کیا ڈارک چاکلیٹ آپ کو بہتر محبوب بناتی ہے؟

ڈارک چاکلیٹ

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ گہرے رنگ کی چاکلیٹ کھانے سے وہی احساسات پیدا ہوتے ہیں جو آغازِ محبت میں کوئی شخص محسوس کرتا ہے، کیونکہ اس چاکلیٹ میں ‘فینائیل تھیلامائین’ نامی کیمیکل ہوتا ہے جو بے انتہا خوشی کا احساس پیدا کرتا ہے اور یہ کیمیکل محبت کرنے والوں کے محبت کے اوائل کے دنوں میں ان کے جسم میں پیدا ہوتا ہے۔

فینائیل تھیلامائین سے دماغ کے خوشی محسوس کرنے والے حصے میں ڈوپامائین پیدا ہوتی ہے۔ اس چاکلیٹ میں فینائیل تھیلامائین کی بہت ہی قلیل سی مقدار ہوتی ہے، اسی لیے اس بات پر شک کیا جاتا ہے کہ جب یہ کھائی جاتی ہے تو اس کا کوئی خاص اثر ہوتا ہے۔ کہا تو یہ بھی جاتا ہے کہ ناریل سے حاصل ہونے والے کوکو سے خون کے بہاؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔

لہٰذا اب یہ سمجھنا چاہیے کہ اس چاکلیٹ اور قوتِ باہ کا آپس میں تعلق کب بنا؟ 16ویں صدی کے ہسپانوی بحری سیاح، ہرنان کورٹیز جس کے متعلق کہا جاتا ہے وہ پہلا یورپی تھا جس نے چاکلیٹ کو دریافت کیا تھا، اس نے ہسپانیہ کی بادشاہ کارلوس اول کو لکھا تھا کہ اس نے جنوبی امریکہ کی قدیم تہذیب ‘مایا’ کے لوگوں کو اس چاکلیٹ کو پیتے ہوئے دیکھا ہے جس سے ان کی ‘قوت مزاحمت میں اضافہ ہوتا ہے اور تھکان میں کمی پیدا ہوتی ہے۔’

چاکلیٹ کھلی پڑی رہے تو سفید کیوں ہو جاتی ہے ؟

شاید ہسپانویوں نے چاکلیٹ سے وہ طبی فائدے منسوب کر دیے ہیں جو خود ‘مایا’ تہذیب کے لوگوں نے بھی نہیں جوڑے تھے، اور پھر ایسے شواہد بھی نہیں ہیں کہ اس چاکلیٹ کا قوتِ باہ میں اضافے سے کوئی تعلق بنتا ہے۔

لحمیاتی خوراک یا ٹرِپٹوفین کے دیگر ذرائع میں انڈے، مرغیاں، ساگ، چاروں مغز، بادام وغیرہ اور سویا سے بنائی گئی مصنوعات بھی شامل ہیں۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں