بے صبرے عوام اور ”صابر حکومت“

وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ لوگ بے صبرے ہیں ان سے صبر نہیں ہوتا،ہمیں آئے تیرہ ماہ ہوئے ہیں اور کہتے ہیں ”کدھر ہے نیا پاکستان“ مدینہ کی ریاست پہلے دن نہیں بن گئی تھی،مرحلہ وار جدوجہد شروع کی گئی آپ دیکھیں گے تبدیلی کیسے آئے گی،کاروباری طبقے کی پوری مدد کر رہے ہیں، کسی حکومت نے صنعتوں کی ایسی مدد نہیں کی جو ہم کر رہے ہیں،سارا ٹیکس غریب پر مہنگائی کر کے اکٹھا کرتے ہیں،پیسے والے لوگ ٹیکس نہیں دیتے،اس سے فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں، کمزور طبقے کی مدد کریں گے تو ریاست میں برکت آئے گی، لوگ بھوکے سوتے ہیں تو ریاست میں بے برکتی ہوتی ہے،جب تک روزگار کے حالات بہتر نہیں ہوتے کوشش کریں کوئی شخص بھوکا نہ رہے،وہ سیلانی ٹرسٹ کے تعاون سے احساس پروگرام کے تحت لنگر شروع کرنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

ویسے تو عوام فطرتاً بے صبرے اور جلد باز ہی ہوتے ہیں اور اس کا اظہار وہ وقتاً فوقتاً اپنی حرکتوں سے کرتے رہتے ہیں،لیکن موجودہ حکومت نے خود عوام کی توقعات اتنی بڑھا دی تھیں کہ جب وہ پوری نہ ہوئیں تو انہوں نے روایتی بے صبری کا مظاہرہ شروع کر دیا،جو اس لحاظ سے فطری تھا کہ عوام نے حکومت سے تو یہ نہیں کہا تھا کہ وہ یہ اعلان کرے، عوام کے دو سو ارب ڈالر لوٹ کر باہر پہنچا دیئے گئے ہیں ہم یہ رقم اپنی حکومت کے پہلے ہی ہفتے میں واپس لائیں گے،لیکن جب تیرہ مہینوں میں ایک ڈالر بھی واپس نہیں آیا تو کیا عوام یہ پوچھنے کا حق نہیں رکھتے کہ یہ پیسہ کہاں ہے اور کیوں واپس نہیں آ رہا؟ عوام کی توقعات یہ کہہ کر بھی بڑھائی گئیں کہ اس دو سو ارب روپے میں سے ایک سو ارب ڈالر سے تو غیر ملکی قرضے اُتار دیں گے اور باقی ماندہ رقم عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہو گی،اب آپ خدا لگتی کہیے کہ جب اس رقم کا کچھ اتہ پتہ ہی نہیں چل رہا تو عوام بے صبری کا مظاہرہ کیوں نہ کریں اور یہ کیوں نہ پوچھیں کہ اس وعدے کا کیا ہوا؟

وزیراعظم عمران خان
Photo: File

وزیراعظم عمران خان نے اقتدار میں آنے کے تھوڑے عرصے بعد اپنے پسندیدہ اخباری نمائندوں اور کالم نگاروں کے ایک گروپ سے خطاب کرتے ہوئے خود ہی ارشاد فرمایا کہ مجھے تین ماہ دے دیں اگر مَیں تین ماہ میں کارکردگی کا مظاہرہ نہ کروں تو پھر آپ کو حق ہو گا کہ آپ مجھ پر جتنی چاہیں تنقید کریں، لیکن تین ماہ گزر گئے کسی نے آپ کی ذات پر نکتہ چینی تو نہ کی،البتہ تین ماہ والا وعدہ یاد دلایا گیا تو آپ غصے میں آ گئے اور کہا کہ کسی حکومت کی کارکردگی جانچنے کے لئے تین ماہ کافی مدت نہیں ہے، بلاشبہ درست ہے یہ بہت تھوڑی مدت ہے،لیکن آپ کو کس نے کہا تھا کہ اپنی کارکردگی جانچنے کے لئے لوگوں کو اتنی کم مدت دیں۔یہ تو آپ نے اپنی آزادانہ مرضی سے دی تھی،پھر آپ نے یہ مدت چھ ماہ تک بڑھا دی،چھ ماہ گزر گئے تو ایک سال کا ذکرکرنے لگے اب تیرہ ماہ بھی آپ کو کم نظر آنے لگے ہیں اور اب پانچ اور دس سال کی بات کرنے لگے ہیں آخر کسی ایک مدت پر تو آپ کو کھڑے ہو جانا چاہئے۔

آپ کی حکومت کی کارکردگی اچھی ہے یا بُری فی الحال ہم اس بحث میں پڑے بغیرصرف اُن وعدوں کا ذکر کرتے ہیں جو آپ نے اپنی مرضی سے کئے،کسی نے آپ کو مجبور نہیں کیا تھا کہ آپ وہ کام کرتے، مثال کے طور پر آپ نے سادگی خود اپنائی،لیکن اس سادگی سے اگر کوئی من پسند نتیجہ نہیں نکل سکا تو اس میں عوام کا کیا قصور ہے؟ آپ کو کسی نے مجبور نہیں کیا تھا کہ پرائم منسٹر ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کا اعلان کریں،یہ اعلان آپ نے نہ صرف خود کیا،بلکہ بار بار کیا،لیکن تیرہ ماہ بعد بھی پرائم منسٹر ہاؤس اپنی جگہ ہے یونیورسٹی نہ بن سکا،بلکہ دو بار اس ہاؤس کی تزئین و آرائش پر کروڑوں روپے خرچ کر دیئے گئے تاکہ اسے دو معزز مہمانوں کے رہنے کے لئے شایانِ شان بنایا جائے۔یہ تو آپ کو وزیراعظم بننے سے پہلے ہی معلوم تھا کہ پاکستان میں غیر ملکی مہمان بھی قدم رنجہ فرمائیں گے اور انہیں کہیں نہ کہیں ٹھہرانا بھی ہو گا،اِس لئے پرائم منسٹر ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کا اعلان سوچ سمجھ کر ہی کرنا چاہئے تھا اب اگر کوئی ”بے صبرا عوام“ آپ کو یہ وعدہ یاد دلائے تو آپ کو غصے میں آنے کی بجائے اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ آپ کو آخر یہ اعلان کرنے کی مجبوری کیا تھی؟

loading...

سادگی کی ایک اور مثال گاڑیوں کی فروخت ہے آپ کے خیال میں آپ کے لئے دو گاڑیاں کافی تھیں،اِس لئے آپ نے اپنی ضرورت کے مطابق گاڑیاں رکھ کر باقی نیلام کر دیں،جن میں وہ گاڑیاں بھی شامل تھیں جو سارک سربراہوں کی آمد کے پیش نظر ”سابق فضول خرچ“ حکومت نے درآمد کی تھیں،لیکن بھارت کے بائیکاٹ کی وجہ سے یہ کانفرنس ہی نہ ہو سکی،اِس لئے گاڑیاں پرائم منسٹر ہاؤس کے استعمال میں آ گئیں، لیکن طرفہ تماشا یہ ہوا کہ یو اے ای اور سعودی عرب کے ولی عہدوں کے دورہئ پاکستان کے موقع پر اسلام آباد اور راولپنڈی کے شو روموں سے نئی گاڑیاں حاصل کی گئیں،جن کا کروڑوں روپے کرایہ ادا کیا گیا،اتنے میں شاید پرانی گاڑیاں نہیں بکی تھیں جتنا کرایہ ادا کرنا پڑا،اب اگر لوگ آپ سے سوال کریں تو شاید جواب یہ ہو گا کہ عوام صبر سے ہماری سادگی مہم کے نتیجے کا انتظار کریں۔

بھارت فاشسٹ ملک بن گیا

اب احساس پروگرام کے تحت ایسے لنگر خانے شروع کرنے کا پروگرام ہے جو سیلانی ٹرسٹ سمیت ملک بھر میں ہزاروں لوگ پہلے ہی چلا رہے ہیں، کراچی جیسے غریب پرور شہر میں تو50ء کے عشرے میں عید گاہ کے علاقے میں ایسے ہوٹل قائم ہو گئے تھے جہاں ضرورت مندوں کو مفت کھانا کھلایا جاتا تھا اس نیک کام کو اب ستر سال ہونے کو آئے ہیں،شہر کراچی میں اب بھی ہزاروں لوگ اسی طرح کھانا کھاتے ہیں۔نواب شاہ میں ایک صاحب نے ایک ایسا ہوٹل بنایا ہے جہاں سے چوبیس گھنٹے مفت کھانا کھایا جا سکتا ہے، پشاور میں ایسے نانبائی ہیں،جنہیں مخیر حضرات خاموشی سے پیسے دے جاتے ہیں کہ ضرورت مندوں میں روٹی تقسیم کر دیں جو روزمرہ کا معمول ہے۔ ہزاروں لوگ اس سے مستفید ہوتے ہیں۔

ملک ریاض حسین نے کئی شہروں میں بحریہ دستر خوان شروع کر رکھے ہیں اسی طرح سینکڑوں نامور لوگ اس کام میں مصروف ہیں۔ لاہور کے ایک صاحب خیر اخلاق الرحمن روزانہ شہر کے ہسپتالوں میں ناشتہ،اور دو وقت کا کھانا فی سبیل اللہ سپلائی کرتے ہیں۔یہ صرف چند مثالیں ہیں ورنہ اِس سلسلے میں پہلے ہی بہت کام ہو رہا ہے،حکومت نے اگر سیلانی ٹرسٹ کے تعاون سے یہ کام شروع کر دیا ہے تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں،آج ہی ایک خبر چھپی ہے کہ پی آئی اے کا دس کروڑ روپے کا کھانا ضائع ہو گیا جہاں اتنی بڑی بڑی رقمیں ضائع ہوتی ہوں وہاں چند سو لوگوں کو کھانا کھلا دینا کون سی اچنبھے کی بات ہے۔ حیرت البتہ یہ ہے کہ حکومت کو سیلانی کے تعاون کی ضرورت کیوں پیش آئی، جو پہلے ہی 63 ہزار لوگوں کو روزانہ کھانا کھلاتی ہے، کیا وہ اپنے طور پر ایک لنگر بھی نہیں چلا سکتی؟

جہاں تک بیروزگاری کا تعلق،لاکھوں لوگ اس کی زد میں آ گئے ہیں۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق صرف آٹو انڈسٹری میں 18لاکھ لوگ بے روزگار ہوئے ہیں،بے روزگاری کا یہ دائرہ پھیلتا جا رہا ہے،جو کار پہلے مقررہ قیمت سے زیادہ پر بک رہی تھی اب چار لاکھ کم پر بھی اس کا کوئی گاہک نہیں،حکومت کو ایسے بڑے کاموں کی طرف توجہ دینی چاہئے جہاں سے روزگار پیدا ہوتے ہیں،روزگار کے بغیر غربت ختم نہیں ہو سکتی، اس وقت غربت بڑھ رہی ہے، جو لنگر خانوں سے دور نہیں ہو سکتی،اور بے صبرے عوام پوچھتے ہیں کہ تیرہ ماہ میں اگر کوئی انقلاب نہیں آ سکتا تو نہ آئے،سمت کا تعین تو ہو سکتا ہے کیا ہم نے ایسا کرنے میں کامیابی حاصل کر لی؟ بظاہر تو اس کا جواب نفی میں ہے ایسے میں عوام کو بے صبرے کہنا ان کے لئے کوئی اچھا سرٹیفکیٹ نہیں۔

(Visited 39 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں