تجھ کوجی بھر کہ جو دیکھیں تو گنوا بیٹھیں ہوش

تجھ کوجی بھر کہ جو دیکھیں تو گنوا بیٹھیں ہوش

تجھ کوجی بھر کہ جو دیکھیں تو گنوا بیٹھیں ہوش
تیرے دیوانوں کو کافی ہے تیری ایک جھلک

تمام عمر جسے ہر دعا میں مانگا تھا
فریب اس نے دیا ہمکو آخری حد تک

دل کو میں آگ لگا دوں اگر یہ بولے مجھے
تیرے بغیر بھی کر سکتا ہے یہ دھک دھک

ارے یہ خواب نہیں ہے تو کاٹ لے چٹکی
میں تیرے سامنے بیٹھی ہوں تو پلک تو جھپک

علیحدگی کے لیۓ لے گیا کٹہرے تک
وہ جس کو چاہا تھا ہم نے جنون کی حد تک

(Visited 41 times, 1 visits today)

Comments

comments

بزم شاعری, تجھ کوجی بھر کہ جو دیکھیں تو گنوا بیٹھیں ہوش, شاعری,

اپنا تبصرہ بھیجیں