گلگت خان

مائی نانکی

شہباز خان نے ایک دن اپنے ملازم جہانگیر کو جو اُس کے ہوٹل میں اندر باہر کا کام کرتا تھا اُس کی سست روی سے تنگ آ کر برطرف کر دیا۔ اصل میں وہ سست رو نہیں تھا۔ اس قدر تیز تھا کہ اُس کی ہر حرکت شہباز خان کو غیر متحرک معلوم ہوتی تھی۔ شہباز خان نے اس کو مہینے کی تنخواہ دی۔ جہانگیر نے اس کو سلام کیا اور ٹکٹ کٹا کر سیدھا بلوچستان چلا گیا جہاں کوئلے کی کانیں نکل رہی تھیں۔ اُس کے اور کئی دوست وہیں چلے گئے تھے۔ لیکن اُس نے گلگت اپنے بھائی حمزہ خان کو خط لکھا کہ وہ شہباز خان کے یہاں ملازمت کر لے کیونکہ اُسے اپنا یہ آقا پسند تھا۔ ایک دن حمزہ خان ٗ شہباز خان کے ہوٹل میں آیا اور ایک کارڈ دکھا کر اس نے کہا

’’خوام ملازمت چاہتا ہے۔ امارے بھائی نے لکھا ہے، تم اچھا اور نیک آدمی ہے۔ خوام بھی اچھا اور نیک ہے۔ تم کتنا پیسا دے گا‘‘

شہباز خان نے حمزہ خان کی طرف دیکھا۔ وہ جہانگیر کا بھائی کسی لحاظ سے بھی دکھائی نہیں دیتا تھا۔ ناٹا سا قد۔ ناک چوڑی چپٹی۔ نہایت بد شکل۔ شہباز خان نے اسے ایک نظر دیکھ کر اور جہانگیر کا خط پڑھ کر سوچا کہ اس کو نکال باہر کرے۔ مگر آدمی نیک تھا اس نے کسی سائل کو خالی نہیں جانے دیا تھا۔ حمزہ خان کو چنانچہ اس نے پندرہ روپے ماہوار پر ملازم رکھ لیا اور یہ ہدایت کر دی کہ جو کام اُس کے سپرد کیا جائے ایمانداری سے کرے۔ حمزہ خان نے اپنے بد نما ہونٹوں سے مسکراہٹ پیدا کرتے ہوئے شہباز خان کو یقین دلایا

’’خان بادشاہ۔ ام تم کو کبھی تنگ نہیں کرے گا۔ جو کہے گا مانے گا‘‘

شہباز خان یہ سُن کر خوش ہو گیا۔ حمزہ خان نے شروع شروع میں کچھ اتنا اچھا کام نہ کیا لیکن تھوڑے عرصے میں وہ سب کچھ سیکھ گیا۔ چائے کیسے بنائی جاتی ہے۔ شکر کے ساتھ گڑ کتنا ڈالا جاتا ہے۔ کوئلے والیوں سے کوئلے کیسے حاصل کیے جاتے ہیں اور مختلف گاہکوں کے ساتھ کس قسم کا سلوک روا رکھنا چاہیے۔ یہ اس نے سیکھ لیا۔ اس میں صرف ایک کمی تھی کہ وہ بے حد بد شکل تھا۔ بد تمیز بھی کسی حد تک تھا۔ اس لیے کہ اس کی شکل صورت دیکھ کر شہباز خان کے ہوٹل میں آنے جانے والے کچھ گھبرا سے جاتے۔ مگر جب گاہک آہستہ آہستہ اس کی بد صورتی سے مانوس ہو گئے تو انھوں نے اس کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیا۔ بلکہ بعض لوگ تو اس سے دلچسپی لینے لگے اس لیے کہ وہ کافی دلچسپ چیز تھا۔ مگر اس دلچسپی سے حمزہ خان کو تسکین نہیں ہوتی تھی۔ وہ یہ سمجھتا تھا کہ محض ہنسی مذاق کی خاطر یہ لوگ جو ہوٹل میں چند گھنٹے گزارنے آتے ہیں اس سے دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں۔ یوں حمزہ خان گلگت خان کے نام سے مشہور ہو گیا تھا اس لیے کہ وہ کافی دیر گلگت میں رہا تھا اور اس ریاست کا ذکر بار بار کیا کرتا تھا۔ اس لیے ہوٹل میں آنے جانے والوں نے اس کا نام گلگت خان رکھ دیا، جس پر حمزہ خان کو اعتراض نہیں تھا۔ حمزہ کے کیا معنی ہوتے ہیں، اس کو معلوم نہیں تھا بلکہ گلگت کا مطلب وہ بخوبی سمجھتا تھا۔ شہباز خان کے ہوٹل میں آئے اس کے قریب قریب ایک برس ہو گیا۔ اس دوران میں اس نے محسوس کیا کہ اس کا مالک شہباز خان اس کی شکل صورت سے متنفر ہے یہ احساس اُسے کھائے جاتا تھا۔ ایک دن اُس نے ہوٹل کے باہر کتے کا پلا دیکھا جو اس سے بھی کہیں زیادہ بد صورت تھا۔ اُس کو اُٹھا کر وہ اپنی کوٹھری میں لے آیا جو اسے ہوٹل کی بالائی منزل پر رہنے سہنے کے لیے دی گئی تھی۔ یہ اتنی چھوٹی تھی کہ اگر کتے کا ایک اور پلا آجاتا تو وہ اس میں گلگت خان کے ساتھ سمانہ سکتا۔ اس کتے کے پلے کی ٹانگیں ٹیڑھی میڑھی تھیں۔ تھوتھنی بڑی واہیات تھی۔ عجیب بات ہے کہ گلگت خان کی ٹانگیں۔ بلکہ یوں کہیے کہ اس کا نچلا دھڑ اس کے اوپر کے جسمانی حصے کے مقابلے میں بہت چھوٹا تھا۔ بالکل اُس کے مانند یہ پلا بھی مسخ شدہ صورت کا تھا۔ گلگت خان اس سے بہت پیار کرتا۔ شہباز خان نے اس سے کئی مرتبہ کہا کہ میں اس کتے کے بچے کو گولی مار دُوں گا۔ مگر گلگت خان اس کو کسی بھی حالت میں اپنے سے جدا کرنے پر راضی نہیں تھا۔ اُس نے شروع شروع میں تو اپنے آقا سے کچھ نہ کہا۔ خاموشی سے اس کی باتیں سنتا رہا۔ آخر ایک روز اس سے صاف لفظوں میں اُس سے کہہ دیا

’’خو، تم۔ ہوٹل کے مالک ہو۔ میرے دوست ٹن ٹن کے مالک نہیں ہو‘‘

شہباز خان یہ سُن کر چپ ہو گیا۔ گلگت خان بڑا محنتی تھا۔ صبح پانچ بجے اُٹھتا دو انگیٹھیاں سُلگاتا سامنے والے نل سے پانی بھرتا اور پھر گاہکوں کی خدمت میں مصروف ہو جاتا۔ اس کا ٹن ٹن مہینوں بعد بڑا ہو گیا۔ وہ اس کے ساتھ کوٹھری میں سوتا تھا جو ہوٹل کی بالائی منزل پر تھی۔ سردیاں تھیں۔ اس لیے گلگت خان کو اپنے بستر میں اس کی موجودگی بُری نہیں معلوم ہوتی تھی۔ بلکہ وہ خوش تھا کہ وہ اس سے اس قدر پیار کرتا ہے کہ رات کو بھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑتا۔ ٹن ٹن نام گلگت خان کے ایک خاص گاہک نے رکھا تھا، جو اُس کی انتہائی بد صورتی کے باوجود اس سے دلچسپی لیتا۔ یہ نام اس لیے رکھا گیا کہ کتے کا وہ پلا جسے وہ سڑک پر سے اُٹھا کر اپنے پاس لے آیا تھا اور جس کی گردن میں اُس نے اپنی تنخواہ میں سے پیسے بچا کر ایک ایسا پٹا ڈالا تھا جس میں گھنگرو بندھے ہوئے تھے۔ اس خاص گاہک نے جو غالباً کسی روزنامے کا کالم نویس تھا ان گھنگروؤں کی آواز سُن کر اس کا نام ٹن ٹن رکھ دیا۔ ٹن ٹن جب بڑا ہوا تو اس کی ٹانگیں اور بھی زیادہ چھوٹی ہو گئیں۔ گلگت خان کی بھی یہی حالت تھی۔ اس کی ٹانگیں بھی دن بہ دن مختصر ہو رہی تھیں۔ اُوپر کا دھڑ مناسب و موزوں انداز میں بڑھ گیا تھا۔ شہباز خان کو گلگت خان کا یہ حلیہ پسند نہیں تھا مگر وہ محنتی تھا۔ گدھے کی مانند کام کرتا۔ صبح پانچ بجے سے لے کر رات کے گیارہ بارہ بجے تک ہوٹل میں رہتا۔ ایک گھڑی کے لیے بھی آرام نہ کرتا۔ لیکن اُس دوران میں وہ تین چار مرتبہ اوپر اپنی کوٹھڑی میں ضرور جاتا اور اپنے پیارے کتے کی جواب بڑا ہو گیا تھا دیکھ بھال کرتا تھا اس کو ہوٹل کا بچا کچھا کھانا دیتا۔ پانی پلاتا اور پیار کر کے فوراً واپس چلا آتا۔ ایک دن اس کا ٹن ٹن بیمار ہو گیا۔ ہوٹل میں اکثر میڈیکل اسٹوڈنٹ آیا کرتے تھے کیونکہ اُن کا کالج نزدیک ہی تھا۔ گلگت خان نے ان میں سے ایک کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اگر پیٹ کی شکایت ہو تو مریض کو بٹیر یا مرغ کا گوشت کھلانا چاہیے۔ فاقہ دینا سخت حماقت ہے۔ اس نے اپنے ٹن ٹن کو صبح سے کوئی چیز کھانے کو نہیں دی تھی۔ اس لیے کہ اس کو بد ہضمی تھی۔ مگر جب اس نے اس میڈیکل اسٹوڈنٹس کی بات سُنی تو اس نے اِدھر اُدھر کوئی مرغ تلاش کرنا شروع کیا مگر نہ ملا۔ محلہ ہی کچھ ایسا تھا جس میں کوئی مُرغ مرغیاں نہیں پالتا تھا۔ شہباز خان کو بٹیر بازی کا شوق تھا۔ اس کے پاس ایک بٹیر تھا جسے وہ اپنی جان سے زیادہ عزیز سمجھتا تھا۔ گلگت خان نے تنکوں کا بنا ہوا پنجرہ کھولا اور ہاتھ ڈال کر یہ بٹیر پکڑی۔ کلمہ پڑھ کر اُس کو ذبح کیا اور اپنے ٹن ٹن کو کھلا دیا۔ شہباز خان نے جب پنجرہ خالی دیکھا تو بہت پریشان ہوا۔ اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ بٹیر اس میں سے کیسے اڑ گئی۔ وہ تو اس کے اشاروں پر چلتی تھی۔ کئی پالیاں اس نے بڑی شان سے جیتی تھیں۔ اس نے گلگت خان سے پوچھا تو اس نے کہا

loading...

’’خو مجھے کیا مالوم۔ تمہارا بٹیر کدھر گیا۔ بھاگ گیا ہو گا کدھر‘‘

شہباز خان نے جب زیادہ جستجو کی تو اُس نے دیکھا کہ اس کے ہوٹل کے سامنے جہاں بدرو تھی تھوڑا سا خون اور بچے ہوئے پر پڑے ہیں۔ یہ بلا شبہ اس کی بٹیر کے تھے وہ سر پیٹ کر رہ گیا اُس نے سوچا کوئی ظالم اس کو بھون کر کھا گیا ہے۔ بٹیر کے پر اُس کے جانے پہچانے تھے۔ اس نے ان کو بڑے پیار سے اکٹھا کیا اور اپنے ہوٹل کے پچھواڑے جہاں کھلا میدان تھا، چھوٹا سا گڑھا کھود کر انھیں دفن کر دیا، فاتحہ پڑھی۔ اس کے بعد اُس نے کئی غریبوں کو اپنے ہوٹل سے مُفت کھانا بھی کھلایا تاکہ مرحوم کی رُوح کو ثواب پہنچے۔ جب شہباز خان سے کوئی اس کی بٹیر کے متعلق پوچھا تو وہ کہتا

’’شہید ہو گیا ہے‘‘

گلگت خان یہ سنتا اور اپنے کان سمیٹے خاموش کام میں مشغول رہتا۔ اس کا ٹن ٹن اچھا ہو گیا۔ اس کو جو شکایت تھی رفع ہو گئی۔ گلگت خان بہت خوش تھا۔ اُس نے اپنے پیارے کتے کی صحت یابی پر دو بھکاریوں کو ہوٹل سے کھانا کھلایا۔ شہباز خان نے پوچھا کہ تم نے ان سے دام وصول کیوں نہیں کیے تو اس نے کہا

’’کبھی کبھی خیرات بھی دے دینا چاہیے خان‘‘

یہ سُن کر شہباز خان چپ ہو گیا۔ ایک دن مینا کا بچہ کہیں سے اُڑتا اُڑتا گلگت خان کے پاس آ گرا جب کہ وہ کالج کے کسی لڑکے کے لیے ناشتہ تیار کر کے لے جا رہا تھا اُس نے ناشتے کی ٹرے کو ایک طرف رکھا اور مینا کے بچے کو جو بے حد سہما ہوا تھا پکڑ کر اُس پنجرے میں ڈال دیا جس میں اس کے مالک شہباز خان کی بٹیر ہوتی تھی۔ مینا کو اُس نے سوا مہینے تک پالا پوسا۔ خاصی موٹی ہو گئی۔ خوب چہکتی تھی۔ ایک دن اس کا ٹن ٹن آگیا۔ اس نے مینا کو دیکھا تو بے تاب ہو گیا۔ چاہتا تھا کہ کسی طرح اس تک رسائی ہو جائے اور وہ اُسے چبا ڈالے۔ گلگت خان نے جب دیکھا کہ پنجرہ اوپر کھونٹی کے ساتھ ٹنگا ہے جہاں اس کا ٹن ٹن نہیں پہنچ سکتا۔ بڑی حسرت بھری نظروں سے اُسے دیکھ رہا ہے تو اُس نے پنجرے میں سے مینا کو نکالا۔ اس کے پر نوچے۔ گردن مروڑی اور اپنے عزیز کتے کے سپرد کر دی۔ ٹن ٹن نے اس بے بال و پر پرندے کی لاش کو دو تین مرتبہ سونگھا بڑے زور کی ایک چھینک اس کے نتھوں سے باہر نکلی اور وہاں سے دوڑ گیا۔ گلگت خان کو بڑا صدمہ ہوا۔ اُسی دن اُس کو کالج کی وہ دو لڑکیاں جو باقاعدہ چائے پینے کے لیے آتی تھیں اور جن کا وہ خاص طور پر خیال رکھتا تھا آئیں۔ پہلے وہ اس سے ہنس ہنس کے باتیں کیا کرتی تھیں۔ مگر اب انھیں جانے کیا ہو گیا کہ وہ اس سے خفا خفا نظر آتی تھیں۔ ایک نے جو گلگت خان کو بہت پسند تھی اُس سے پوچھا

’’تم نے مینا کیوں ماری؟‘‘

گلگت خان ایک لحظے کے لیے بوکھلا سا گیا۔ لیکن سنبھل کر اُس نے جواب دیا

’’، خو بی بی جی۔ ام نے اپنے کتے کو ڈالا تھا‘‘

’’خو حرام تخم نے اس کو سُونگھا اور چھوڑ دیا‘‘

لڑکی نے کہا

’’تو اس کو مارنے سے کیا فائدہ ہوا۔ تم نے پہلے بھی اس کو خان صاحب کی بٹیر ذبح کر کے دی تھی۔ کیا اس نے کھائی تھی؟‘‘

گلگت خان نے بڑے فخر سے جواب دیا

’’کھائی تھی۔ اس کی ہڈیاں بھی‘‘

شہباز خان پاس کھڑا تھا۔ اُس نے جب یہ سُنا تو بڑے زور کی ایک دُھول اُس کی گردن پر جمائی

’’تخم حرام۔ تم نے اب مانا ہے۔ پہلے کیوں انکار کرتا تھا۔ ‘‘

گلگت خان خاموش رہا۔ دونوں لڑکیوں نے قہقہے لگائے۔ گلگت خان کو دھول کا اتنا خیال نہیں تھا لیکن لڑکیوں کے ان قہقہوں نے اس کے دل کو زخمی کر دیا۔ شہباز خان کو بہت غصہ تھا۔ گلگت خان کے دُھول جما کر وہ اس پر برس پڑا۔ جتنی گالیاں اُسے یاد تھیں اپنے نوکر پر صرف کر دیں۔ آخر میں اس سے کہا

’’تم اس ٹن ٹن یا چن چن سے اتنا پیار کیوں کرتا ہے۔ حرام خور۔ وہ بھی کوئی کتا ہے۔ تم سے زیادہ بد شکل ہے۔ اتنا بد شکل کہ اس کو دیکھ کر نفرت پیدا ہوتا ہے‘‘

شہباز خان سے مار کھا کر اور اُس کی غصے کی ساری باتیں سُن کر گلگت خان اوپر اپنی کوٹھری میں گیا۔ اس کے کانوں میں کالج کی دونوں لڑکیوں کے قہقہے گونج رہے تھے۔ کوٹھڑی کے ایک کونے میں اس کا ٹن ٹن لیٹا تھا۔ کچھ عجیب انداز سے ٹانگیں دیوار کے ساتھ لگائے۔ جو اس قدر ٹیڑھی تھیں کہ اور زیادہ ٹیڑھی ہو ہی نہیں سکتی تھیں۔ اس نے کچھ دیر غور کیا۔ اس کے بعد اپنا کمالی والا چاقو نکالا اور ٹن ٹن کی طرف بڑھا مگر اسے کوئی خیال آیا۔ کمانی والا چاقو بند کر کے اپنی جیب میں رکھا اور کتے کو بڑے پیار سے بُلا کر اپنے ساتھ لے گیا۔ جب گلگت خان اور ٹن ٹن ریلوے لائن کے پاس پہنچے تو گاڑی آرہی تھی۔ گلگت خان نے اپنے پیارے کتے کو حکم دیا کہ وہ پٹڑی کے عین درمیان کھڑا ہو جائے۔ اس حیوان نے اپنے آقا کے حکم کی تعمیل کی۔ گاڑی پوری رفتار سے آرہی تھی۔ ٹن ٹن پٹڑی میں کھڑا گلگت خان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ایسی نگاہوں سے جن سے وفاداری ٹپک رہی تھی۔ گلگت خان نے ایک نظر اپنی طرف دیکھا اس نے محسوس کیا کہ اُس کا کتا اس سے کہیں زیادہ خوش شکل ہے۔ گاڑی قریب آئی تو اس نے ٹن ٹن کو دھکا دے کر پٹڑی سے باہر گرادیا اور خود اس کی جھپٹ میں آگیا۔ اُس کا بالکل قیمہ ہو گیا۔ کتے نے گوشت کے اس ڈھیر کو سُونگھا اور زور زور سے بڑی دردناک آواز میں رونے لگا۔

سعادت حسن منٹو

(Visited 13 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں