گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے!

گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے
Loading...

اکثر یہ جمعلہ سننے کو ملتا ہے ” گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے ” یہ جمعلہ سُنا تو یقینًا سبھی نے ہو گا لیکن شائد کچھ لوگ اس جمعلے کی حقیقت نہیں جانتے ہوں گے کہ یہ کس نے ، کب اور کیوں بولا ۔۔۔ ؟
آج میں پڑھ رہی تھی تو مجھے اس کی حقیقت پتہ چلی ۔۔

ٹیپو سلطان جو کہ عظیم حکمران ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نڈر اور بہادر انسان بھی تھا ۔

میجر آلن کہتے ہیں کہ:
ٹیپو سلطان گندمی رنگت کا مالک تھا اسکی ناک چمکدار ، آنکھیں پرآب اور بڑی بڑی تھیں ۔ چہرے کے خدوخال نہایت نازک تھے اور ہاتھ پاوں بھی چھوٹے چھوٹے تھے ۔ قد پانچ فٹ اور آٹھ انچ تھا ۔

ٹیپو سلطان کی طبیعت انتہائی سادہ تھی ۔ لیکن انکا رہن سہن زبردست تھا ۔ وہ صبح سویرے بیدار ہوتے نماز پڑھتے اور نماز کے بعد ایک گھنٹہ قرآن پاک کی تلاوت کرتے پھر جواہرات کا معائنہ کرتے اور اس کے بعد تین شہزادوں اور ایک منشی کو لے کر سیر کو نکل جاتے اور پھر واپسی پر ناشتہ کرتے ۔ انکی غذا میں زیادہ پھل اور دودھ ہوتا ۔ رات کو بھی سونے سے پہلے چہل قدمی کرتے اور پھر مطالعے میں مصروف ہو جاتے ۔ اور جب تک نیند نا آ جاتی مطالعہ جاری رکھتے ۔

Loading...
گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے
PC: i.pinimg.com

ٹیپو سلطان نماز کے بہت پکے تھے ۔ باقائدگی سے نماز اور تلاوت قرآن کیا کرتے تھے ۔ اسکا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہےکہ جب مسجد اعلی کا افتتاح ہوا تو سوال اٹھا کہ پہلی نماز کون پڑھائے گا اس موقع پر بڑے بڑے علماء آئے ہوئے تھے طے پایا کہ جو شخص صاحب ترتیب ہو وہ امامت کرے مگر صاحب ترتیب کوئی نہیں تھا ۔ پھر سلطان نے کہا
” الحمداللہ میں صاحب ترتیب ہوں ” پھر سلطان نے پہلی نماز کی امامت کروائی ۔
سلطان کو شیروں سے خاص لگاو تھا انہیں شروں کا کلر بھی بہت پسند تھا ۔ سلطان نے اپنے گھر مسجد کا کلر بھی شیر کے کلر والا کروا رکھا تھا ۔ اور شیروں کا شکار اسکا پسندیدہ مشغلہ تھا ۔

سلطان غزنویؒ کی قبر کشائی

ٹیپو سلطان کی ہمت اور بہادری کے تو کیا ہی کہنے ۔
ٹیپو سلطان ہمیشہ فتح یاب ہوتے آئے مگر میسور کی چوتھی لڑائی میں میسور کے دفاع کی طرف توجہ نا دے سکے تب جنرل ہیرس نے ملولی کے مقام پر شکست دی جہاں معین الدین اور دیوان کی غداری کے باعث ٹیپو سلطان کی فوج تباہ ہو گئی اور سلطان کا وفادار سپہ سالار محمد رضا خان بھی ہلاک ہو گیا ۔ 17 اپریل کو انگریزی افواج نے قلعے پر محاصرہ کر لیا ۔ اب ٹیپو سلطان غداروں میں گھرا ہوا تھا اس کے بہت سارے ساتھی حوصلہ ہار گئے اور انگریزوں کی طرف ہو گئے ۔ تب وفادار فرانسیسی افسران نے سلطان کو مشورہ دیا کہ
1) قلعہ انگریزوں کے حوالے کر کے صلح کر لی جائے تب ٹیپو سلطان نے کہا یہ ہماری روایت کے خلاف ہے ۔
2) قلعہ ہمارے حوالے کر دیں اور ہمیں لڑنے کی اجازت دیں ۔ لیکن یہ بھی نا مانی گئی ۔
4 مئی 1799 کو دوپہر کے وقت انگریزی فوج قلعے کی فصیل کے گرد پہنچ گئی ۔ اب سلطان چند سپاہیوں کو ساتھ لے کر لڑ رہا تھا۔ ایک امیر نے مشرہ دیا کہ زندگی بچا لو خود کو ظاہر کر دو اس موقع پر ٹیپو سلطان نے یہ یادگار جمعلہ کہا تھا کہ
” گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے ”
اور پھر وہ لڑتے لڑتے آخر مغرب کے وقت جام شہادت نوش کر گئے ۔ اور اپنی بہادری اور بلند حوصلے کی اعلی مثال قائم کر گئے جو رہتی دنیا تک قائم رہے گی ۔
زونیرہ شبیر
پنڈیگھیب ، اٹک

(Visited 505 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں