا تب جاکر ہی آئی ایم ایف کے قرضوں کی واپسی ممکن ہوسکے گی۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں