اچھا سوچو ! اچھا بولو

اچھا سوچو ! اچھا بولو

ہم بچپن سے سنتے آ رہے ہیں کہ اپنی سوچ ہمیشہ صاف رکھنی چاہیئے ، ہمیشہ اچھا سوچنا اور اچھا بولنا چاہیئے لیکن اس کے باوجود ہم سوچ کر نہیں بولتے بلکہ جو منہ میں آتا ہے بول دیتے ہیں ہم نہیں سوچتے کہ ہماری وجہ سے اگلے کی دل آزارای ہو رہی یا نہیں ہم نہیں سوچتے ہماری باتوں کا اگلے پر کیا اثر پڑ رہا ہے ۔

ہم بولنے سے پہلے نہیں سوچتے ، ہم نہیں سوچتے اور بعض اوقات ہماری باتیں اگلے انسان کے دل میں تیر کی طرح لگ رہی ہوتی ہیں تلوار کی طرح اسکا سینہ چیر رہی ہوتی ہیں اور ہم نہ تو اگلے کا درد دیکھ پاتے ہیں اور نہ اسکی تکلیف محسوس کر پاتے ہیں بس اپنی دھن میں بولتے ہیں اور بولتے ہی چلے جاتے ہیں ۔

بعض اوقات ہماری کہی معمولی سی بات اگلے انسان پر صدیوں کا بوجھ چھوڑ جاتی ہے ۔ اسی لیے اسلام نے بھی حکم دیا ہے کہ اچھا بولو اور اچھا سوچو ۔ جب آپ اچھا سوچو گے اپنی سوچ پاک صاف رکھو گے تو یہ یقینی بات ہے کہ آپ کے الفاظ خود ہی پاک صاف ہو جائیں گے ۔

اسی حوالے سے ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ
” ناپ تول کر الفاظ ادا کرو کبھی یہ نہ بولو کہ
1 میں کامیاب نہیں ہوں گا۔
2 میری زندگی فضول ہے ۔
3 میں کسی کام کا نہیں ۔
4 میں کچھ کر نہیں سکتا ۔
وغیرہ وغیرہ

یہی وہ الفاظ ہیں جو انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں ۔ جب انسان ایسا سوچنے لگ جاتا ہے تو وہ واقعی کچھ کرنے کے قابل نہیں رہتا ۔

ماہر نفسیات کا یہ بھی کہنا ہے کہ

” ہمارا دماغ مذاق پسند نہیں کرتا ہم جو سوچتے ہیں وہ اسی کی پیروی کرتا ہے ۔ ہماری سوچ کو دیکھ کر ہمارا دماغ کام کرتا ہے ۔ ہم جو کہتے ہیں جو سوچتے ہیں ہمارا دماغ اسی کے مطابق کام کرتا چلا جاتا ہے ”

اسلام نے مایوسی کو گناہ قرار دیا ہے اور یہ باتیں سوچنا اور بولنا کہ ہم ناکارہ ہیں ، کچھ نہیں کر سکتے ، یہ تو میرے بس کا کام نہیں وغیرہ وغیرہ صرف مایوسی کی باتیں ہیں جو انسان کو ناکارہ بنا دیتی ہیں ورنہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کسی بھی انسان کو ناکارہ پیدا نہیں فرمایا بلکہ اس نے تو دنیا میں کوئی بھی چیز ناکارہ نہیں بنائی ہر چیز کا کوئی نا کوئی کام ہے کوئی نا کوئی مقصد ہے اس دنیا میں کوئی بھی چیز فضول نہیں بنائی گئی ۔

مقام ابراہیم کیا ہے؟

ایک مکھی جو سننے میں بالکل ایک عام سی مخلوق ہے جسے ہم ہمیشہ ناکارہ اور ادنی سمجھتے ہیں ایک مرتبہ چینیوں نے اپنے ملک چین سے تمام مکھیاں ختم کر دی تھیں مروا دی تھی تو وہاں کسی بیماری نے حملہ کر دیا تب مجبور ہو کر انہوں نے کسی بیرون ملک سے مکھیاں منگوائیں ۔ یہ جان کر یقینًا آپکو حیرت ہوئی ہو گی ۔ سوچیں جب وہ ادنی سی ناکارہ سی مکھی اتنی اہم ہے تو انسان تو پھر اشرف المخلوقات ہے وہ کیسے ناکارہ ہو سکتا ہے ۔۔۔۔ ؟

بس انسان وہ بن جاتا ہے جو وہ سوچتا ہے اور جس کے لیئے محنت اور اللہ سے دعا کرتا ہے ۔ ہمیں ہمیشہ اللہ پاک پر یقین اور خود پر یقین رکھنا چاہیئے اور اپنی سوچ اعلی رکھنی چاہیئے صاف رکھنی چاہیئے ۔ ہمیں اپنی قابلیت پر بھروسہ ہونا چاہیئے ۔ اللہ تعالی نے ہر انسان میں خوبیاں رکھی ہیں بس اپنی اچھی سوچ سے انہیں تلاش کرنا ہمارا کام ہے ۔ دوسروں پر بحث کرنا اور خواہ مخواہ کی ٹینشن پالنا چھوڑ دیں ۔ اگر آپ اچھی سوچ کے مالک ہیں اور آپکی بول چال اور رہن سہن اچھا ہے تو آپ یقین جانیں آپ کامیاب انسان ہیں ۔

زونیرہ شبیر ( زونی )

(Visited 153 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں